میں ایک نوجوان ہونے کے ناطے یہ مضمون لکھ رہا ہے۔ میں آئے دن یہ بات سنتا رہتاہوں کہ نوجوان، قوم کے ستون ہوتے ہیںاور نوجوان ہی قوم کو اندھیروں سے نکال کر ثریا تک لے جاتے ہیں۔ بشرطیکہ اُن کو ایسے مواقع فراہم کئے جائیں، جن سے وہ منازل حاصل کر سکیں جس کے لئے اللہ نے ان کو طاقت اور فرطی کے زیورات سے نوازا ہے۔ جاپان، چین اور یورپ کے بہت سارے ممالک ایسے ہیں، جہاں نوجوانوں کی اہمیت کو سمجھ کرانہیں ایسے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں جن کو بروئے کار لاکر وہ ایسے ایسے حیران کن تجربات کرتے رہتے ہیں جو کسی نہ کسی لحاظ سے اتنے مو ثر اور مثبت ثابت ہوتے ہیںکہ نہ صرف اُن کے لئے بلکہ ملک کے لئے بھی فخر کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے نوجوان اطمینان سے زندگی گزارتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی آرام دہ اور فایدہ مندسامان مہیا کرتے ہیں۔گویا انہیں سیاسی ، سماجی اور اقتصادی طور پر موافق حالات فراہم ہوتے ہیں،جن کا وہ جتنا چاہے فایدہ اٹھا لیتے ہیںاور کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہیں۔اُن کے یہاں سماجی تفریق کا کوئی گمان نہیں، سیاسی افراتفری کا کوئی امکان نہیں، اقتصادی دیوالیہ پن کا خوف نہیںاور مذہبی جنونیت کا نام ونشان نہیںہوتا، اُن کے لئے ضرورت کی ہر راہ کھلی ہوتی ہے۔اُنہی سماجوں کا نوجوان دیریا بدیراپنی عقل کا مظاہرکرتا ہے ،گوہر دکھاتا ہے اور اپنے ملک و قوم کے لئے بہت کچھ کرتا ہے۔ اس کے برعکس کشمیر کا نوجوان ایسا سب کچھ نہ ہونے کے باعث کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
اس کی صبح دم گھٹنے سے شروع ہوتی ہے اور شام نا امیدی پرختم ہوجاتی ہے۔ اپنے اندر طاقت کا خزانہ ہونے کے باوجود وہ کوئی بھی راہ ڈھونڈنے میں ناکام ثابت ہوتاہے۔ دوسرے نوجوانوں کو دیکھ کر اسےراحت نہیں ملتی بلکہ وہ زیادہ اندھیروں میں گرتا چلا جاتا ہے۔ یہاں کچھ گنے چُنے نوجوانوں کے، ہر نوجوان اصل زندگی گزارنے سے محروم ہے۔ اس کے لئے اپنا وجود جہاں ایک عذاب ہوتا ہے وہیںوہ سماج کے لئے بھی ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں، جن کا ذکر آنے والی سطروں میں کیا جائے گا۔
سب سے پہلی وجہ سیاسی افراتفری: 1947 سے کشمیر ایک ایسے سیاسی دلدل میں پھنس چکا ہے، جس سے باہر نکلناآج بھی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ ہاں! یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت ساری جگہیں Geo-strategic کی حامل ہوتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے ممالک اس خطے پر چڑھ دوڑے اور ان کا ماضی، حال اور آنے والا مستقل پر برباد کرے۔ سیاست نے یہاں پر بہت سارے نوجوانوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا اور جو زندہ ہیں، وہ کسی بھی لحاظ زندہ نہیں ۔ یہاں ہر دن معصوم کا خون بہتا ہے۔ صبح سے لے کر شام تک ایک ہی خبر رہتی ہے کہ آج سرحد کے آر پار اتنے مرے۔ اِس حکمران نے کیا کہا اور اُس حکمران نے کیا جواب دیا۔ یہ سیاستدان کیا کرتا ہے اور وہ سیاست دان کیا کررہا ہے۔سیاست کی اس پلید فضا میں یہاں کےنوجوان کا ہر قدم اور ہر منزل سراب ثابت ہورہا ہے۔
