سرینگر //کورونا وائرس کی دوسری لہر میں متاثر ہونے والے2لاکھ سے زائد افراد میں 10فیصد بچے شامل ہیں۔وادی میں ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر میں صحتیاب ہونے والے 60 بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہوگئے ہیںجن میں متواتر طور پر بے ہوش ہونا اور بھوک نہ لگنا شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا کہ قوائد و ضوابط پر عمل آوری ، ٹیکہ کاری اور بچوں کو سماجی اجتماعات سے دور رکھنے سے ممکنہ تیسری لہر کو کورونا جاسکتا ہے۔ جی بی پنتھ اسپتال میں شعبہ مراض اطفال کے سربراہ اورکورونا وائرس پر نظر رکھنی کیلئے بنائی گئی مشاورتی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر مظفر جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’کورونا وائرس کی تیسری ممکنہ لہر سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم ایس او پیز پر عمل کے علاوہ سماجی دوری کا اہتمام کریں‘‘۔انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکہ کاری بھی وائرس کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی لہر میں عمررسیدہ افراد ، دوسری لہر میں نوجوان نسل اور انہی تجربات کی بنیاد پر تیسری لہر کے دوران زیادہ بچے متاثر ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے حالانکہ یہ غلط بھی ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر مظفر جان نے بتایا کہ ایک سال تک جاری رہنے والے پہلے لہر میں ایک لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے لیکن ان میں صرف 10فیصد بچے موجود تھے جبکہ دوسری لہر صرف 4ماہ تک جاری رہی لیکن چار ماہ میں 2لاکھ سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہوئے تاہم وائرس سے متاثر ہونے والے بچوں کی شرح 10فیصد ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی لہر کے دوران متاثر ہونے والے بچوں میں12سے 18سال کے 60بچے ایسے تھے جو وائرس سے صحتیاب ہونے کے بعد مختلف بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 4ماہ میں بھی60بچے صحتیاب ہونے کے بعد مختلف بیماریوںمیں مثلاً لگاتار بے ہوش ہوجانا اور بھوک نہ لگتا جیسی بیماریاں شامل ہیں، سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو ممکنہ کورونا وائرس کی تیسری لہر سے بچانے کیلئے ایس او پیز پر عمل او سماجی اجتماعات سے دوری اختیار کرنا لازمی ہے۔ڈاکٹر مظفر نے بتایا کہ3دنوں سے زیادہ رہنے والا بخار، سانس لینے میں تکلیف، جسم میں آکسیجن کی مقدار 95فیصد سے کم ہونا، کھانہ پینا چھوڑ دینا اور بے ہوش ہوجانا بچوں میں کورونا وائرس کی موجودگی کی علامات ہیں اور ایسے بچوں کو فوراً علیحدہ کرکے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہئے۔ جموں و کشمیر سرکار کی جانب سے کورونا وائرس سے بچائو کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ایم ایس کھورو نے کہا کہ کورونا وائرس کی ممکنہ تیسری لہر میں وائرس سے متاثر ہونے کے امکانی گروپوں میں بچے سرفہرست ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ تیسری لہر کو روکنے کیلئے سرکار کو ایک خصوصی رپورٹ سونپی گئی ہے اور سرکاری رپورٹ پر عمل پیرا ہے‘‘۔
۔5ویں دن بھی 150سے زیادہ معاملات
۔166متاثر، کشمیر میں 7دنوں کے بعد ایک فوت، مجموعی تعداد 4008
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں مسلسل 5ویں دن بھی کورونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد150سے زیادہ رہی۔ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 46ہزار 488ٹیسٹ کئے گئے جن میں 12مسافروں سمیت 166افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 25ہزار 419ہوگئی ہے۔ اس دوران کشمیر صوبے میں 7دنوں کے بعد ایک اور شخص وائرس سے فوت ہوگیا ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 4408ہوگئی ہے۔ جموں و کشمیر میں منگل کو مزید 166افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں جن میں 18جموں جبکہ کشمیر میں 148افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر میں وائرس سے متاثر ہونے والے 148افراد میں 11بیرون ریاستوں اور ممالک سے سفر کرکے کشمیر پہنچے جبکہ دیگر 137مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر میں متاثر ہونے والے 148افراد میں سے سب سے زیادہ74افراد سرینگر شہر میں وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ بارہمولہ میں27،بڈگام میں 21، پلوامہ میں 6،کپوارہ میں 4،اننت ناگ میں 2،بانڈی پورہ میں10، گاندربل میں 2،کولگام میں 2 جبکہ شوپیان میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے۔ کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 2ہزار 396ہوگئی ہے۔ اس دوران صدر اسپتال سرینگر میں ایک شخص کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے نمونیا سے فوت ہوگیا ہے۔ کشمیر میں متوفین کی مجموعی تعداد بڑھکر 2242ہوگئی ہے ۔ جموں صوبے کے ادھمپور،کٹھوعہ،سانبہ، کشتواڑ اور ریاسی میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے جبکہ دیگر 5اضلاع میں 1سفر کرنے والے سمیت مزید 18افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جموں کے 18متاثرین میں جموں میں 4،راجوری میں 2،ڈوڈہ میں5،پونچھ میں 1 اور رام بن میں 6افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے میں مسلسل دوسرے دن بھی کوونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی اور اسطرح متوفین کی مجموعی تعداد 2166بنی ہوئی ہے۔
ملک میں31000 معاملات
۔24گھنٹوں میں350ہلاکتیں
یو این آئی
نئی دہلی// ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس (کووڈ 19) کے 30,941نئے معاملے سامنے آئے اور اس دوران صحت یاب ہونے والے لوگوں کی زیادہ رہنے سے ریکوری کی شرح بڑھ کر 97.53 فیصد ہوگئی ہے ۔ملک میں پچھلے کچھ دنوں سے کورونا کے نئے معاملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اور یہ تعداد 40 ہزار سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی تھی۔ پیر کو ملک میں 59 لاکھ 62 ہزار 286 افراد کو کورونا کی ویکسین لگائی گئی اور اب تک 64 کروڑ پانچ لاکھ 28 ہزار 644 افراد کو ویکسین دی جا چکی ہے ۔مرکزی وزارت صحت کی جانب سے منگل کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 30941 نئے کیسز کی آمد کے ساتھ متاثرہ افراد کی تعداد تین کروڑ 27 لاکھ 66 ہزار 880 ہو گئی ہے ۔ اس دوران 36 ہزار 275 مریضوں کی صحت یابی کے بعد اس وبا کو شکست دینے والے افراد کی کل تعداد تین کروڑ 19 لاکھ 59 ہزار 680 ہو گئی ہے ۔اسی عرصے میں فعال معاملے 5684 کم ہو کر تین لاکھ 70 ہزار 640 تک پہنچ گئے ہیں۔ اس دوران 350 مزید مریضوں کی موت کی وجہ سے اموات کی تعداد بڑھ کر 438560 ہو گئی ہے ۔