بہت تنہائی ہے ۔بہت فاصلے ہیں۔نہ کہیں آنا ہے نہ جانا ہے ۔ نہ ہنسنا ہے نہ مسکراناہے ۔نہ کچھ سننا ہے نہ سنانا ہے ۔ زندگی ٹھہر گئی ہے۔ لاچاری ، بے بسی اور مجبوری کا یہ عذاب کیسے اورکب تک کسی سے برداشت ہوسکتا ہے ۔اب کمرے کی یہ دیواریںبھی ہنس رہی ہیں ۔قہقہے لگا رہی ہیں۔ مذاق اڑارہی ہیں ۔ چیخ چیخ کرکہہ رہی ہیں کہ اے انسان: تو کیوں اس طرح زمین پر پڑا ہے ۔ تجھے تو کبھی چین اور قرار نہیں تھا ۔ تو آسمانوں میں اڑ تا پھرتا تھا اور ہمالہ کی اونچائیوں کو روندھا کرتا تھا ۔تجھے کسی نے بیڑیاں بھی نہیں پہنائی ہیں پھر تو یہاں پڑے پڑے کیوں اونگھ رہا ہے ۔پہاڑوں کا سینہ چیرنے اور سمندروں سے راستے نکالنے والا انسان کیسے کہے کہ اسے ایک ایسی شئے نے ڈرا دیا ہے جس کے پاس کوئی ایٹم بم نہیں ، کوئی میزائل نہیں ، کوئی ہتھیار نہیں ، جو اتنی چھوٹی ہے کہ کسی کو دکھائی بھی نہیں دیتی ۔جس میں جان بھی نہیں ہے ۔ایک ناکارہ سی۔ کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر شئے ۔ جس کا نام کرونا ہے اور جس نے انسان کی تاریخ اور تقدیر کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ۔
کرونا کے آنے سے پہلے بھی یہ دنیا انسانوں کے لئے تقریباً ایسی ہی تھی جیسی آج ہے ۔اس سے پہلے بھی انسان ہر جگہ مرتے تھے ۔ مسجدوں اور گرجا گھروں میں مرتے تھے ۔ یورپ میں بھی مرتے تھے ۔ ایشیاء میں بھی اور عرب میں بھی ۔ بازاروں اور شاپنگ مالوں میں مرتے تھے ۔ فلسطین ، شام اور اردن میں بھی مرتے تھے ۔ افغانستان میں بھی مرتے تھے ۔ ہند و پاک سرحد پر بھی مرتے تھے اور کنٹرول لائن پر بھی ۔بھوک سے بھی مرتے تھے ۔خلافت اسلامیہ قائم کرنے کا نعرہ دینے والوں کے ہاتھوں بھی مارے جارہے تھے اور گریٹر اسرائیل کا خواب پورا کرنے کی خواہش رکھنے والوں کے ہاتھوں بھی ۔گائے کی بے حرمتی کے الزام میں بے قابو ہجوموں کے ہاتھوں بھی مارے جارہے تھے اور بڑی طاقتوں کی باہمی رقابت نے بھی بہت سارے محاذ کھول رکھے تھے ۔بھوک کے مارے بھی انسان مررہے تھے اور غربت اور افلاس کے مارے بھی ۔اس قتل عام کے پھیلائو اور وسعت کا بھی یہی حال تھا جو آج کرونا کا ہے لیکن انسان اس سے پریشاں نہیں تھاکیونکہ ا س محاذ آرائی کے ہر کردار کو یقین تھا کہ آخری فتح اسی کی ہونی ہے اور اس کے سارے دشمنوں کو شکست فاش سے دوچار ہونا ہے ۔صدیوں سے یہ ذہنیت پنپ رہی تھی اور اب فیصلہ کن موڑ پر پہنچ رہی تھی ۔نفرت کے اس وائرس کا کوئی نام نہیں تھا لیکن یہ کرونا سے زیادہ تباہ کن تھا کیونکہ کرونا کو ایک ویکسین کے ذریعے روکا جاسکتا ہے مگرنفرت کا کوئی ویکسین نہیں ہوسکتا ۔یہ دنیا کی مکمل تباہی اور انسان کی مکمل بربادی پر ہی ختم ہوسکتی ہے لیکن اس سے پہلے کہ یہ بھیانک تباہی حیات انسانی کا خاتمہ کرتی ،کرونا وائرس نے مغرب و مشرق ، شمال و جنوب ،رنگ و نسل ، برتر و کمتر ،بالا دست و تہی دست سب امتیاز مٹاکر تمام عزائم و تمام اختلافات کو کرونا کے مرکز پر پہنچادیا ۔ابھی ابتداء ہے ۔ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے ۔