کنگن// کلن گنڈ میں پینے کے پانی کی شدید قلت کے باعث لوگوں کو ندی نالوں کا گندہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں مہلک بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خدشہ لاحق ہے۔مقامی آبادی نے محکمہ جل شکتی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بابا پورہ کلن میں لاکھوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا فلٹریشن پلانٹ کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر آج تک چالو نہیں گیاہے جس کی وجہ سے ایک وسیع آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق محکمہ جل شکتی نے ایک وسیع آبادی کے لئے ایک ٹینکر کو پانی کی سپلائی کے لئے دستیاب رکھا ہے جو ناکافی ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ کلن میں 2015 میں تباہ کن سیلاب کی وجہ سے علاقے کا پرانا فلٹریشن پلانٹ بیکار ہوگیا تھا جس کو محکمہ نے کئی بار لاکھوں روپے سے مرمت کی لیکن اس کے بعد بھی فلٹریشن پلانٹ قابل استعمال نہیں ہے جس کے بعد بابا پورہ کلن میں 30لاکھ روپے کی لاگت سے نئے فلٹریشن پلانٹ پر کام 2015 میں شروع کیا گیا لیکن محکمہ جل شکتی اور اراضی مالک کے درمیان رسہ کشی کی وجہ سے فلٹریشن پلانٹ کو مکمل کرنے کے بعد بھی اس تک پانی کی سپلائی لانے کے لئے اراضی مالک کے درمیان ابھی تک معاملہ حل نہیں ہوا ہے۔ اراضی مالک کاکہنا ہے کہ فلٹریشن پلانٹ کی تعمیر کیلئے اس نے اراضی اس شرط پر دی کہ اسے سرکاری نوکری دی جائے جبکہ محکمہ کا کہنا کہ اس کو معاوضہ دیا جائے گا جس پر آج تک دونوں کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے جس کے نتیجے میں کلن کی ایک وسیع آبادی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب اس فلٹریشن پلانٹ کو تعمیر کیا گیا تو اس وقت محکمہ جل شکتی نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دیا کہ اس فلٹریشن پلانٹ تک پانی کی سپلائی کہا ںسے لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سکیم بیکار ہوگئی ہے جس کی بڑے پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہیے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ فلٹریشن پلانٹ تک پانی کی سپلائی لانا ممکن نہیں ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ دو سال سے لگاتار علاقے میں پینے کے پانی کو لیکر وہ پریشان ہیںمگر اس کے بعد بھی محکمہ ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے۔لوگوں نے بتایا کہ اگر علاقے میں کوئی بیماری پھوٹ پڑی تو اس کا ذمہ دار محکمہ جل شکتی ہوگا لوگوں نے مزید بتایا کہ اگر دو دونوں تک پانی کی سپلائی کو بحال نہیں کیا گیا تو وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے جس کی ذمہ داری محکمہ جل شکتی پر عائد ہوگا