دوسرا ہے کرپشن: یہاںکا سارا نظام کرپشن پر کھڑا ہے۔ ہر کوئی اس گندگی میں ملوث ہے۔ میں نے خود کئی بار اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ نیک کام کرنے کے لئے رشوت دینی پڑتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر نوجوان پر پڑتا ہے۔ وہ اپنی محنت سے کمانا چاہتا ہے اور اپنی جوانی کو نیک کاموں میں صَرف کرکے مثال قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے اندر طاقت کے جو دریابہتے ہیں،اُن سے وہ پیاسےکھیت سیراب کرنا چاہتا ہے مگر عر صہ ٔ دراز سے چلی آرہی صورتحال سے تویہ دریا خشک ہوتے جارہے ہیں۔ ایک نوجوان اب ٹھنڈا پڑچکا ہے۔ اس کی خون کی گرمی اب منجمندہوچکی ہے وہ نا اہلوں کو ان منصبوں پر فائز دیکھتا ہے، جن کے وہ اہل ہی نہیں ہوتےاور وہ خواب میں بھی اُن عہدوں پر پہنچ نہیں سکتے۔جس کے نتیجہ میں نوجوان کو محنت کرنا فضول کام دکھائی دے رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اگر محنت نہ کرےتوبھی بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے، اس لئے محنت کرنا اور اپنی ذہن کو کسی بھی ترقی یافتہ کام میںگھِسانے کا کیا مطلب!
تیسرا ہے سماجی نظام : ہمارے یہاں جو نوجوان کماتا ہے اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پیسے کے مقابلے میںتعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔ ایک پڑھا لکھا نوجوان اس موقع پر پریشان ہوجاتا ہے کیونکہ اس پر یہ بات غالب آجاتی ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد پیسہ کمانا ہے۔ فلاسفر، سکالر، دانا اور دیگر ایسی اشخاص جو عقل کا استعمال کرتے ہیں، ان کو پیسوں سے تولا جاتا ہے۔ شادی بھی اُسی کی ہوجاتی ہے جو کسی بھی طریقہ سے کماتا ہوں۔گویااس کی پڑھائی یا کوئی دوسرا کوئی ہنربے معنیٰ اور بے کار ہوجاتا ہے۔
چوتھا ہے مذہب : ہمارے یہاں مذہب ایک صاف ستھری زندگی گزارنے کے بجائے، ایک لڑائی کا نہ تھمنے والا سلسلہ بن گیا ہے۔ اسلام کا مقصد ہے کہ ایک ایسی زندگی گزاری جائے، جس میں مشکلات کے باوجود، ہمیشہ ایک پر اُمید مستقبل کی ضمانت ہو۔ مگر یہاںتوایسا کچھ نہیں ہے۔ یہاں کے زیادہ ترخطیبوںاور دین کے ٹھیکیداروں نے اسلام کو فروعی مسائل میں ایسا اُلجھا دیا ہے کہ اب اکثر لوگ نعوذ باللہ دین سے ہی دوری اختیار کر چکے ہیں۔ نوجوان اب نماز سے دور، اسلام کی اشاعت سے دور اور اخلاقی قدروں سے دوراور پرہیزگاری سے بہت دور جا چکے ہیں۔ دین کی لاکھوں تاویلات نے انہیں اصل بنیاد سے دور کیا ہے۔ ایک مقصد حیات نہ ہونے کے وجہ سے، نوجوان اب قدرتی مداخلت کے انتظار میں ہے۔ دنیا کے سارے ممالک، مسلمانوں کے بغیر، کسی نظام کے لئے جیتے اور مرتے ہیں۔ مگر کشمیر کے نوجوان، جن کی اکثریت مسلمانوں کی ہے، وہ ایک بہترین نظام ہونے کے باوجود، کسی بھی طرح اس سے جڑے ہوئے نہیں پاتے ہیں۔
