’’کورونا وائرس‘‘ نے دنیا میںقہر برپا کر دیاہے ۔طبی نظام بُری طرح سے ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ دنیا کے طاقت ور ممالک میںوینٹی لیٹرس اورآئی سی یوز کی کمی نے دنیا کوپریشان کر دیا ہے۔جن ممالک کے پا س دنیاکو ختم کر دینے والے مہلک ہتھیار موجود ہیں، اُن م کا معمولی ویکسین اور دوائی کے لئے آج دنیا کے سامنے گڑگڑانا بھی ایک عبرتناک معاملہ بن چکا ہے ۔ آئے روز ’’وائرس‘‘سے لوگوں کے متاثر ہونے کی تعداد نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ اس کی وجہ سے اموات کی شرح میں بھی ہوش رُبا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ شاید ہی دنیائے انسانیت نے کبھی یہ بھی سوچا تھا کہ نوع انسان کو عموماً اور ترقی پزیر ممالک کو خصوصاً ان حالات سے گُزرنا پڑے گا۔ آج حال یہ ہے کہ ساری دنیا جیل خانے میں تبدیل ہو گئی ہے ۔دنیا کی بڑی بڑی عالمی طاقتیں بے بس ولاچار ہو گئیں ہیں ۔دنیا میں بڑی بڑی معیشتوں کا دم بھرنے والے ممالک کسمپرسی کے عالم میں ہیں ۔بم و بارود کے خزانوں کے مالک اس وبائی بیماری کے سامنے عملاً سرنگوں ہو چکے ہیں۔سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر دنیا کے بڑے بڑے حکمران بے بسوںاور لاچاروں کی طرح بلکتے دیکھے جا رہے ہیں،کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کس طرح اس وائرس کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی جائے۔دنیا آج حقیقت میں ’’النفسی النفسی‘‘ کے عالم میں ہے، ہر ایک کو اپنی ہی جان بچانے کی پڑی ہے۔مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’کورونا‘‘ نے عالمی طاقتوں کو ’’کلین بولڈ‘‘ کر کے رکھ دیا ہے ۔ دنیا میں تا دم تحریر اس وبائی بیماری سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہوچکی ہے ،اٹھارہ لاکھ سے زائد لوگ اس کی زد میں آچکے ہیں ۔ جن میں ہزاروں کی تعداد میں موت اور حیات کی جنگ لڑرہے ہیں۔ عوام الناس پریشانیوں میں ہی نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضروریات و سہولیات کے لئے ترس رہے ہیں۔ایسے میںسماجی تنظیموں اور اداروں کی مہربانیاں ہیں جو وہ اپنی زندگی کو خطروں میں ڈال کر انسانیت کو بچانے کے لئے ہر دم فرنٹ لائن پہ رہتے ہیں ۔
ابھی تک اس بیماری نے اُن ہی ممالک کو زیادہ اپنی لپیٹ میںلیا جہاں کا طبی نظام باقی دنیا سے بہترین مانا جاتا ہے ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ دنیا کو اس طرح کی وبائی بیماری کے پھیلنے کی خبر نہ تھی بلکہ وقتاً فوقتاً دنیاکے سائنس دان وبائی امراض سے دنیا کو آگاہ کرتے رہتے تھے جس کی مثال پاکستان کے ایک معروف صحافی نے اپنے ایک مضمون میں بھی دی ہے، ان کا کہنا ہے: ’’ایک امریکی جریدے ’’کلنیکل مائیکروبا ئیولوجی ریویو‘‘کے اا؍کتوبر 2002ء کے شمارے میں شایع ہونے والے ایک تحقیقی مضمون میں 13سال قبل پانچ سائنسدانوں نے دنیا کو کورونا وائرس کے بارے میں خبردار کیا ہے ۔یہ جریدہ امریکن سوسائٹی فار مائیکرو بائیولوجی کے زیر اہتمام شائع ہوتا ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ کچھ سال کے بعد امریکن تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن نے 2012ء میں ایک رپورٹ شائع کی اور بتایا کہــ مستقبل میں امریکہ کے لئے بڑا خطرہ دہشت گردی نہیں بلکہ ایک عالمی وبا بنے گی جو امریکی معاشرے کے پورے طرز زندگی کو بدل کر رکھ دے گا، لہٰذا اس کی طرف توجہ کریں ۔‘‘
