کشمیر وادی میںکرونا وائرس میں مبتلا مریضوںکی بڑی تعدا د سے جہاں تمام ہسپتال بھرے پڑے ہیںوہیں ہسپتالوں میںجگہ نہ ملنے کے باعث اس وائرس سے متاثرہ بے شمار افراد اپنے ہی گھروں میںزیر علاج ہیں اورپندرہ پندرہ دن کی قرنطینہ مدت گذارتے رہتے ہیں۔اگر بے چارے زندہ رہے تو ان کے گھر والے یا عزیز اقارب خوشی کے عالم میں نذرو نیاز بھی دارالعلوم اور یتیم خانوں میں بھیجتے ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں ایسے بھی لوگ ہیں جو بالکل پوشیدہ طور پرخاموشی کے ساتھ کرونا سے چھٹکاراپانے کے لئے احتیاطی تدابیرکے تحت مقررہ وقت گھروں میں گزارتے ہیں ،نہ ہمسایوں کواس کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی رشتہ دار اس سے واقف ہوتے ہیں جبکہ حکام بھی ان کے تعداد سے بالکل بے خبرہیں۔ریڈیو یا اخبار کے ذریعے روزانہ وائرس میں مبتلالوگوں کی وہی تعداد نشریامشتہر ہوتی رہتی ہے جو ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیںاور گھروں یا نجی ہسپتالوں میں پڑے ہوئے مریضوں کی صورت حال سے یہ دونوں ادارے بھی بالکل بے خبر ہیں۔
حسرت کا مقام ہے کہ جب اپنی اس وادیٔ کشمیر میں محض دس پندرہ اشخاص کرونا وائرس میں مبتلا ہوئے تھے تو حکومت اور وقف بورڈ کی طرف سے تمام مساجدوزیارت گاہیںاور دیگر سیر گاہیں مقفل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے ،اوراب جبکہ کشمیر میںہزاروں کی تعداد میں لوگ کرونا وائرس میں مبتلا ہیں اور روزانہ درجنوں افراد زندگی سے محروم ہوجاتے ہیں تونہ معلوم کیوں ایسے حالات میں حکومت اور وقف بورڈ کے حکم نامہ کے ذریعے مساجد ،زیارت گاہیں، بازاراور دیگر پبلک مقامات کھولے جانے سے بے چارے کم فہم اور کم عقل کشمیری لوگوں کو موت کو گلے لگانے کا پیغام دیتے ہیں،اوروہ بھی اْس موت کا پیغام، جس میں مرنے والے کی میت کے نہ وہ گندے کپڑے نکالے جاتے ہیں جو ان کے جسم پر ہوتے ہیں ،نہ غسل دیا جاتا ہے اور نہ کوئی امام یا مولوی آگے آکر ان کا جنازہ اداکرتا ہے۔نہ کوئی سیاسی سوداگر اظہار افسوس کرتا ہے نہ کوئی مذہبی رہنمادعائیہ کلمات بھیجتا ہے۔وقف بورڈ کے منتظمین اور حکام کے لئے بھی یہ افسوس کا مقام ہے جو ایسے احکام جاری کرتے ہیں اور صرف دو گز کی دوری کا فاصلہ رکھنے یا ماسک لگانے کی تاکید کرنے تک ہی کواپنا منصبی فرض سمجھتے ہیںاور معاملہ گول کرجاتے ہیںجبکہ وہ بخوبی جانتے ہیںکہ اْن کی اس تاکید پر کشمیری عمل نہیں کرتے ہیں اور نہ کرنے کی کوئی کوشش کرتے ہیں۔
اگر جائزہ لیا جائے توکیا حضرت بل میں لوگوںکے اجتماع ،جامع مسجد میں نمازیوں کے اجتماع یا دیگربڑی بڑی مساجداورزیارت گاہوں میںجہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوجاتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں یا کرسکتے ہیں؟دیکھا تو یہی جارہا ہے کہ اس وقت بھی چھوٹی چھوٹی بیشترمساجد میںلوگ کندھے سے کندھا ملاکر باجماعت نماز ادا کرتے رہے ہیںاور ماسک کے بغیر نمازیں ادا کرتے ہیں۔جس کے نتیجہ میںروزانہ زیادہ سے زیادہ لوگ وائرس کا شکار ہوتے جارہے ہیںجبکہ بازاروں اور دیگر پبلک مقامات کا حال بھی ایسا ہی رہتا ہے۔