ابھی پہلا مرحلہ ختم نہیں ہوا ہے ۔ دوسرا مرحلہ اس سے کہیں زیادہ بدتر ہوگا ۔ نہ جانے کیسے کیسے گھمنڈ ٹوٹ کے بکھرنے ہیں ۔ نہ جانے کیسے کیسے منصوبوں کو خاک ہونا ہے ۔ کتنی عظیم طاقتوں کو فرش پر آنا ہے ۔ کتنے فوبیا فنا ہونے ہیں ۔کتنی تہذیبوں اور کتنے ملکوں کو مٹی میں مل جانا ہے ۔ غربت اور افلاس کا ایک نیاد دور شروع ہونا ہے ۔ایک نیا ورلڈ آرڈ ر تشکیل پانا ہے جس میں سب کچھ بدلا ہوا ہوگا ۔ابھی سائنس اس وائرس کی حقیقت کو سمجھ ہی نہیں پارہی ہے ۔ اس لئے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ چند مہینوں کے اندر بھی کوئی ویکسین دریافت ہوکر دنیا کے ہر فرد تک پہنچ پائے گا ۔ابھی کسی بھی ملک کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے کتنے باشندے اس وائرس کی لپیٹ میں آچکے ہیں ۔ ابھی مہینوں تک دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس اتنے ٹسٹ کٹس نہیں آسکتے کہ وہ چند مہینوں کے اندر اپنے تمام باشندوں کا ٹسٹ کرسکے ۔ابھی صرف لاک ڈائون کے ذریعے ہر ملک اس وبا کے پھیلائو کو روکنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے لیکن اس کے پھیلائو کو روکنا بھی کسی کے لئے ممکن نہیں ہے ،اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے کچھ مہینوں میں کتنے لوگوں کو زندگی سے محروم ہونا ہوگا اور کتنے لوگوں کو اس وائرس کاشکار ہوکر کورنٹین میں جانا پڑے گا ۔جن ملکوں کے پاس سب سے زیادہ وسائل اور سب سے زیادہ سرمایہ ہے، وہی سب سے زیادہ اس وائرس کے شکار ہوچکے ہیں ۔وہاں لوگ جانورو ں کی طرح مرنے لگے ہیں اور دنیا کو انگلیوں پر نچانے والی حکومتیں بے بسی کے عالم میں یہ سب دیکھ رہی ہیں ۔تیسری دنیا بے صبری سے انتظار کررہی ہے کہ کب سائنس ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو اور وہ اس عذاب سے نجات پائیں ۔ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی امید اور کوئی سہارا نہیں۔
یہ پہلی بار نہیں کہ دنیا کسی ناگہانی آفت کی لپیٹ میں اس طر ح آئی کہ انسانوں کو جانوں کے لالے پڑگئے ۔بہت ساری وبائیں پھیلیں جنہوں نے بستیوں کو انسانی لاشوں کا مزار بنادیا اور بڑی بڑی سلطنتوں کو پارہ پارہ کرکے رکھ دیا ۔ بڑے بڑے طوفان آئے ، سیلاب آئے ، بھونچال آئے اور ہر بار ان ناگہانی آفات نے دنیا میں وہ تبدیلیاں عمل میں لائیں،وقت جن کا تقاضا کررہا تھا ۔ طوفان نوح کے وقت ایک پیغمبر دنیا میں موجود تھا جو انسانوں کو آگاہ کررہا تھا کہ وہ کیا کررہے ہیں اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا لیکن اس کے باوجود بھی جب لو گ وہی کرتے رہے جس سے عالم انسانیت کے فطری قوانین تہہ و بالا ہورہے تھے اور سماجوں کا وہ توازن ٹوٹ رہا تھا جس سے انسان کے لئے بہتر زندگی کی تعمیر ہوسکتی تھی تو ایک طوفان نے ان تمام انسانوں کا خاتمہ کرکے رکھ دیا جو فطرت سے بغاوت کا علم اٹھائے ہوئے تھے ۔پھر اسی تباہی کے کھنڈروں پر ایک نئی دنیا تعمیر ہوئی ۔ ہر بار تباہی کے کھنڈروں پر ہی ایک نئی اور بہتر دنیا کی تعمیر ہوتی رہی ہے ۔آج بھی غالباً یہی ہونے والا ہے ۔