19دسمبر2019کو چین کے شہرووہان میںکورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کی خبریں آئیں جس نے اب تک 200سے زائدممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیا جاچکا ہے مگر بہت سے لوگ اب بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ان میں اچھے خاصے دیندار مسلمان شامل ہیں۔ بعض حضرات احتیاطی تدابیر کو توکل کے منافی سمجھتے ہیں۔ نیز ان کا خیال ہے کہ بیماری کا علاج کرنے سے مسلمان دائرہ متوکل سے نکل جاتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ اسلام کی نظروں میں ہمارے اس طرز عمل کی حیثیت کیا ہے؟ قرآن حکیم کی آیات کی روشنی میں طوفان ،آندھی، زلزلہ اور وبا جیسی آفات عذاب اِلٰہی کی مختلف صورتیں ہیں جو انسان کی سرکشی کا بدلہ ہوتی ہیں یعنی یہ سزا انسان کے ہاتھ کی کمائی ہوتی ہے۔ عذاب یا آزمائش کا مقصد انسان کو رجوع الی اللہ کی طرف مائل کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں پر نادم ہوکر توبہ کرے اور اپنے رب کی طرف رجوع کرے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں آیا ہے:
تاکہ خدا ان کو ان کے بعض عملوں کا مزہ چکھائیں ، عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔ (القرآن۔ ۳۰: ۴۱)
اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا بھی دنیا کے عذاب کا مزہ چکھائیںگے شاید وہ باز آئیں۔ (القرآن ۳۲:۳۱)
ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ وہ باز آئیں۔ (القرآن ۔ ۴۳: ۴۸)
وبا کے بارے میں اسلام کی تعلیمات واضح اور روشن ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ’’جب کسی شہر میں وبا پھوٹ پڑے اور تم وہاں پہلے سے موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو اور جب کسی شہر میں وبا ہو تو اس میں داخل منت ہوجاو‘‘ ۔اگر آج کورونا وائرس کے پھوٹتے ہی اس حکم پر عمل کیا جاتاتو دنیا کتنی پریشانی سے بچ جاتی۔
18ہجری میں شام میں وبا پھوٹی جو’ طاعون عمواس‘ کہلاتی ہے۔ اس وقت حضرت عمر ؓ شام کے سفر پر تھے۔ تبوک کے نزدیک’ سرغ‘ نام کے مقام پر پہنچے تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ ، حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ ، حضرت شرجیل ؓ بن حسنہ جیسے کبار صحابہ حاضر ہوئے انہوں نے حضرت عمر سے عرض کی کہ شام میں وبا پھوٹ پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ مخمصے میں پڑگئے کہ اب کیا کیا جائے؟ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو حکم دیا کہ مہاجرین اولین کو بلایا جائے۔ جب وہ حضرت عمر ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے ان سے مشورہ کیا۔ انہوں نے الگ الگ رائیں دیں اور کسی ایک رائے پر متفق نہ ہوسکے۔ ان میں سے بعض کی رائے تھی کہ سفر جاری رکھا جائے اور بعض واپس لوٹ جانے کے حق میں تھے۔حضرت عمر ؓ نے انہیں رخصت کیا اور انصار کو طلب کیا۔ انصار نے بھی الگ الگ رائیں دیں اور کسی رائے پر متفق نہ ہوسکے۔ حضرت عمر ؓ نے انہیں بھی رخصت کیا اورحکم دیا کہ فتح مکہ میں جو مہاجرین رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے انہیں بلایا جائے۔ جب وہ آئے تو انہوں نے کوئی اختلاف نہیں کیا بلکہ عرض کی کہ بہتر ہے کہ آپ واپس لوٹ جائیں اور ان کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ ان کی رائے سن کر حضرت عمر ؓ نے اعلان کیا کہ ہم کل صبح واپس جارہے ہیں۔ صبح لوگ جمع ہوئے تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ آئے اور حضرت عمر ؓسے کہا کہ’’ امیر المومنین آپ تقدیر الٰہی سے بھاگ رہے ہیں ؟‘‘جس کے جواب میں حضرت عمر ؓ نے کہا کہ’’ ہاں ہم اللہ کی ایک تقدیر سے اللہ کی دوسری تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں‘‘۔ حضرت عمر ؓ نے ایک مثال دی کہ لوگ اپنے اونٹوں کو لیکر ایک وادی میں اترتے ہیں جس کا ایک کنارہ سر سبز و شاداب اور دوسرا خشک ہے۔ جو گروہ اپنے اونٹوں کو سر سبز شاداب حصے میں چرائے تو یہ تقدیر اِلٰہی سے ہے اور جو خشک و بنجر میں چرائے تو اس کا چرانا بھی تقدیر اِلٰہی ہی سے ہے۔ اسی اثنا ء میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف تشریف لائے جو کہیں گئے ہوئے تھے اور اس موقعہ پر موجو د نہ تھے۔ انہوں نے یہ ماجرا دیکھ کر کہا کہ اس بارے میں میرے پاس رسول اللہ ﷺ کا واضح حکم موجود ہے، میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی علاقے میں وبا پھیلی ہو اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو اور جب تم سنو کہ وبا پھیلی ہے تو اس علاقے میں مت جائو۔یہ حدیث سن کر حضرت عمر ؓ کو خوشی ہوئی اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ چلو۔
حضرت عمر ؓ مدینہ واپس آئے تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کو خط لکھا کہ آپ سے ضروری کام ہے، مدینہ واپس آئیں ۔مگر حضرت ابو عبیدہ ؓ بھانپ گئے کہ حضرت عمر ؓ انہیں شام سے نکالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے فوجیوں کا ساتھ نہ چھوڑنے کا عذر پیش کرتے ہوئے اس حکم کی تعمیل نہیں کی اور لکھا کہ میں ان حالات میں فوجیوں کو چھوڑ کر نہیں آسکتا معذور سمجھیں۔ حضرت عمر ؓنے دوسرا خط ارسال کیا کہ آپ نشیبی علاقے میں ہیں۔ فوج کو پہاڑوں پر لیجائیں۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ حکم کی تعمیل کرنے ہی جارہے تھے کہ ان پر وبا کا حملہ ہوا اور وہ جان بحق ہوگئے۔ انہوں نے وفات سے پہلے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو اپنا جانشین بنایا مگر طاعون نے پہلے حضرت معاذ بن جبل ؓ کے فرزند اور پھر انہیں بھی اپنی گرفت میں لیا۔ دونوںاللہ کو عزیز ہوگئے۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے حضرت عمر و بن عاصؓ کو اپنا قائم مقام نامزد کیا۔ انہوں نے امیر ہوتے ہی مسلمانوں کے سامنے تقریر کی اور کہا کہ وبا جب پھوٹتی ہے تو آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ تم لوگ الگ الگ ہوکر پہاڑوں میں چھپ جائو اور جانیں بچائو۔ یہ سن کر لوگ بھاگ بھاگ کر پہاڑوں میں جاکر چھپ گئے۔ چنانچہ بیماری کا زور کم پڑا اور کچھ دنوں کے اندر بالکل ختم ہوگیا۔
’طاعون عمواس ‘کی وبا مہینوں پھیلتی رہی۔ اکابرین صحابہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ حضرت معاذ بن جبل ؓ ، حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ، حضرت حارث بن ہشامؓ ، حضرت سہیل بن عمرو ؓ، حضرت عتبہ بن سہیلؓ سمیت سیکڑوں اعیان واشراف وبا میں انتقال کرگئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کی اولاد میں سے چالیس افراد جان بحق ہوگئے۔ حارث بن ہشام کے خاندان کے ستر افراد میں سے صرف چار زندہ بچ گئے۔مورخین کے مطابق اس وبا میں پچیس ہزار مسلمان شہید ہوگئے۔
حضرت عمروبن عاصؓ کی طرف سے لوگوں کو منتشر ہونے کا حکم دیناطبی لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی چیز کو ہم آجIsolation یا Social Distancingکہتے ہیں۔
