پیرس //فرانس کے محکمہ صحت کی عہدیدار نے متنبہ کیا ہے کہ سردیوں کا موسم نزدیک آتے ہی فرانس میں کورونا وائرس کی آٹھویں لہر کا آغاز ہوگیا ہے۔حکومت کے ’ویکسی نیشن اسٹریٹجک بورڈ‘ کی رکن بریگٹ آٹران نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہاں، ہم کورونا کی آٹھویں لہر میں داخل ہو چکے ہیں، تمام عوامل کورونا کیسز میں اضافے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں‘۔فرانس میں کورونا کیسز کے تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 45 ہزار 361 کیسز کے ساتھ ملک میں 7 روز کی اوسط شرح 2 اگست کے بعد سے بلند ترین سطح کو پہنچ گئی ہے۔فرانس کے ہسپتالوں میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی کْل تعداد 15 ہزار 166 ہوچکی ہے جبکہ ہسپتالوں میں موجود انتہائی نگہداشت والے یونٹ میں کورونا مریضوں کی تعداد 843 ہوگئی ہے جو کہ اگست کے آخر سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق فرانس میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد اس وقت ایک لاکھ 51 ہزار 500 سے زائد ہے۔ادھر نیوزی لینڈ سال کے اختتام سے پہلے کووڈ-19 وائرس کی ایک اور لہر کی زد میں آ سکتا ہے ۔نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق پروفیسر مائیکل پلانک نے شہریوں سے کہا کہ اگر ان کے پاس بوسٹر ڈوز نہیں ہے تو لے لیں۔ انہوں نے جرمنی، ڈنمارک، بیلجیئم اور برطانیہ جیسے یورپی ممالک میں کووڈ-19 کے بڑھتے ہوئے معاملوں اور ہسپتالوں میں داخل ہونے کو ایک آنے والی وبائی لہر کی مثال کے طور پر بتایا۔انہوں نے مستقبل میں ایک اور لہر کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے لیے کمزور قوت مدافعت اور نئے امیکرون کی ذیلی قسم بی کیو.1.1، ایک بی اے .5 ڈیسنڈنٹ اور ایک اور ذیلی قسم، بی اے .2.75.2 جیسے عوامل کو جوڑ کر دیکھا جاسکتا ہے ۔نیوزی لینڈ ہیرالڈ نے مسٹر پلانک کے حوالے سے کہا کہ “جو کچھ نارتھ ہیمپشائر میں ہوا اس کے ساتھ میں یہاں کچھ ایسا ہی ہونے کی توقع کرتا ہوں – شاید چند ہفتوں میں”۔