سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرنے کہا ہے کہ کووِڈ- 19ٹیکہ موثر ہوتا ہے اگر اس کی پہلی خوراک لینے کے بعد دوسری خوارک 12ہفتوں بعد لی جائے۔ایک بیان میں ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ ویکسین خوراکوں میں طویل وقفہ رکھنے سے وہ زیادہ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بات کاثبوت ملاہے کہ آکسفورڈکے ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک میں طویل وقفہ رکھنے سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے ۔ لانسٹ کی طرف سے شائع ایک تحقیق کے مطابق ویکیسن یاٹیکہ کازور 82.4فیصد زیادہ ان لوگوں میں تھا جنہوں نے دوسراٹیکہ 12ہفتوں کے بعد لیاجبکہ جن لوگوں نے 6ہفتوں سے کم وقفے کے بعد ویکسین کا دوسراٹیکہ لگوایاان میں اس کازورصرف54.9فیصدتھا۔انہوں نے کہا کہ پہلی خوراک 22ویں سے90ویں دن کے درمیان 76فیصد موثر ہوتی ہے اوراس کااثراورتحفظ پہلے تین ماہ میں کم نہیں ہوتا۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ دوسری خوراک میں تاخیر کرنے سے پہلی خوراک مزید زیادہ لوگوں کو دی جاسکتی ہے اوراس سے مزید جانیں بچائی جاسکتی ہیں.۔انہوں نے کہا کہ اگر کافی لوگوں کو جلدی ویکسین دیا جاتاہے تو ہمیں HERD IMMUNITYپیداہوگی جس سے کہ موجودہ عالمی صحت بحران ختم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکہ کی خوراکوں کے درمیان طویل وقفہ رکھنے سے فایدہ ہوگاتاہم بھارت میں آکسفورڈویکسین کی دوسری خوراک کواب بھی چار ہفتوں بعد دیاجاتا ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ویکسین کی ایک خوراک مثبت معاملوں میں وائرس پھیلنے کو67فیصد کم کرتی ہے ۔