بانہال // ضلع رام بن کی تحصیل کھڑی کے لوگوں نے سِرن سے سراچی تک رابطہ سڑک پر کام شروع نہ کئے جانے کے خلاف تحصیل انتظامیہ اور محکمہ مال کھڑی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور تحصیل صدر مقام کھڑی سے گذرنے والی ناچ نالہ ۔ مہْو رابطہ سڑک پر احتجاجی دھرنا دیکر اسے بند کر دیا ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ مال کی عدم توجہی سے سروے کا کام ایک سال سے شروع ہی نہیں کیا جاسکا ہے اور ابھی تک اراضی کے ریکارڈ کو مکمل کرنے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ کھڑی کے سِرن اور سراچی کے درمیان تعمیر کی جانے والی سڑک کی تعمیر کیلئے ایک سال قبل وزیر تعمیرات نعیم اختر نے اس کا سنگ بنیاد ڈالا تھا۔اس سڑک سے متعلقہ فائیلوں کو تیار کرنے میں محکمہ مال کی کوتاہی اور عدم دلچسپی کے خلاف کھڑی اپر B کے پہاڑی اور راستوں سے منقطع سراچی ، نادکہ ،تراگن ، ہنجوس ، پاچھال اور ہالہ علاقہ کے لوگوں نے ایک جلوس کی صورت میں تحصیل ہیڈکواٹر کھڑی کا رخ کیا اور محکمہ مال کے خلاف نعرے کرتے ہوئے کھڑی مارکیٹ میں دھرنا دیا جس کی وجہ سے کھڑی اور مہو منگت کو جوڑنے والی رابطہ سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت کئی گھنٹوں تک معطل رہی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل سابق وزیر تعمیرات نعیم اختر نے سڑک کی تعمیر کی ابتداء کی تھی لیکن اراضی کے ریکارڈ کو تیار نہ کرنے کی وجہ سے ایک سال سے سڑک منظور ہوئی سڑک کا کام شروع ہی نہیں کیا گیا ہے اور ناہی ابھی تک محکمہ مال نے سڑک کی زد میں سینکڑوں متاثرین کیلئے اراضی ، مکانوں اور درختوں کے معاوضے کیلئے مبینہ طور پر کاغذی لوازمات ابھی تک تیار ہی نہیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعمیرات عامہ کے ایکسئین رام بن نے گذشتہ دنوں اپنے دورے کے دوران لوگوں کے ایک وفد کو بتایا تھا کہ اس سڑک کی تعمیر اور اس کے معاوضے کی رقومات سرکار سے منظور ہوئی ہیں اور محکمہ مال کی طرف سے تعمیرات کیلئے زمینوں کی نشاندہی مکمل کرتے ہی کام شروع کیا جائے گا لیکن محکمہ مال کھڑی کی طرف سے اس ضمن میں اب تک کچھ نہیں کیا گیا ہے اور سڑک کو بلا مطلب کئی مقامات پر مشینوں سے کھودا کیا گیا ہے۔ تحصیلدار کھڑی اور محکمہ مال کے متعلقہ ملازموں کو یہاں سے دوسری جگہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکام پر زور دیا کہ سڑک کا کام جلد از جلد شروع کیا جائے تاکہ ہزراوں تراگن ، نادکہ ، ہالہ ، ہنجوس ، پاچھال وغیرہ کی آبادی کو سخت ترین پہاڑی کے سفر سے نجات ملے۔ ماضی میں محکمہ مال ماضی میں اس مسئلہ کو محکمہ مال کھڑی میں سٹاف کی کمی ، محکمہ تعمیرات عامہ کی طرف سے سڑک کیلئے غلط نشانات اور سڑک کے پہلے سرے پر ایک مکان مالک کے اعتراضات کی وجوہات سے جوڑتے آئے ہیں۔ موجودہ تحصیلدار کھڑی کے چھٹی پر ہونے کی وجہ سے مظاہروں کی اطلاع کے بعد کھڑی پولیس اور تحصیلدار رامسو محمد عمران خان جو انچارج تحصیلدار کھڑی بھی ہیں نے محکمہ مال کھڑی کے عملہ کے ہمراہ دھرنے اور سِرن کے مقام سڑک کے شروعاتی پوائینٹ کا دورہ کیا اور آج سے ہی سرن۔ سراچی رابطہ سڑک سے متعلقہ کاغذات کوتیار کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ روز دو گھنٹے کیلئے ایک کیس کیلئے کھڑی کے دفتر خصوصی طور آتے رہیںگے۔ محمد عمران خان (کے اے ایس) نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاوضے اور دیگر دعوئوں کو لیکر کھڑی اپر کے کئی دیہات کے لوگوں نے دھرنا دیا تھا اور ان سے ملاقات کے بعد انہوں نے اس رابطہ سڑک کے ٹیک آف پوائٹ کا دورہ کیا اور لوگوں کو یقین دلایا کہ آج منگل سے ہی محکمہ مال کی طرف سڑک اور معاوضہ سے متعلقہ ریکارڈ کو مرتب کرنے کی قواعد شروع کی گئی ہے اور جلد ہی سڑک کا کام شروع کرنے میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے موقع پرجاکر سڑک کی شروعات پر مکان مالک اور زمین غلام محمد نائیک ، غلام قادر نائیک ، محمد یوسف ، نظیراحمد نائیک وغیرہ کے اعتراضات کی بھی جانکاری حاصل کی اور ضابطہ اور قواعد کے تحت مالک مکان کے نقصانات کی ہر ممکن بھرپائی کرنے کی یقین دہانی کرائی کی۔ اس معاملے کو لیکر زمینداروں کے اعتراضات پر مبنی ایک کیس پہلے ہی زیر سماعت ہے۔ تحصیلدار نے بتایا کہ اْن کی یقین دہانی کے بعد لوگوں نے احتجاجی دھرنا ختم کیا اور کھڑی قصبہ میں معمولات کی زندگی کو بحال کیا گیا اور مْہو کیلئے ٹریفک کا نظام بھی چل نکلا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش تمام مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے گا تاکہ عوام کو سڑک اور معاوضے وغیرہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