لیکن اس کے باوجود امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک نے انسانیت کے بچائو کے لئے کوئی قدم نہیں اُٹھایا ۔ اپنی دولت مہلک ہتھیاروں کے ذخیرے کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک کو بھی فروخت کرتا رہا بلکہ یوں کہا جا رہا ہے کہ دنیا میں حکمرانوں کی نا اہلی اب تاریخ کا ایک بد ترین حصہ بنتی جا رہی ہے۔ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف طرح طرح کی تنظیمیں اور قوانیں بنا کر دولت کے انبار خرچ کر دئیے گئے لیکن جس سے انسانوں کی جانیں بچ سکتی تھیں، جس سے انسانیت کو آرام مل سکتا تھا ،اس کی جانب کوئی سنجیدگی ظاہر نہیں کی گئی۔اس وقت دنیا میںسب سے زیادہ GDPکا حصہ ہتھیاروں پر ہی خرچ کیاجاتا ہے۔ مذکورہ بالا رپورٹ کے متعلق امریکی سائنس دانوں نے صدرٹرمپ سے گزارش کی کہ آپ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر سالانہ ایک سو ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں،ہمیں عالمی وبا کا توڑ تلاش کرنے کے لئے سالانہ صرف ایک عرب ڈالر دیا جا رہا ہے بلکہ ہمیں صرف ایک عرب ڈالر مزید دے دیں تاکہ صرف امریکہ کو ہی نہیں پوری دنیا کو اس نئی وبا سے محفوظ رکھ سکیں گے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس درخواست کو مسترد کرتے رہے ۔اسی کا سبب ہے کہ آج امریکہ کے حالات قابل رحم بن چکے ہیںاورتادم تحریرامریکہ میں20ہزار سے زائد اموات واقع ہوئی ہیں، بلکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے سبب امریکہ کی معیشت کو نہ صرف شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہے بلکہ اس کا سرمایا دارانہ نظام تباہ ہوجائے گا۔ جس کا سب سے بڑا فائدہ چین کو ملنے والا ہے۔ پاکستان کے ایک معروف کالم نگارو محقق شاہ نواز فاروقی کا ایک ویڈیو پیغام گزشتہ روز نظروں سے گزرا جس میں وہ پال کاموڈی (Paul Kommedy) کی اٹھارویں صدی میں لکھی گئی کتاب "the Rise and fall of the great powers"کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پال کاموڈی نے اپنے کتاب میں بتایا ہے کہ ’’دنیا کی چار بڑی طاقتیں یعنی خلافت عثمانیہ ،امریکہ ،برطانیہ اور سویت یونین اپنی معاشی کمزوریوں کی وجہ سے زوال کا شکار ہوئی ہیں ۔مثال دے کر سمجھاتے ہوئے کہا کہ ان طاقتوں کے جنگی اخراجات ان کی آمدنی سے بڑھ گئے تھے ۔ جب کسی ملک کے اخراجات آمدنی سے زیادہ ہو جائیں تو وہ زوال کاشکار ہو جاتا ہے اس لئے معاشیات انسانی زندگی کی بقا کے لئے ایک اہم اور فیصلہ کُن عنصر کے طور شامل ہے ۔یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کسی ملک کا آمدنی سے زیادہ خرچ کرنا عام لوگوں کے لئے کتنا بھیانک ہوتا ہے۔دنیا میں امریکہ ،اٹلی جیسے بہترین طبی نظام والے ممالک کا جب ہم آج حال دیکھتے ہیں تو برصغیر میں بسنے والے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے اور جب ہم بر صغیرمیں ہندوستان کی بات کرتے ہیں تو اس کا نمبر دنیا کے شعبہ صحت میں 142ہے دوسری اور 2019ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان ہتھیار درآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔اتنا ہی نہیں ہوتا تو ہم کہتے کہ ٹھیک ہے لیکن یہاں تشویش تب اور بڑھ جاتی جب ہمیں 2018ء میں global burden of diease studyجو کہ Medical journal"THE LANCET"میں 23مئی 2018میں شائع ہوئی ،جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کا شعبہ طب بنگلہ دیش ،سری لنکا اور بوٹان سے بھی پیچھے ہے تاہم پاکستان ،نیپال اور افغانستان سے اچھا ہے۔ بلکہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کا شعبہ صحت غریب ترین افریقی ممالک جن میں سوڈان ،نامیبیا،اور یمن سے بھی گیا گُزرا ہے۔