محتشم احتشام
پونچھ//ڈی ایم ایم ٹی پونچھ کی عدالت نے تھانہ سرنکوٹ کے زیرِ تفتیش ایف آئی آر نمبر 196/2025 میں نامزد ملزم محمد عباس کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ مقدمہ میں ملزم پر گھر میں غیر قانونی داخل ہونے، کمسن بچے کو ڈرانے اور دھمکانے، 70 ہزار روپے نقدی اور تقریباً 10 لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات چوری کرنے کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے تمام ریکارڈ، تحقیقاتی پیش رفت اور سرکاری استغاثہ کی مضبوط معروضات کو مدنظر رکھا۔سماعت کے دوران سرکاری وکیل (اے پی پی) اجے کمار سریں نے ضمانت کی شدید مخالفت کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم ایک عادی مجرم ہے اور مختلف پولیس اسٹیشنوں بشمول مینڈھر اور پونچھ میں متعدد چوری کے مقدمات میں ملوث پایا گیا ہے۔ عدالت کے سامنے پیش کی گئی پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم ایک شدید منشیات کا عادی ہے اور نشے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے چوریاں کرتا رہا ہے۔رپورٹ میں یہ اہم انکشاف بھی شامل تھا کہ پولیس حراست کے دوران ملزم نے نشے کے اثرات اور ذہنی بے چینی کے دوران لاک اپ سے فرار کی کوشش کی جس پر الگ FIR نمبر 230/2025 زیرِ دفعہ 262 BNS درج کی گئی۔ بعد ازاں اسے سرنکوٹ مارکیٹ سے دوبارہ گرفتار کیا گیا۔اے پی پی نے عدالت کو مزید آگاہ کیا کہ ملزم نے اپن درخواستِ ضمانت میں مجرمانہ سابقہ ریکارڈ چھپایا ہے، جو کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کوشل کمسر سرکار, 2025 SCC Online SC 1473 میں واضح طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے اسی نظیر کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کی نیت میں ‘‘بونافائیڈ کا فقدان’’ ہے، اس کے خلاف الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں، جبکہ ابھی تک لوٹی گئی رقم اور زیورات کی برآمدگی بھی باقی ہے۔عدالت نے کہا کہ ایسے حالات میں ملزم کے فرار ہونے، شواہد پر اثر انداز ہونے یا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کے خدشات واضح ہیں۔ لہٰذا عدالت نے ملزم کی ضمانت کو بے بنیاد اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے اے پی پی اجے کمار سریں نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ ضلع پونچھ میں جرائم کے انسداد کے لیے ایک مضبوط پیغام کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی جو سماج کے امن و امان کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔یہ فیصلہ نہ صرف جاری تفتیش کو تقویت دیتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے مجرموں کے لیے ایک واضح انتباہ بھی ہے کہ قانون ہرگز کسی نرمی کا متحمل نہیں ہوگا۔