کنگن//کنگن میں نالہ سندھ پر تعمیرکئے جارہے دو پل گزشتہ بارہ برس سے تشنہ تکمیل ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی کو عبور ومرور میں مشکلات درپیش ہیں۔اکہال کنگن میں حکومت نے سال 2008میں مقامی لوگوں کے مطالبے پرایک پل کی تعمیر کا سنگ بنیادرکھا۔مقامی لوگوں کے مطابق اکہال کنگن کے لوگوں کی دیرینہ مانگ تھی کہ یہاں ایک نیاپل تعمیر کیا جائے تاکہ علاقہ کی آبادی کو عبور ومرور میں حائل مشکلات دور ہوسکیں۔انہوں نے بتایا کہ اُس وقت کی حکومت نے لوگوں کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے پل کی تعمیر کاکام شروع کیا۔مقامی لوگوں نے کہا کہ بارہ برس گزر گئے لیکن تاحال پل کی تعمیرکاکام مکمل نہیں کیاگیا،جس کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال لوگوں سے وعدہ کیا گیا کہ پل کو دسمبر2020تک مکمل کرکے عوام کے نام وقف کیا جائے گالیکن وہ وعدہ بھی پورا نہیں کیاگیا۔لوگوں نے بتایا کہ اُن کو تحصیل ہیڈکوارٹر تک پہنچنے کیلئے گنہ ون یاپرنگ کاراستہ اختیار کرناپڑتاہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کی پل کی تعمیرکوفوری طور مکمل کیاجائے۔ادھرٹنگ چھترکنگن میں بھی نالہ سندھ پر پل کی تعمیرکاکام سال2009میں شروع کیا گیا لیکن گیارہ سال گزرنے کے باوجودابھی تک پل کی تعمیرمکمل نہ ہوسکی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے نالہ سندھ کو پار کرنے کیلئے خود ہی ایک عارضی پل تعمیرکیاہے لیکن اس پر چلنا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی مریض کو اسپتال لیجانا ہو ،تو اس کیلئے انہیں گنہ ون یا پرنگ کا راستہ اختیار کرناپڑتا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پل کی تعمیر کاکام فوری طور پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے تاکہ لوگ راحت کی سانس لے سکیں ۔رام واری گنڈ کے لوگوں نے بتایا کہ یہاں نالہ سندھ پر پل کی تعمیر کاکام 2018میں شروع کیا گیا اور اس کی تعمیر مکمل کرنے کیلئے اٹھارہ ماہ کاہدف مقرر کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ اس پل کی تعمیر کاکام کچھوے کی چال چل رہا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پل پر تیزی سے کام مکمل کیاجائے تاکہ علاقہ کے لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرناپڑے۔ادھراس پل کو تعمیرکررہے ٹھیکیدار نے بتایا کہ اس پل کی تعمیر میں ایک مکان مالک نے رکاوٹیں کھڑی کیں تھی جس کی وجہ سے کام میں دقتیں پیش آئیں لیکن اب پل کی تعمیر کاکام شدومد سے جاری ہے اور جلد ہی اسے مکمل کیاجائے گا۔