سرینگر//جموں کشمیرمیں کووِڈ- 19سے صحت یاب ہونے والے افراد کو سماج میں امتیاز کاسامنا کرناپڑرہا ہے اور کئی ایک معاملوں میں اُن کا بائیکاٹ بھی کیاجاتا ہے ۔جموں کشمیرمیں 861کوروناوائرس کے مثبت کیسوں میں 383مریض صحت یاب ہوئے جو ملک بھر کی ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں شفایاب ہوئے مریضوں کی سب سے زیادہ شرح ہے۔تاہم ڈاکٹروں نے جن مریضوں کو کروناوائرس سے پاک قرار دیا ،انہیں اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں انجام دینے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ایک صحت یاب ہوئے مریض نے کہا کہ اُسے ایک دندان ساز کے پاس جانے کی ضرورت پیش آئی لیکن وہاں معالج نے اُسے دیکھنے سے انکار کیا۔ایک مریض نے کووِڈ- 19سینٹر پر اُ س کاعلاج کرنے والے ڈاکٹروں کو بتایا کہ اُسے گزشتہ کئی روز سے دانت میں درد ہے اور وہ کس طرح معالج دندان کو مطمئن کرے کہ وہ کروناوائرس سے اب پاک ہے ۔ ایک اور مریض نے بتایا کہ اب اُسے محکمہ صحت سے دستاویزی ثبوت کی ضرورت ہے جو اس بات کا ثبوت ہو کہ میں کروناوائر س سے پاک ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں نے حال ہی میں گیس سلینڈر لایااور جوں ہی گیس سلینڈر والے کو پتہ چلا کہ میں کوروناوائرس کا مثبت مریض تھا ،تو اُس نے احمقانہ سوالات پوچھے ۔اُس نے یہاں تک کہا کہ کیا میں اُس نقدی کو ہاتھ لگاسکتا ہوں جو آپ نے مجھے دیں گے۔ایک اور کروناوائر س سے روبہ صحت ہوئے مریض نے بتایا کہ ایک نجی مواصلاتی کمپنی نے اُس کے گھرمیں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کنکشن لگانے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ آج تک ہمیں ہرکوئی کروناوائرس کا مریض سمجھتا ہے ۔میں نے انترنیٹ براڈ بینڈ کنکشن کیلئے درخواست دی لیکن وہ مجھ سے خوفزدہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں نے بچوں کیلئے انٹرنیٹ کنکشن کیلئے درخواست دی تھی تاکہ وہ آن لائن کلاسوں میں حصہ لے سکیں ۔ایک اور مریض نے کہا کہ میرے بچے بہت سے سوال پوچھ رہے ہیں جن کا میرے پاس جواب نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے کروناوائرس سے صحت یاب ہوئے مریض مایوس ہوتے ہیں ۔ان حالات کے پس منظر میں ڈاکٹر نوید نظیر شاہ جو کووِڈ- 19اسپتال ڈلگیٹ کے سربراہ ہیں ،اپیل جاری کی ہے کہ وہ صحت یاب ہوئے لوگوں کے ساتھ امتیاز نہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ کووِڈ- 19کے مریضوں کے ساتھ سماج میں نامناسب سلوک کیا جاتا ہے ۔