کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ علاقہ جات میں تعلیمی نظام کا کوئی پرسان حال نہیں ۔جہاں عملہ کی کمی سے بچے ووالدین پریشان ہیں وہیں سرکاری سکولی عمارتوں کی حالت خستہ ہے توکہیں عمارتیں ہی موجود نہیں۔ ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ علاقہ ناگھبٹھنہ کے ہائی سکول کی حالت اس قدر خستہ ہے کہ عمارت استعمال کے قابل نہیں لیکن بچے اس میں ہی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جہاں علاقہ میں سکول پراناہے وہیں اس سکول میں علاقے کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن اسکول کی عمارت استعمال کے قابل نہیں ہے۔ غلام محمدنامی شہری نے بتایا کہ سکول کی پرانی عمارت استعمال کے قابل نہیں ،نئی عمارت اگرچہ بنائی گئی ہے لیکن اسے بھی مکمل نہیں کیا گیا اور اس کا کام ادھوراچھوڑا گیا ہے جبکہ دوسری عمارت میں دراڈیں پڑی ہیںاور وہ بھی قابل استعمال نہیں ہے۔اگرچہ اس وقت کرونا کے سبب اسکول بند ہے لیکن جونہی اسکولوں کو کھولا جائے گا تو کسی بھی وقت حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔انھوں نے انتظامیہ سے سکول میں تدریسی عملہ لگانے اور پرانی عمارت کو جلدازجلدمکمل کرکے اسے استعمال کے قابل بنانے کی مانگ کی۔سجادحسین نے بتایا کہ انھوں نے آج تک ہر ضلع ترقیاتی کمشنر کے پاس جاکر اپنی دکھ بھرئی کہانی سنائی لیکن انھیں صرف یقین دلایا گیا تاہم آج تک عمل نہ ہوا۔ انہوںنے بتایاکہ اس سکول میں علاقہ کے سبھی لوگوں نے تعلیم حاصل کی، اگرچہ اسے ہائی سکول کا درجہ دیا گیا لیکن بنیادی سہولیات نہیں دی گئیں۔اس وقت دو کمروں میں دس جماعتوں کے سینکڑوں بچوں کو بٹھایاجاتا ہے جبکہ تدریسی عملہ و دیگرسٹاف بھی انہی کمروں میں بیٹھنے پر مجبور ہے۔ سکول کیلئے 22 اسامیاں منظور کی گئی ہیں تاہم محض 8 سے 10 ہی تعینات ہیں۔ انھوں نے ضلع انتظامیہ و جموں کشمیر انتظامیہ سے اپیل کی کہ علا قہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