کرونا وائرس کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک نہ دنیا کے تمام مغرور انسانوں کا غرور پاش پاش ہوجائے گا ۔ایک دوسرے کو مٹانے اور تباہ کرنے کی خواہش اپنی موت آپ مرجائے گی ۔بالادستی کی ہر تمنا خاک میں مل جائے گی ۔سارے خود ساختہ نظریات اور فلسفے دفن ہوجائیں گے ۔ملائوں ، پنڈتوں ، پادریوں اور راہبوں کی خود پسند تاویلیں رد کردی جائیں گی ۔مذاہب کی ٹھیکیداری کا چلن مٹ جائے گا۔تشدد پسندی کی ذہنیت فنا ہوجائے گی۔ ہر عقیدہ اپنی بنیاد پالے گا ۔اور انسانیت کے جذبے کے ساتھ ہر جذبہ منسلک ہوجائے گا ۔
عام رائے یہ ہے کہ ایک ویکسین آئے گا تو کرونا وائرس سے انسان کو نجات حاصل ہوجائے گی ۔ اس کے بعد سب کچھ پہلے جیسا ہوگا لیکن یہ خیال محض ایک مغالطہ ہے ۔ طبی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ کرونا وائرس نے عالم انسانی میں اپنی جگہ بنالی ہے اور جس طرح ایچ آئی وی ، این آئی وی کا خاتمہ نہیں ہوسکا ہے اور دنیا کے لوگ اس کے ساتھ جینا سیکھ چکے ہیں ،اسی طرح سے دنیا والوں کو کرونا وائرس کے ساتھ ہی جینا ہوگا ۔ہوسکتا ہے کہ طبی ماہرین کا یہ خیال غلط ہو لیکن اگر ویکسین آبھی گیا تو بھی وہ صرف متاثر کی جان بچاسکے گا، متاثر کو ڈھونڈ نہیں سکے گا ۔ایک ایک کرکے دنیا کے تمام انسانوں کے ٹسٹ کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔چنانچہ کرونا کے ساتھ جینے کا خیال سرے سے رد نہیں کیا جاسکتا ۔اس حالت میں نہ شادی بیاہ کی وہ تقاریب ہوسکیں گی جو سرمایہ دار اپنے سرمائے کی تشہیر کرنے کیلئے ہزاروں لوگوں کو دعوت دیکر منعقد کیا کرتے تھے، نہ رزق کا بے دریغ زیاں ہوجائے گا ۔ جب سے یہ چلن عام ہوا تھا ،غریب اور نادار لوگوں کی لڑکیوں کے ہاتھ مہندی کو ترسنے لگے تھے اور اس کے نتیجے میں کیا کچھ ہوا کرتا تھا، یہ سب کو معلوم ہے ۔اس کو روکنے میں کبھی کوئی حکومت اور کوئی سماج کامیاب نہیں ہوسکے تھے، اس لئے عالم غیب سے فیصلہ آیا اور کرونا کے علاوہ اس عمل کو روکنے کا موثر علاج اور کیا ہوسکتا تھا ۔لوگوں کے مرنے پر بھی بڑے ہنگامے اور بڑے اصراف ہوا کرتے تھے، اب ایسا بھی نہیں ہوگا ۔سماج خود بخود کئی علتوں سے آزاد ہوجائے گا ۔انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی بدلنا پڑے گا ۔ روئیے بدل جائیں گے اور رحجان بدل جائیں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سوچیں بھی بدل جائیں گی ۔ایک نئے سماج کی تشکیل ہوگی ۔نئی دنیا کی تشکیل ہوگی اور نئے زمانے کا آغاز ہوگا ۔ بیسویں صدی میں جن لوگوں نے آنکھیں کھولی تھیں، انہوں نے بھرپور زندگی جی لی تھی ۔اُس زمانے میں بھی عقیدے تھے لیکن اتنے ظالم نہیں تھے ۔ روایتیں تھیں لیکن نقصان دہ نہیں تھیں ۔غیر معتبر روئے تھے لیکن تشدد انگیز نہیں تھے ۔ جب ہر معاملے میں سخت گیری انسانی فطرت کا خاصہ بن گئی تو غیبی قوتوں کو انسان کو روکنے کیلئے متحرک ہونا پڑا کیونکہ ابھی دنیا کے خاتمے کا وقت نہیں آیا ہے ۔وہ وقت آنے سے پہلے انسان کو تنبیہ کرنے کے ساماں ہی ہورہے ہیں ۔