ڈوڈہ // کرونا وائرس کی دوسری لہر سے ملکی و یوٹی کے متعدد اضلاع میں ایمرجنسی صورتحال قائم ہوئی ہے وہیں ڈوڈہ کے بیشتر علاقوں میں اسمگلر اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگلات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہے ہیں۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے بھدرواہ، ٹھاٹھری، بھلیسہ و گندنہ سے کئی لوگوں نے کہا کہ سبز سونے کا ناجائز کٹاؤ جاری ہے اور محکمہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔چرالہ رینج کے کاہرہ سے ایک وفد زیر قیادت بابر احمد نے کہا کہ کورونا وائرس کے اس بحران کے دوران جنگلات اسمگلروں نے سبز سونے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ متعدد ضلع انتظامیہ نے مکینکل کٹروں پر پابندی عائد کی لیکن زمینی سطح پر ان احکامات کو لاگو نہیں کیا گیا۔شاہ محمد نامی ایک شخص نے کہا کہ کمپارٹمنٹ 5،6،7 میں جنگلات کا جائزہ کٹاؤ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگل اسمگلر محکمہ کے ساتھ مل کر سبز سونے کو لوٹ رہے ہیں۔وفد میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ جب بھی ان اسمگلروں کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات نے آج تک کسی بھی اسمگلر کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے جنگلات تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ جب بھی غیر قانونی طور پر نکالی گئی عمارتی لکڑی ضبط کرتا ہے پھر بناء کارروائی کے بند کمروں میں بیٹھ کر معاملہ نپٹا دیتے ہیں۔مقامی لوگوں نے اعلیٰ حکام سے جنگل اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے و جنگلات کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ضمن میں جب ڈی ایف او بھدرواہ چندر شیکھر سے رابطہ کیا تو انہوں نے یقین دلایا کہ ان ملحقہ علاقوں میں خصوصی ٹیمیں روانہ کرکے رپورٹ طلب کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کوؤڈ کا بحران چلتے ہوتے ہی اسمگلر نے جنگلات کو نقصان پہنچانے کا کام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے سیول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ جنگلات کے تحفظ کیلئے آگے آئیں اور اسمگلروں کو بے نقاب کرنے میں محکمہ کو تعاون فراہم کریں۔