ارشاد نبوی ﷺ میں آیا ہے کہ جہاں وباء ہو، وہاں سے باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ اس میں ایک حکمت یہ ہے کہ وبا والے علاقے سے اگر لوگ باہر جائیں تو ایک تو علاقے میں افراتفری مچ جائے گی۔ تندرست لوگ وباء سے متاثر لوگوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو ان کی خبر گیری نہیں ہوگی۔ دوسرا یہ کہ وبا کے مقام سے بھاگنے والے لوگوں میں متاثرین بھی ہوں گے جن کی وجہ سے دوسرے علاقوں کے لوگ بھی وبا کی گرفت میں آئیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ کوئی بیمار کسی تندرست شخص کے پاس ہرگز نہ جائے۔ نیز آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ممرض(مرض پیدا کرنے والا مریض) تندرست کے پاس واردنہ ہو ۔ ایک اور حدیث میں وباوالے علاقہ سے نکلنے والے شخص کے بھاگنے کو میدان جہاد سے فرار قرار دیا گیا ہے۔ اما م غزالی ؒکے بیان کے مطابق’’ وبا والے شہر کی متعفن ہوا سانس کے ذریعے جسم میں جاتی ہے اور دل پھیپھڑوں اور اندورنی جسم کے پردوں پر مضر اثرات ڈالتی ہے۔ اس نے وبا والے شہر سے نکلنے والے شخص کے بارے میں احتمال یہ ہے کہ وہ اندرونی طور پر بیماری سے متاثرہو‘‘۔ اس لئے طاعون زدہ شہر کے لوگوں کو حدیث میں تاکید کی گئی ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرکے اسی شہر میں قیام کریں۔ اگر وہ وبا کی زد میں آکر فوت ہوجائیں تو انہیں شہید کا درجہ ملے گا۔
متعدی بیماری کے مریض سے دور رہنے میں بھی اسوہ رسول ﷺ موجود ہے۔ قبیلہ ثقیف کے وفد میں ایک شخص جذامی تھا جو بیعت کرنے کیلئے آرہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں سنا تو کہلا بھیجا کہ تم وہی سے واپس لوٹ جائو، ہم نے تمہاری بیعت قبول کرلی۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ مجذوم سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک جذامی سے گفتگو فرمائی تو جذامی اور آپ ﷺ کے درمیان ایک یا دونیزے کا فاصلہ تھا۔ ارشادات رسول اللہ ﷺ کی تعمیل کا ثمرہ تھا کہ قرون وسطیٰ کے دوران مسلمانوں نے عالم اسلام کے مختلف شہروں میں جذامیوں کیلئے نہ صرف علیحدہ ہسپتال قائم کئے تھے بلکہ انہیں شہر سے باہر علیحدہ بستیوں میں بسایا جاتا تھا ۔ ان بستیوں کو ’’الحارہ’’ کہاجاتا تھا۔ ان میں ضروری سہولیات میسر ہوتی تھیں۔
حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جس علاقے میں وبا پھوٹی ہو وہاں مت جائو۔ ایک مرفوع روایت میں آیا ہے کہ وبا میں گھسے رہنا ہلاکت ہے۔ امام غزالی ؒ کا بیان ہے کہ جو لوگ ابھی شہر میں داخل نہیں ہوئے ہیں ،ان کیلئے یہی حکم ہے کہ وہ باہر رہیں کیوں کہ ابھی تک متعفن اور زہریلی ہوا ان پر اثر انداز نہیں ہوئی ہے۔ اما م موصوف یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر شہر میں مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے کوئی نہ ہو تو مریضوں کی اعانت کیلئے کچھ لوگوں کا شہر میں جانا مستحب قرار پاسکتا ہے۔ اس سے طبی عملے اور ان کے معاونین کی کارکردگی کا لائق تحسین ہونا معلوم ہوتا ہے۔
آفات و آلام اور بیماری سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی اور مستحسن ہے ۔ قرآن حکیم نے مسلمانوں کو اپنا بچائوکرنے کا حکم دیا ہے۔نمازِ خوف میں ہتھیاروں سے لیس رہنے کی تاکید کی ہے۔ دشمنوں سے مقابلہ کرنے کیلئے ہتھیار درست اور گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ مریض اور مسافر کیلئے یا پانی نہ ملنے کی صورت تیمم کی اجازت دی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو دشمنوں کی تعاقب سے بچنے کیلئے حکم دیا کہ میرے بندوں کو رات میں لیکر چل ۔ اس حکم میں ایک مصلحت یہ تھی کہ دشمن کو پتہ نہ لگے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے دشمنوں کی نظروں سے بچنے کیلئے غار ثور میں پناہ لی تھی۔
اسباب کو کلی طور پر ترک کرنا تو کل نہیں ہے۔ آپ ﷺ سے ایک شخص نے اونٹ کھلا چھوڑنے اور اللہ پر توکل کرنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اونٹ کے پائوں میں دونا لگائو اور توکل کر۔ ( باقی کل کے شمارے میں)
رابطہ : حدی پورہ،رفیع آباد
موبائل نمبر: 9797944035