بشیر اطہر
وہ بھی زمانہ تھا…..
یہ جملہ قاسم خان کی زبان پر ایسے آتا تھا جیسے کوئی پرانا زخم، جو بھر تو گیا ہو مگر چھونے سے پھر رسنے لگے۔
قاسم خان کے آنگن میں کبھی دھوپ بھی ہنستی تھی۔ دوپہر کے وقت جب بھید کے درخت کی چھاؤں زمین پر بچھ جاتی، تو بچوں کی کلکاریاں دیواروں سے ٹکرا کر پورے محلے میں پھیل جاتیں۔ اس وقت آنگن محض مٹی کا ٹکڑا نہیں ہوتا تھا، وہ ایک دنیا ہوتا تھا……. جہاں قہقہے آزاد گھومتے تھے، جہاں رشتوں پر تالے نہیں لگتے تھے، جہاں دروازے صرف بند ہوتے تھے، بندش نہیں بنتے تھے۔
اس وقت لوگوں نے اونچی دیواریں نہیں بنائی تھیں۔
دیواریں تھیں بھی تو اتنی ہی جتنی سایہ بنانے کے لیے ضروری ہوں، دلوں کو الگ کرنے کے لئے نہیں۔ عورتیں ایک دوسرے کے گھروں میں بے تکلف داخل ہوتیں، نمک، مرچ، آٹا….. سب چیزوں کے ساتھ دکھ سکھ بھی ادھار دیئے جاتے تھے۔ کسی کے گھر سے دھواں نہ اٹھتا تو پڑوس فکر میں پڑ جاتا، نہ کہ خوشی میں۔
لڑائی جھگڑا معیوب سمجھا جاتا تھا۔
اگر دو آدمی اونچی آواز میں بات کر لیتے تو محلے کے بزرگ بیچ میں آ جاتے، جیسے کوئی بڑی قیامت ٹل گئی ہو۔ اس وقت لوگ سیدھے سادے تھے مگر ان کے دل پیچیدہ نہیں تھے۔ محبت ان کے لئے کوئی فلسفہ نہیں تھا، بس ایک عادت تھی…… سانس لینے جیسی، بغیر سوچے سمجھے۔
قاسم خان کو آج بھی یاد ہے وہ رات، جب پورے محلے نے ایک ساتھ شادی کا کھانا کھایا تھا۔ ایک ہی دیگ، ایک ہی دسترخوان، اور مختلف دل…… مگر سب ایک ہی دھڑکن پر۔ اس رات کسی نے نہیں پوچھا تھا کہ کون امیر ہے، کون غریب۔ سب انسان تھے، بس اتنا ہی کافی تھا۔
پھر وقت بدلنے لگا۔
خاموشی نے آہستہ آہستہ جگہ بنائی۔ پہلے باتیں کم ہوئیں، پھر ملاقاتیں۔ اور آخرکار دیواریں اونچی ہونے لگیں۔ اینٹ پر اینٹ رکھی گئی، جیسے دلوں کے درمیان فاصلہ ناپا جا رہا ہو۔ دروازوں پر تالے لگے اور تالوں کے ساتھ شک۔
بھید کے درخت نے بھی رنگ بدلا۔
پہلے وہ رازوں کا محافظ تھا……. ایسا راز جو اعتماد میں دیا جائے اور محفوظ رہے۔ پھر وہی درخت آہستہ آہستہ بھید بانٹنے لگا۔ اس کے پتے سرگوشیوں کی طرح کھڑکھڑاتے اور لوگ ان سرگوشیوں کو سچ سمجھ کر ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے۔ ہر گھر کے اندر ایک چھوٹا سا عدالت خانہ بن گیا…… جہاں الزام پہلے سنا جاتا، صفائی بعد میں۔
اب زمانہ یہ بھی ہے……
قاسم خان اپنے ہی آنگن میں بیٹھا اجنبی لگتا ہے۔ وہی آنگن، مگر اب وہاں ہنسی نہیں اترتی۔ بھید کا درخت اب بھی ہے، مگر اس کا سایہ کسی کو اپنی طرف نہیں بلاتا۔ دیواریں اتنی اونچی ہو چکی ہیں کہ آسمان بھی ٹکڑوں میں دکھائی دیتا ہے۔
اب لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں اس لئے نہیں جاتے کہ حال پوچھیں،
بلکہ اس لئے کہ دیکھ لیں…..
