نئی دہلی// ملک میں کورونا وائرس کووڈ۔19 سے ٹھیک ہونے والے مریضوں کی تعداد اب چار لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ٹھیک ہونے والے مریضوں کی شرح بڑھ کر 60.77 ہوگئی ہے ۔وزارت صحت وخاندانی فلاح وبہبود نے اتوار کو بتایا کہ ملک میں فی الحال کورونا انفیکشن کے 2,44,814 معاملے ہیں۔ 4,09,082 کورونا سے متاثر مریض اب پوری طرح ٹھیک ہوچکے ہیں جس سے انفیکشن سے ٹھیک ہونے والوں کی شرح 60.77 فیصد ہوگئی ہے ۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 14,856 کورونا سے متاثر مریض ٹھیک ہوگئے ہیں۔ انفیکشن سے ٹھیک ہونے والے معاملوں کا تناسب بڑھ کر اب 1,64, 268ہوگیا ہے ۔ حالانکہ گزشتہ تین دنوں سے ملک میں روزانہ 20,000 ہزار سے زیادہ لوگ کورونا سے متاثر ہورہے ہیں۔کورونا انفیکشن کے مریضوں کی جانچ کرنے والے لیبوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے بعد لیبوں کی تعداد 1,100 ہوگئی ہے جس سے نمونوں کی جانچ کی رفتار میں تیزی آئی ہے ۔ ملک میں اب تک 97,89,066 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے ۔ملک میں سب سے زیادہ 85.9 فیصد ٹھیک ہونے والے مریضوں کی شرح چنڈی گڑھ کی ہے ۔
ملیریا ویکسین کے استعمال سے اموات میں کوئی کمی نہیں ہوئی
عالمی ادارئہ صحت نے ٹرائل بند کر دیا
سرینگر//عالمی ادارئہ صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ملیریا کی دوائی ہائیڈروآکسی کلوروکوئن اور ایچ آئی وی کی دوا لوپیناویر/رٹوناویر کا اسپتالوں میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے ٹرائل ٹیسٹ بند کیا جا رہا ہے، چونکہ ان کے استعمال سے اموات میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی۔یہ ناکامی ایسے میں سامنے آئی ہے جب آج ہی کے دن عالمی سطح پر پہلی بار 200000 سے کرونا کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ ادارے نے بتایا ہے صرف امریکہ میں 512326 نئے کیسز سامنے آئے، جو کل تعداد کے ایک چوتھائی سے زیادہ ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے بیان کے مطابق، ان عبوری نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری دوائیوں کے مقابلے میں ہائیڈروآکسی کلوروکوئن اور لوپیناویر/رٹوناویر اسپتال میں داخل مریضوں کی اموات میں کمی نہیں لاتیں۔ تجربہ کرنے والے معالج فوری طور پر ان کا استعمال بند کر دیں گے۔ادارے کی سرپرستی میں ان دوائوں کا مختلف ملکوں میں ٹیسٹ ٹرائل جاری تھا۔ادارے نے کہا ہے کہ اس فیصلے کی سفارش تجربہ کرنے والی بین الاقوامی اسٹیرنگ کمیٹی نے کی ہے، جب کہ دیگر ادویات کا ٹیسٹ ٹرائل جاری ہے۔کرونا وائرس کے علاج کے حوالے سے عالمی ادارے کی دوسری ٹیم گلاڈ کی اینٹی وائرل دوائی، ریمڈیسیور کو آزما رہی ہے۔ یورپی کمشن نے جمعے کے دن ریمڈیسیور کے استعمال کی مشروط اجازت دے دی ہے۔
کرونا ویکسین کی تیاری ۔۔ آئی سی ایم آرکی وضاحت
نئی دہلی//ملک کے 12 اسپتالوں کے سربراہوں کو 15 اگست تک کووڈ۔19ویکسین لانچ کرنے سے متعلق اپنے مکتوب پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اس سارے عمل کو لال فیتہ شاہی سے بچانے کیلئے ایسا لکھا تھا۔آئی سی ایم آر نے اتوار کے روز کہا کہ سبھی میڈیکل اسپتالوں میں ایسے ٹسٹ کی سفارش کے لئے ضابطہ اخلاق کمیٹی ہے ۔ان کمیٹیوں کی میٹنگیں طے شدہ وقت پر ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں کووڈ 19 ویکسین کے انسانی ٹسٹ کی سفارش حاصل کرنے میں بلاوجہ تاخیر نہ ہو اسی بات کو دھیان میں رکھ کر سبھی کلینیکل ٹرائل سائٹس کے سربراہوں کو ایک خط لکھا گیا تھا۔گزشتہ 2 جولائی کو آئی سی ایم آر نے ویکسین کے ٹرائل کے لئے منتخب کردہ 12 کلینیکل سائٹس کے سربراہوں کو ایک خط لکھاتھا ، جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان بایوٹک انٹر نیشنل لمیٹیڈ کے ساتھ ملکر بنائی جارہی کووڈ 19 کے ویکسین کا کلینیکل ٹرائل کا فرسٹ ٹرائل کیا جارہاہے ۔ تمام کلینیکل ٹرائلز مکمل کرکے اس ویکسین کو 15 اگست تک لانچ کرنے کی تیاری ہے ۔ ہندوستان بائیوٹک اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے لگاتار کام کر رہا ہے ، لیکن اس کا حتمی نتیجہ اس منصوبے میں شامل سبھی کلینیکل ٹرائل سائٹس کے تعاون پر منحصر ہے ۔ کووڈ ۔19 کی وبا اور اس کی ویکسین لانچ کرنے کی ضرورت کے پیش نظر آپ سب کو یہ صلاح دی جاتی ہے کہ ویکسین لانچ کرنے کے کلینیکل ٹرائل کو شروع کرنے کے لئے تمام ضروری منظوری جلد حاصل کر لئے جائیں اوراس بات کو یقینی بنا یا جائے کہ اس کی آزمائش کیلئے خواہشمند افراد (رضاکاروں) کے رجسٹریشن کی شروعات 7 جولائی سے شروع ہو جائے ۔ اس منصوبے کو اونچے پیمانہ پر ترجیح دی جانی چاہئے اور کام مقررہ وقت کے مطابق مکمل کیے جائیں۔