بانہال//محکمہ جل شکتی سب ڈویژن بانہال کے بزلہ تحصیل کھڑی علاقے میں پینے کے پانی کی قلت سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور پینے کے پانی کے حصول کیلئے مرد و خواتین اور بچوں کو دور مہو نالہ اور بزلہ نالہ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں پانی لینے کیلئے بوتلیں اور دیگر برتن لیکر چھوٹے چھوٹے بچوں کا ایک فوٹو بھی مقامی سوشل میڈیا میں وائرل ہے۔ بزلہ کے مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ اس علاقے میں آنے والی پینے کے پانی کی ایک پائپ سے بزلہ بستی کے کئی گھروں اور فوجی کیمپ کو پانی فراہم کیا جاتا ہے لیکن محکمہ جل شکتی کی عدم توجہی اور یہاں تعینات ملازمین کے اپنے فرض سے برتی جارہی غفلت کی وجہ سے اس پائپ لائن کا بیشتر پانی فوجی کیمپ کو چلا جاتا ہے اور مقامی بستی والوں کو پانی کے حصول کے نیچے نالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی کے ملازمین لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں جبکہ فوجی اہلکار بھی گاوں کے بجائے اپنے کیمپ کو ہی پانی لے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی بزلہ کے کئی وارڈوں میں پینے کا پانی نایاب ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی سالہاسال سے کھڑی، مہو منگت ، بزلہ ترگام کے علاقوں میں پینے کے پانی کی لائنیوں کی تجدید و مرمت کے نام لاکھوں روپئے کی رقم سرکاری خزانوں سے واگذار کی جاتی ہے مگر زمینی سطح پر واٹر سپلائی سکیموں کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور پینے کا قیمتی پانی ٹوٹے پھوٹے نلکوں سے نکل کر ضائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے محکمہ جل شکتی اور ضلع انتظامیہ رامبن سے اس طرف توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ اس سلسلے میں کوشش کے باوجود ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ جل شکتی سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ۔