‘‘ جہاں ایک طرف عالمی تنظیم صحت نے دنیا کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ہرملک اپنی GDPکا 4-5% شعبہ صحت پر خرچ کرے، وہیں ہندوستان آج محض% 1.4ہی خرچ کررہا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق پورے ہندوستان میںسرکاری ہسپتالوں میں 7,13,986بیڈ ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ 0.55بیڈایک ہزار کی آبادی کے لئے دستیاب ہیں۔۔اب اس وبائی مرض کے سبب آج ہندوستان میں 5سے 10فی صد تک کورونا کا شکار ہوئے مریضوں کو وینٹی لیٹرس کی ضرورت ہے۔24مارچ کو center for disease dynamics,economics and policy کے نام کے ایک امریکی تحقیقی ادارے نے کہا ہے کہ ہندوستان میںاس بیماری سے لڑنے کے لئے آئی سی یوز اور وینٹی لیٹریس کی کمی ہے۔ایک اور تحقیقی ادارے نے اس بات کانکشاف کیا ہے کہ اس وبائی بیماری سے لڑنے کے لئے ہندوستان کو دس لاکھ سے زائد وینٹی لیٹرس کی ضرورت پڑ سکتی ہے اورآج ہندوستان کے پاس چالیس ہزار کے قریب ہی وینٹی لیٹریس ہیں ۔یعنی اگر اس وبائی بیماری پر قابو نہیں پایا گیا تو 15مئی تک 22لاکھ افراد کورونا وائرس کا شکارہو سکتے ہیں اس کے لئے ایک لاکھ دس ہزار سے دو لاکھ بیس ہزار وینٹی لیٹرس کی ضرورت ہے ۔آپ خود اندازہ کریں کہ جہاں ایک ہزار مریضوں کے لئے 0.55فی صد بیڈ دستیاب ہوںاور ایک ارب تیس کڑوڑ کی آبادی کے لئے پچیس سے تیس ہزار وینٹی لیٹرس ہوں وہاں کا حال کیا ہوگا۔جب ہم وادی کشمیر کی بات کرتے ہیں تو اس وقت ’’شعبہ صحت‘‘ کی ’’اپنی صحت‘‘نازک حالات میں وینٹی لیٹر پر ہے۔ یہاںکی 70لاکھ کے قریب آبادی ہے اور یہاں محض 97وینٹی لیٹرس ہیں جن کی مدد سے کورونا وائرس سے متاثر افراد کا علاج کیا جارہا ہے ۔ وینٹی لیٹریس تو دور کی بات ہے۔ گذشتہ ایام کے دوران میڈیائی خبروں کے مطابق شعبہ طب سے وابستہ افراد کا کہنا تھا کہ ہمیں N95ماسکس کے بدلے سادہ ماسک فراہم کی گئی ہیں،ایک سینی ٹائزر عملہ سے وابستہ 14افراد کواستعمال کرنے کے لیے ملتا ہے۔
ایسی نازک صوتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی عوام کے لئے بُنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ خصوصاً میڈیا کو چاہیے کہ ملک میں شعبہ صحت کی حالت زار کا اصل نقشہ قوم کے سامنے رکھیں ،لیڈروں اور حکومتوں سے ان اہم مسائل پر پوچھیں تب جا کر ملک ترقی کر سکتا ہے، انسانیت بچ سکتی ہے ۔جہاں غریب عوام بھوکھے پیٹ سوئیں ،جہاں لوگوں کے امراض کی تشخیص کے لئے وسائل نہ ہوں ،وہاں میڈیا کو اس کے برعکس پروپگنڈہ کرنا زیب نہیں دیتا۔ ہمیںتو اس بات کا خوف ہے کہ کہیں تاریخ دانوں کو یہ نہ لکھنا پڑے کہ فلاں وقت میں فلاں قوم وینٹی لیٹرس اور آئی سی یوز کی کمی کے سبب دنیا سے فنا ہو گئی۔ اللہ ایسا نہ کرے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت وقت سنجیدگی سے ان اہم مسائل کو لے ۔حکومتیں تو آنی جانی ہیں، قوانین بھی بنیں اور ٹوٹیں گے لیکن خدا را کسی قوم کو اپنے مفادات کی خاطر اپنی سیاست کا شکار بنا کر تباہی کے گھاٹ نہ اُتارا جائے،بلکہ خلوص نیت سے بلالحاظ مذہب و ملت انسانیت کو بچانے کے لئے سرمایہ کو صحیح طور سے خرچ کیا جائے۔آج دنیا کے پاس بم و بارود کے خزانے بھرے پڑے ہیں، کیا اس سے انسانیت کو آج بچا پائیں گے؟ نہیں، ہرگز نہیں،بلکہ حکمرانوں میں مثبت سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بنی نوع انسان کو تعصب وعناد کی وجہ سے سستے داموں اپنی جان نہ گنوانی پڑی۔
رابطہ :[email protected]