جموں //جموں کشمیرکلریکل کیڈر کارڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے تین روز کے لئے کام چھوڑہڑتال کے سبب ریاست کے تما م دفاترمیں کام کاج ٹھپ رہا۔اس دوران کئی جگہو ںپر موجودہ وزیر خزانہ کے دئے گئے بیان پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے ۔ یہاں کارڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے جاری پریس بیان کے مطابق ریاست بھرمیں کلریکل کیڈر کے ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جا رہا ہے ہم بڑی مدت سے محو نالہ ہے کہ ہماری تنخواہوں میں تفادت دورکی جائے لیکن ساتویں پے کمیشن کے سفارشات کی منطوری پر موجودہ وزیر خزانہ سید الطاف بخاری کے کلریکل کیڈر کے برخلاف دئے گئے بیان کی وجہ سے اس سطح کے تمام ملازمین تشویش میں پڑ گئے ہیں کیوں کہ سابقہ ریاستی کابینہ کے وزیر خزانہ نے کلریکل کیڈر ملازمین کی تنخواہوں میں تفاوت کے لئے وعدہ بند تھے اور سرکار بھی کئی بار اس بارے میں یقین دہانی کر چکی ہے۔پانامہ چوک میں ملازمین کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے لیڈران نے کہا کہ موجودہ سرکار ملازمین کی ترقی کے لئے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھا رہی ہے جو قابل مذمت ہے انہوں مزید کہا کے کلریکل کیڈر کی تنخواہوں میں تفاوت کے پیش نظر ہائی کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکا ہے لیکن اس کے بر عکس بھی ہمارے لئے کوئی مثبت پالسی اپنانے میں سرکار خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہی ہے ا نہوں نے مزید کہا کہ کلریکل سطح کے ملازمین بڑی مشقت کے ساتھ کام کرتے ہیں اور دفاتر میں ان پر کچھ زیادہ ہی کام کا بوجھ پڑتا ہے اور سرکار ہمارے ساتھ بڑا بے رحمانہ سلوک کرنے پر تلی ہوئی ہے لیکن ہم بھی کمر بستہ ہو گئے ہیں کہ کسی بھی ضلع کے سرکاری دفتر میں کام کاج نہیں چلے گا اور جب تک نہ سرکار ہمارے اس مسلے کا حل نکالے گی تب تک ہڑتال ختم نہیں ہوگی۔جموں میں احتجاجی ملازمین کی سربراہی بابو حسین ملک ،روی سنگھ،نظیر احمد ، ببھارت بھوشن،انیل مہتا وغیرہ نے کی۔