مینڈھر //کووڈ کے شروع ہونے کے بعد جہاں غریب کنبوں کا گزر بسر مشکل ہو تا جارہا ہے وہائیں مینڈھر سب ڈویژن میں بچہ مزدوری میں بھی اضافہ ہو نا شرو ع ہو گیا ہے ۔مینڈھر قصہ میں ہی درجنوں چھوٹے بچے مختلف مراکز پر کام کرنے کیساتھ ساتھ بھیک اور پلاسٹک و دیگر اشیاء جمع کر کے فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔مینڈھر کے معززین نے بتایا کہ بیرون ریاست سے مینڈھر میں آئے ہوئے مزدور طبقہ کے بچوں کی ایک بڑی تعداد مختلف طرح کے کام کرکے اپنی زند گی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔غور طلب ہے کہ جموں و کشمیر میں چائلڈ لیبر سے متعلق مختلف رپورٹس کے مطابق یو نین ٹریٹری میں 1 لاکھ سے زائد چائلڈ لیبر ہیں ، جن میں سے اکثریت دستکاری کے شعبے ، آٹوموبائل ورکشاپس ، اینٹوں کے بھٹوں ، زراعت اور گھروں میں گھریلو ملازم کے طور پر کام کرتے ہیں تاہم کچھ ماہرین کے مطابق جو بچہ اپنی مرضی سے مزدوری کرتا ہے اور کام کا نشانہ نہیں بنتا وہ چائلڈ لیبر نہیں ہے اور اگر اس حکم پر یقین کیا جائے تو یہاں تک نہیں چائلڈ لیبر کا ایک ہی معاملہ بچوں کو کام کرنے کیلئے مشینوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور اپنے خاندانوں کو پالنے کے لیے پیسے کمائے جاتے ہیں۔غور طلب ہے کہ کووڈکے آنے کے بعد سماج میں چھوٹے بچوں کی ایسی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے جو مجبور ہو کر کام کی تلاش میں ہیں او ر مہلوک وباء کے بعد بچوں کی جسمانی و ذہنی نشو نما پر گہرے اثرات دیکھائی دے رہے ہیں ۔مینڈھر کے معززین نے بتایا کہ اس وقت مینڈھر قصبہ میں ہی بچوں کی ایک بڑی تعداد بھیک مانگ رہی ہے جبکہ کئی ایک نالیوںسے ٹینک ،بوتلیں و دیگر ساز و سامان جمع کر کے فروخت کرنے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت بیرون ریاست سے آئے ہوئے غریب کنبوں کے بچوں کی تعلیم کیلئے خصوصی توجہ دے جبکہ ان کے مالی مسائل کو ترجیح بنیادوں پر کم کیا جائے ۔