پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ کی حدِ متارکہ کے قریب آباد گائوں کھڑی کرماڑہ کی ہزاروں عوام کو آئے دن ہندوپاک افواج کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزی کے دوران ہونے والی گولہ باری سے جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔اس سلسلہ میں اس علاقہ کی عوام نے سرکار سے کئی بار مطالبہ کیا ہے کہ اس علاقہ میں گولہ باری سے محفوظ رہنے کے لئے مقامی لوگوں کو حفاظتی بینکر بناکر دیئے جائیں ۔اس ضمن میں اگر چہ ضلع ترقیاتی کمیشنر پونچھ طارق احمد زرگر نے مختلف اسکیموں کی رقومات سے گائوں میں تین پختہ بینکر بنانے کا کام شروع کروایا ہے لیکن وہ بینکر ہزاروں عوام کے لئے ناکافی ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے جہاں یہ بینکر بنائے جارہے ہیں اس علاقہ کی عوام کے مطابق وہاں ہر روز ہندوپاک افواج کے درمیان گولیاں چلتی رہتی ہیں جن میں سے کئی بار گولیاں ان کے گھروں کی دیواروں ، کھڑکیوں اور زمینوں میں بھی لگ جاتی ہیں اور کئی بار اُن گولیوں کی زد میں آکر انسانوں اور جانور بھی ذخمی ہوجاتے ہیں۔کھڑی کرماڑہ کی وارڈ نمبر 7 میں جہاں دو کمروں پر مشتمل ایک پختہ بینکر بنایاجارہا ہے نمائندہ کشمیر عظمیٰ نے وہاں کے دسویں جماعت کے ایک نوجوان لڑکے سے بات کی تو اس نے بتایا کہ اس کا نام جاوید اقبال ہے وہ گورنمنٹ ہائی اسکول کھڑی کرماڑہ میں زیر تعلیم ہے اس نے بتایا کہ اکثر اسکول جاتے اور وہاں سے واپس آتے وقت ہندوپاک افواج میں گولیوں کا تبادلہ شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ان پر خوف و حراص پیدا ہوجاتا ہے۔اس طالب علم نے بتایا کہ اس دوران وہ لوگ پہاڑیوں کی آڑ میں لیٹ جاتے ہیں اگر مقامی لوگوں کے گھروں کے پاس بینکر ہوتے تو وہ ان میں پناہ گزیں ہوسکتے۔انہوں نے بتایا کہ وہ سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کھڑی کڑماڑہ میں ہر گھر کے سامنے پختہ نہ سہی کچا ہی مگر بینکر بناکر دیں تاکہ وہ لوگ وقت ضرورت ان میں پناہ لیکر اپنی جان بچا سکیں۔گائوں کی بزرگ خاتون حمیدہ بی نے بتایا کہ وہ ہر روز پریشانیوں کا سامنا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گولہ باری کے دوران وہ کھاناتک نہیں کھا پاتی ان کے بچوں پر خوف و حراس رہتا ہے کہ نہ جانے کس وقت کیا ہوجائے۔ کھڑی کڑماڑی گائوں کی ہی ایک اور وارڈ کے منظور احمد نامی شخص اور زبیدہ بیگم نامی خاتون نے بتایا کہ جو تین بینکر بنائے گئے ہیں وہ اتنی دور ہیں کہ وہاں تک پہنچے میں انھیں ایک گھنٹہ لگ جاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ گولہ باری کے دوران وہ وہاں تک نہیں پہنچ پاتے۔انہوں نے بھی مطالبہ کیا کہ گائوں میں تمام گھروں کے سامنے بینکر بنا کر دیئے جائیں۔رابطہ کرنے پرضلع ترقیاتی کمشنر نے بتایا کہ فی الحال انتظامیہ کی جانب سے اتنا ہی ممکن تھا جتنا وہ کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں ایک جامعہ منصوبہ تیار کر کے اعلیٰ حکام تک پہنچا چکے ہیں جیسے ہی منظوری ملتی ہے وہ اس سلسلہ میں مزید بینکر تعمیر کروائیں گے۔