سرینگر// جموں کشمیر میں ’کورونا کرفیو‘ کے23ویں روز سخت ترین بندشوں اور قدغنوں کے نتیجے میں عام زندگی مفلوج رہی۔جامع مسجد سرینگر اور درگاہ حضرت بل سمیت متعدد بڑی جامع مساجد میں مسلسل چوتھے ہفتے لگاتار اجتماعی طور پر نمازجمعہ کی ادائیگی ممکن نہ ہو سکی۔پولیس نے24گھنٹوں کے دوران مزید 248افراد کو حراست میں لیا۔ لاک ڈاون کی وجہ سے چوتھی مرتبہ مرتبہ جامع مسجد سرینگر ، درگاہ حضرت بل اور وادی کی دیگر بڑی مرکزی جامع مساجد اور درگاہوںو خانقاہوں کے ممبرومحراب خامو ش رہے اور لوگوں نے مقامی مساجد کے علاوہ گھروں میں ہی نما زادا کی۔جموں کشمیر میں کرفیو جیسی پابندیاں23ویں روز بھی نافذ رہیں۔ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا، بازارنہیں کھلے اور لوگوں کی آمد و رفت معطل رہی۔ ادھرانسپکٹر جنرل پولیس کشمیر زون وجے کما ر نے آئی جی سی آر پی ایف کے ہمراہ شہر کا دورہ کیا۔ آئی جی پی نے نشاط ، فورشور روڈ ، حبک ، لال بازار ، جڈی بل ، نوہٹہ ، بہوری کدل ، راجوری کدل (میر واعظ منزل) ، سکہ ڈافر ، قمرواری ، پارم پورہ ، حیدر پورہ ، باغات ، صنعت نگر اور پانتہ چھوک کے علاقوں کے دورہ کے دوران ، ڈیوٹی پر تعینات افسران اور جوانوں سے بات چیت کی اور ہدایت کی کہ وہ رہنما اصولوں اور لاک ڈاؤن کے دیگر احکامات کو سختی سے نافذ کریں۔ آئی جی پی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا مقصد لوگوں کی جانوں کا تحفظ کرنا اور کوویڈ 19 انفیکشن کو پھیلانے سے روکنا ہے۔ادھر پولیس نے جمعہ کو بھی کورونا رہنما اصولوں اور لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی۔پولیس بیان کے مطابق24گھنٹوں کے دوران96ایف آئی آر درج کئے گئے جبکہ248 افراد کو حراست میں لیا گیا۔1055افراد سے ایک لاکھ38ہزار240روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا۔ بڈگام میں5دکانداروں کے خلاف کیس درج کیا گیا۔