پونچھ // ایک طرف اگرچہ ہندوپاک افواج میں حد متارکہ پر مختلف مقامات پر فائرنگ اور گولہ باری کاتبادلہ ہورہاہے تو دوسری جانب راہ ملن بس سروس پونچھ راولاکوٹ کے راستے چل رہی ہے ۔سپورٹس اسٹیڈیم پونچھ سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر روانہ ہوئی بس میں40 مسافر سوار تھے جوسبھی پونچھ میں رہ رہے اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد اپنے وطن لوٹ گئے ۔وہیںپاکستانی زیر انتظام کشمیر سے پونچھ پہنچی بس سے 27مسافرپہنچے جن میں سے15نئے مسافر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے راولاکوٹ سے یہاںاپنے رشتہ داروں سے ملاقات کو پہنچے جبکہ12 مسافر اُس پار رہ رہے رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد اپنے وطن لوٹ آئے۔ اسطرح اس بار کل 67مسافروں نے حدِ متارکہ کے آر پار کا سفر کیا۔سپورٹس سٹیڈیم پونچھ سے راولاکوٹ کو روانہ ہونے والی بس سے اپنے وطن لوٹ رہے فرید عباس صوفی نامی نوجوان نے بتایا کہ وہ35روز قبل پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے ضلع باغ سے پونچھ میں رہنے والے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے آئے جس دوران انہیں جموں کشمیر کے مختلف علاقوں کی سیر کا موقعہ ملا جس سے انہیںاس بات کا اندازہ ہوا کہ سرحدوں کے دونوں اطراف کے علاقہ بالکل ایک جیسے ہیں اوریہاں اور وہاں کا رہن سہن ،بول چال سب ایک ہے لیکن اگر دوریاں پیدا کی ہیں تووہ اس خونی لکیر نے دو حد متارکہ کو تقسیم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ مزید آسان بنایاجائے تاکہ وہ لوگ اپنے رشتہ داروں سے آسانی کے ساتھ ملاقات کر سکیں۔