کہ کیا یہ ابھی زندہ ہیں؟
مر کیوں نہیں جاتے؟
یہ سوال اب زبان سے نہیں نکلتا، مگر آنکھوں میں صاف لکھا ہوتا ہے۔
گھر کے اندر بھی دیواریں کھڑی ہو چکی ہیں…… نظر نہ آنے والی، مگر سب سے زیادہ مضبوط۔
ایک ہی کنبے کے لوگ ایک ہی کمرے میں، چار کونوں میں بیٹھے، اپنی اپنی موبائل اسکرین میں قید۔ انگلیاں چلتی ہیں، آنکھیں چمکتی ہیں مگر دل خاموش رہتے ہیں۔ باپ بیٹے کو دیکھ کر مسکراتا نہیں، ماں بیٹی کے آنسو محسوس نہیں کرتی۔ سب ایک دوسرے کے قریب ہیں، مگر فاصلے صدیوں کے ہیں۔
قاسم خان اکثر سوچتا ہے”کیا ہم واقعی ترقی کر گئے ہیں؟
یا بس ایک دوسرے سے چھپنے میں ماہر ہو گئے ہیں؟
ایک دن اس نے آنگن میں کھڑے ہو کر اونچی دیواروں کو دیکھا۔
اسے یوں لگا جیسے یہ دیواریں اینٹوں کی نہیں، خوف کی بنی ہوں…… خوف….ایک دوسرے سے، بات کرنے سے، جڑنے سے۔
اسی لمحے اسے بچوں کی ہنسی سنائی دی…… کہیں بہت دور، شاید کسی یاد میں۔
قاسم خان نے قدم بڑھایا اور بھید کے درخت کے تنے پر ہاتھ رکھا۔
درخت سرد تھا۔
اس نے کان لگایا تو یوں لگا جیسے تنے کے اندر بہت سی آوازیں قید ہوں….. آدھی سچ، آدھی جھوٹ۔
اچانک ایک پتا ٹوٹ کر گرا۔ اس پر کسی نے کچھ لکھا تھا، مگر سیاہی دھندلی تھی۔ قاسم خان نے پڑھنے کی کوشش کی….. الفاظ بدلتے رہے۔ کبھی وہی الزام، کبھی وہی صفائی۔
اسی لمحے پڑوس کے گھر سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ پھر ایک اور۔ پھر ایک اور۔
آنگن میں خاموشی اتنی گہری ہو گئی کہ قاسم خان کو اپنی سانسیں سنائی دینے لگیں۔
وہ جانتا تھا… زمانہ بدل گیا ہے….. مگر یہ بھی جانتا تھا
کہ زمانہ بدلا نہیں کرتا…… ہم بدل جاتے ہیں۔
قاسم خان نے آہستہ سے کہا….. ’’بھید، بس کر دے۔‘‘
درخت ہلا۔
ایک ساتھ بہت سے پتے گرے…… اور ہر پتے پر ایک ہی جملہ لکھا تھا، ایک ہی ہاتھ سے نہیں، مگر ایک ہی نیت سے’’میں بے قصور ہوں۔‘‘
قاسم خان نے نظریں اٹھائیں۔
آنگن خالی تھا۔
دیواریں اپنی جگہ تھیں، دروازے بند تھے…… مگر بھید کا درخت اب دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
یا شاید وہیں تھا……
ہر دل کے اندر۔
���
خانپورہ کھاگ بڈگام ،کشمیر
موبائل نمبر؛7006259067