پیر اقبال رشید
شہر کی چکاچوند روشنیوں میں ہر چہرہ کچھ نہ کچھ تلاش کر رہا تھا۔ انہی چہروں میں ایک چہرہ حریف کا بھی تھا، ایک ایسا نوجوان تھا جس کی آنکھوں میں کبھی خواب جگمگاتے تھے۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھا، اساتذہ کی امید اور والدین کا فخر۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ کل وہ ایک بڑا ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا اور لوگوں کے کام آئےگا۔
مگر زندگی ہمیشہ سیدھی راہوں پر نہیں چلتی۔
جب حریف شہر آیا تو اس کے لئے سب کچھ نیا تھا، آزادی، دوستیاں اور رنگین محفلیں۔ شروع میں وہ صرف دیکھتا رہا، پھر آہستہ آہستہ ان محفلوں کا حصہ بن گیا۔ وہ لوگ، جنہیں وہ دوست سمجھتا تھا، دراصل اس کی زندگی کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ نشے کی ایک عادت نے اس کی دنیا بدل دی۔
پہلے پہل وہ صرف تھکان دور کرنے کے لیے نشہ کرتا، پھر یہ عادت ضرورت بن گئی اور آخرکار اس کی زندگی کا مقصد ہی بدل گیا۔ کتابیں، جو کبھی اس کے ہاتھوں کی زینت تھیں، اب گرد میں اٹی رہتی تھیں۔ اس کے خواب، جو کبھی اس کی آنکھوں میں چمکتے تھے، اب مدھم ہو چکے تھے۔
ایک دن وہ آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے خود کو دیکھا کہ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، چہرے پر پژمردگی اور دل میں ایک عجیب سا خالی پن۔ اسے یاد آیا وہ وقت جب اس کی ماں اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا کرتی تھی، جب اس کے والد اس پر فخر کرتے تھے۔
’’میں کہاں کھو گیا؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا۔
مگر اب شاید بہت دیر ہو چکی تھی۔
شہر کی بھیڑ میں حریف کا وجود ایک گمشدہ کہانی بن چکا تھا، ایک ایسا خواب جو کبھی حقیقت بن سکتا تھا مگر غلط راستوں کی نذر ہو گیا۔
یہ کہانی صرف حریف کی نہیں، بلکہ ہر اس نوجوان کی ہے جو وقتی خوشیوں کے پیچھے اپنی اصل پہچان کھو دیتا ہے۔ زندگی اب بھی موقع دیتی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ انسان خود کو پہچانے اور صحیح راستہ چن لے۔
���
[email protected]