کٹھوعہ // ضلع کٹھوعہ کا سی ٹی ایم علاقہ اس وقت میدان جنگ میں تبدیل ہوا جب ہزاروں کی تعداد میں چناب ٹیکسٹائل مل کے مزدوروں نے جموں پٹھانکوٹ شاہراہ پر دھرنا دیا اور سرکاری گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی۔ اس دوران مظاہرین نے چناب ٹیکسٹائل مل کی جائیداد کو بھی نقصان پہنچایا ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ چناب ٹیکسٹائل مل کے پاس کروڑوں روپے امداد کے طور پر پی ایم ریلیف کئیر میں دینے کیلئے ہوتے ہیں مگر مزدوروں کی کام کی ادائیگی کیلئے مزدوری نہیں ہوتی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران جہاں پورا ملک بند ہے تو وہی کٹھوعہ چناب ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بند دروازے کے پیچھے کام کاج جاری تھا، جو قوانین کی خلاف ورزی بھی تھی اور پورے ماہ مزدور اپنی مزدوری کے کام کو بخوبی سے انجام دیتا رہا اور جب مزدوری کی ادائیگی کا وقت آیا تو چناب ٹیکسٹائل انڈسٹری کی جانب سے فقط 0 200 ہزار روپے ہی انکے ہاتھوں میں تھما دیئے گئے،جسکے باعث مزدور مشتعل ہوکر سڑکوں پر آ گئے اور چناب ٹیکسٹائل انڈسٹری کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے ۔ مُظاہرین نے فیکٹری اور فیکٹری کے سامان کو تہس نہس کردیا ۔اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔پولیس نے مظاہرین کو قابو کرنے کیلئے لاٹھی چارج بھی کیا ،جس سے چار پولیس اہلکار سمیت تین مظاہرین بھی زخمی ہوئے ہیں ۔بعدازاں ، ایس ایس پی کٹھوعہ شلیندر مشرہ جائے موقعہ پر پہنچ گئے ،جنھوں نے مظاہرین کو سمجھا بجھا کر یقین دہانی کرائی کہ مزدوروں کی بقایا ادائیگی کے لئے چناب ٹیکسٹائل انڈسٹری کے اعلیٰ حکام سے بات کی جائے گی اور مزدوروں کی بقایا مزدوری کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر مہمان نوازی کے لئے مشہور ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مزدور بھائی یہاں سے نہ چلے جائیں اور جیسے ہی حالات پٹری پر آئے تو یہاں ان مزدوروں کو دوبارہ کام مل جائے گا۔ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ مزدوروں کے تمام مسائل سی ٹی ایم کی انتظامیہ کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ ہم قانون کے مطابق یا اس سے بھی آگے ان کے لئے کچھ کرنا پڑے گا تو ہم کریں گے ۔تاہم ،انہوں نے کہا کہ قانون توڑنے والوں کے خلاف یقینی طور سے کاروائی ہوگی،جس کیلئے پولیس نے معاملہ درج کرکے مزید کاروائی شروع کر دی ہے۔