حکام جب لاک ڈاون اٹھاتے ہیں تودکان دا ر دوکانیں کھولتے ہیں ،لازماً ہر کسی فرد کو اپنی روٹی روزی کا بندو بست توکرنا ہی پڑتا ہے لیکن اکثربازاروں میں سماجی فاصلوں کا کوئی لحاظ نہیں رہتا ہے۔ زیادہ تردکان دار توخود ماسک پہن کر نہیں ہوتے ہیں۔سینکڑوں لوگ جو دکانوں سے سودا سلف لانے کے لئے جمع ہوجاتے ہیں کیا وہ سبھی ماسک کا استعمال کرتے ہیں؟بالکل نہیں بلکہ وہ تو دو گز کی دوری کا فاصلہ رکھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں۔حیرت کی بات ہے کہ کیا لا اینڈ آرڈر مشینری سے وابستہ انتظامی ارکان کو یہ سب کچھ دکھائی نہیں دیتا اور اگر دکھائی دیتا ہے تو وہ اس پر قدغن لگانے کی کون سی سبیل کرتے ہیں؟حالانکہ جموں کے لوگوں سے کشمیریوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے کہ وہ کس طرح حکام کی طرف سے جاری آرڈرز و احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کا بھرپور خیال رکھتے ہیں اور بغیر ماسک کے کسی بھی قسم سرگرمی میں حصہ نہیں لیتے ہیںبلکہ احتیاطی تدابیرپر عمل کرنا اور ماسک کے استعمال کو لازم سمجھتے ہیں، جس کے سبب وہاں وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعدادبہت کم ہے اور اموات بھی کم ہوتے ہیں۔
اب ذرا اپنی بستی کے لوگ ان احادیث کی طرف بھی متوجہ ہوجائیںکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بارش کے روز اذان میں حضور ِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کلمہ شہادت کے بعد حیّ علی الصلوٰۃ نہ کہا بلکہ صَلّوابیوتکم کہایعنی اپنے گھروں میں ہی نماز ادا کرو۔جب حضورِ اکرم ؐسے اس بارے میں عرض کیا گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز یا نماز جمعہ اگر چہ فرض ہے لیکن مجھے یہ پسند نہیں کہ میں تمہیں گھروں سے نکالوں تاکہ تم کیچڑ اور مٹی میں چلو ،جس سے تمہیں تکلیف ہو۔ذرا غور کیجئے۔ آپ ؐ نے کیچڑ اور مٹی سے بچنے کے لئے جماز جمعہ گھر میں ادا کرنے کی اجازت فرمائی توموجودہ خطرناک وائرس کے دور میںوباء سے بچنے کے لئے کتنا ضروری ہے کہ ہم گھروں میں ہی نماز ادا کریںکیونکہ لوگوں کی زندگیوں کوبچانا بھی اہم فرض ہے۔دوسرے حدیث میں حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمان ہے :کہ جب تم کسی جگہ کے متعلق سنو کہ وہاں وباء یاطاعون ہے تو وہاں مت جائو۔بلکہ اپنے گھروں میں ہی رہواور جب تم کسی ایسی جگہ ہو جہاں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلو۔
میں اعلیٰ حکام اور وقف بورڈ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کسی بہتر منصوبہ بندی کے تحت ایسے احتیاطی نظام کومرتب کریںجس سے انسانی جانوں کا کم سے کم نقصان ہوسکے اور لوگوں کے لئے روزی روٹی کمانے کا بھی بندوبست ہوسکے۔یونہی بڑی بڑی مسجدوںاور زیارت گاہوں کو کھول کر یہاں کے لوگوں کو مصیبت نہ ڈالیںاور ہوش کے ناخن لیں۔وقف بورڈ کے منتظمین کو چاہئے کہ وہ اسلامی اصولوں پر عمل پیرا رہیںاور لوگوں کو بھی اس پر عمل پیرا رہنے کی ایسی حکمت ِعملی ترتیب دیں جس سے وائرس کے پھیلائوسے کسی حد تک بچائو ہوسکے۔
(امام حی ،جامع مسجد سرینگر)