۔ 7دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت، اے سی آر گاندربل انکوائری افسر مقرر
راجہ ارشاد
گاندربل // لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو گاندربل کے آرہامہ علاقے میں ایک مبینہ انکائونٹر کی ایک وقتی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا جس میں ایک مقامی نوجوان کی موت ہو گئی تھی۔ایکس پر ایک پوسٹ میں، ایل جی سنہا نے کہا: “میں نے آرہامہ، گاندربل واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا ہے۔ انکوائری واقعے سے متعلق تمام پہلوئوں کی جانچ کرے گی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔” محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکاری مواصلت کے مطابق، ضلع مجسٹریٹ، گاندربل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان حالات کی “مکمل اور غیر جانبدارانہ” تحقیقات کریں جن کے نتیجے میں چونٹھ ولی وار لار کے رہائشی راشد احمد مغل ولد گل زمان مغل کی موت واقع ہوئی۔ ضلع مجسٹریٹ کے نام خط میں کہا گیا ہے’’اس معاملے کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس کے مطابق، آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ مجسٹریل انکوائری کرائی جائے تاکہ ہلاکت کے حقائق اور حالات کا پتہ لگایا جا سکے۔
انکوائری سات (07) دنوں کی مدت میں مکمل کی جائے گی اور رپورٹ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو پیش کی جائے گی۔دریں اثنا ء ضلع مجسٹریٹ( ضلع ترقیاتی کمشنر) گاندربل جتن کشور نے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے اسسٹنٹ کمشنر ACRگاندربل صلاح الدین کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر نے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ عام لوگوں کو مطلع کیا ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں جانکاری یا کسی بھی قسم کی معلومات رکھنے والے انکے دفتر کیساتھ دو دن کے اندر رابطہ قائک کریں۔فوج نے بدھ کے روز کہا کہ ایک “مقامی دہشت گرد”، ضلع کے لار علاقے سے تعلق رکھنے والے راشد احمد مغل کو آرہامہ علاقے میں رات بھر ہونے والے انکائونٹر میں مارا گیا۔ تاہم، اس کے اہل خانہ نے کہا کہ وہ بے قصور ہیں اور انہوں نے ایف آئی آر کے ساتھ ساتھ انکوائری کا بھی مطالبہ کیا۔جمعرات کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے واقعہ کی شفاف اور وقتی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حقائق کو منظر عام پر لایا جائے۔ سی ایم عمر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “میرا ماننا ہے کہ خاندان کے دعوے کو ہاتھ سے باہر نہیں نکالنا چاہیے۔ کم از کم اس انکانٹر کی شفاف اور وقتی جانچ کی ضرورت ہے جس میں حقائق کو عام کیا جائے۔” سی ایم عمر نے X پر ایک پوسٹ میں کہا، “تحقیقات کے اعلان کو مبہم کرنے یا تاخیر کرنے کی کسی بھی کوشش سے صرف ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔”۔ پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی مبینہ تصادم پر شک کا اظہار کر کے اسکی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ممبر پارلیمان آٖغا سید مہدی نے بھی اسے فرضی انکوائنٹر قرار دیکر اسکی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ راشد احمد مغل ایم کام گریجویٹ تھا اور اپنے ہی گائوں ژونٹھ ولی وار میں معمولی نوعیت کی دکانداری کاکام کرتا تھا۔ وہ لوگوں کو ڈومیسائل، آدھار کارڈ، آیوشمان ہیلتھ کارڈ،پین کارڈ اور مختلف آن لائن خدمات فراہم کرتا تھا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ راشد مغل سماجی کاموں میں بھی پیش پیش رہتا تھا اور گھر گھر جاکر آن لائن سہولیات فراہم کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کرتا تھا۔لوگوں نے بتایا کہ31مارچ صبح 9بجے تک وہ ژونٹھ ولی وار مارکیٹ میں تھا لیکن اسکے بعد اسکا کوئی اپتہ پتہ نہیں چل سکا۔ راشد کے بڑے بھائی اشفاق احمد مغل کو2000 میں ملی ٹینٹوں نے اغوا کر کے ہلاک کیا اور لاش غائب کردی۔2009میں اس وقت کی حکومت نے اہل خانہ کو اس کیس میں ایکس گریشیا ریلیف بھی فراہم کی ہے۔راشد کے بھائی نے میڈیا کو بتایا کہ یکم اپریل کی شام پولیس نے انہیں گاندربل تھانے میں لیا اور اسکے بعد پولیس کنٹرول روم سرینگر لیا گیا جہاں اسے لاش کی پہچان کرنے کو کہا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسکے بھائی کے چہرے پر گولیوں ماری گئی تھیں، جو ناقبل شناخت ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسکے بھائی کے کپڑے بھی تبدیل کئے گئے تھے۔اور بعد میں پولیس نے اسے زچلڈارہ ہندوارہ میں اپنے ساتھ لیا جہاں اسکے بھائی کی لاش دفنادی گئی۔انہوں نے کہا کہ وہ پولیس سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اسکے بھائی کو ہلاک کرنے کی وجہ بتائی جائے۔