بانہال // ضلع رام بن کی تحصیل راج گڑھ کے گنوت علاقے میں جہاں تمام لوگوں کو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے وہیں گنوت کے علاقے میں گوجروں کی ایک بڑی آبادی کو تعمیر وترقی اور فلاح و بہبود کی سکیموں کے معاملے میں باقی علاقوں کے مقابلے میں پورے ضلع رام بن میں مسلسل نظر انداز ہی کیا گیا ہے۔ گذشتہ روز گنوت کے بھیری ، ننگل علاقے سے بنیادی سہولیات سے محروم تنگ آئے گوجر طبقے کے لوگوں نے علاقے میں تعمیر ترقی ، بند پڑے انگن واڑی کے سینٹر ، منریگا سکیم کے تحت کام فراہم کرنے اور بقایا پڑی اجرتوں کی بقایا رقومات کو واگذار کرنے کے لیکر اپنا احتجاج درج کیا لیکن گنوت کے دور افتادہ علاقے میں انکی اواز سننے والا کوئی نہیں اور انکی صدائیں پہاڑوں سے ٹکرانے کے بعد وہیں دم توڑ گئیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں انسانوں کیلئے چلنے پھرنے کے راستوں کا برا حال ہے اور سکول جانے والے بچوں کیلئے یہ راستے خطرناک لیکن ان کی تعمیر کیلئے کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ گوجر بکروال طبقے کے نام چلائی جارہی فلاح و بہبود اور تعمیر و وترقی کی سکیموں کا زمینی سطح پر کوئی وجود ہی نہیں ہے اورو ادی چناب کے دیگر علاقوں کی طرح ضلع رام بن میں بھی گوجروں کی بیشتر آبادیاں اور علاقے تعمیرترقی کے مقابلے میں باقی علاقوں سے بہت پیچھے ہیں اور گوجر بکروال سمیت دیگر درجہ فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ضلع کے غریب لوگ کسمپرسی کی زندگی جی رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھیری ننگل علاقے میں قائم آنگن واڑی سینٹر مسلسل بند ہے اور لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آنگن واڑی کے راشن کی اوپر سے ہی بندر بانٹ کی جاتی ہے اور یہاں کے بچوں کو کچھ نہیں ملتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کئی سال پہلے منریگا کے تحت جاب کارڈ ہولڈروں نے کام کئے ہیں مگر رقومات ابھی تک نہیں ملی ہیں جبکہ اب کئی سال سے کام بھی نہیں ہورہیہیں اور علاقے کے غریبوں کو دو وقت کی روٹی کیلئے سخت جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے اور نوبت فاقہ کشی پر پہنچتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے سولر لائٹوں کی فراہمی کو لیکر محکمہ دیہی ترقیات کے پاس فی کس 2300 روپئے کی پیشگی رقم جمع کی گئی ہے لیکن ابھی تک سولر لائٹوں کی تقسیم عمل میں نہیں لائی گئی ہے اور ناہی گوجر بستی کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ممبر اسمبلی رام بن اور ضلع حکام سے اپیل کی ہے کہ رام بن کے علاقہ گنوت میں بھیری ننگل کی گوجر آبادی کی طرف خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