پانچواں ہے بے روزگاری : ہمارے سماج میں جو بے روزگار ہے، اس کا جینا اور مرنا ایک جیسا ہے۔ ہر چیز یہاں پیسوں سے خریدی دی جاتی ہے۔ گھر، گاڑی، دوائیاں، زمین، پڑھائی، حج، زکواۃ، وغیرہ پیسوں سے ممکن ہے۔ اس کا غلط اثر نوجوانوں کے اذہان پر پڑا ہے۔ عقل مند اور با حیا پیسوں کی عدم موجودگی میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ وہ خود کے لئے، گھر والوں کے لئے اور پورے سماج کے لئے بوجھ ہے۔ اس بوجھ کو کچھ وقت کے لئے تو اٹھایا جاتا ہے، لیکن آخر کار صبر کا پیمانہ چھلک جاتا ہے اور اس کو نیچی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
آخری ہے ہمارا اپنا رویہ : ہم نے نوجوانوں کو پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھا ہے۔ ماں باپ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں پر بہت سارا پیسہ خرچ کیا ہے، تو اس کا صلہ بھی ملنا چاہیے۔ کسی حدتک وہ صحیح ہے، مگر یہ سوچ بہت حدتک ٹھیک نہیں ہے۔ ایک نوجوان اپنا پورا زور لگاتا ہے تاکہ وہ کامیاب زندگی گزار سکے۔ وہ گورنمنٹ اور نجی سیکٹر میں بھی بھر پور کوشش کرتا ہے کہ کہیں اس کے پیر جم جائے، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے اگر ایک چیز انسان کے موافق ہوتی ہے، تو ایک ہزار غیر مواقف ہوتی ہیں۔ تو ایسے میں ایسا راستہ چننا، جو ترقی کی طرف لے جائے، کافی دشوار ہے۔ ان مواقع پر ہم عقل پر پردہ ڈال کر، ایسا رویہ دکھاتے ہیں جو کسی بھی طور پر اطمینان بخش نہیں ہے۔ ہم نوجوانوں کو کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ ہم صرف ان سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں، ان کے لئے ستون بننے کا رول کھبی ادا نہیں کرتے۔
موجودہ صورتحال میں تو روشنی کی کوئی کرن تو نظر نہیں آرہی ہے، مگر پھر بھی ہم ٹنل کے اس پار اُس روشنی کو دیکھ سکتے ہیں، جو ہمیں جینے کی طاقت فراہم کرتا ہے۔ نوجوانوں کو ہم باتوں سے زیادہ دیر بہلا نہیں سکتے۔ ان کو معنی خیز زندگی گزارنے کے لئے ہر رنگ سے معاونت کرنی ہے۔ سب سے پہلا کام جو کرنے کا ہے وہ ہے سیاسی افراتفری سے کسی حدتک نجات دلانا۔ اس سانپ نے چڑھتی جوانیوں کو خاک میں ملا دیا۔ آئے دن کشمیر میں دو یا تین نوجوان ابدی نیند سوجاتے ہیں، جس سے پورا سماج متاثر ہوتا ہے،خاص کر نوجوان۔ اس کے علاوہ کشمیر میں وسائل کی کمی نہیں ہے۔ ان سب سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے افواہوں سے، دھمکیوں سے، خوف سے، وغیرہ نجات پانا ضروری ہے۔ اور جاتے جاتے یہاں کے ذہین لوگوں کو اس ضمن میں کلیدی رول ادا کرنا چاہیے۔ اگر ایک باپ کا بیٹا کماتا ہے، تو آپ دوسرے باپ کے بیٹے کے لئے بھی سامان مہیا کرسکتے ہیں۔ ایک باپ کے چار بیٹے ہیں، چاروں کل ملا کر تین لاکھ ایک مہینے میں کماتے ہیں مگر دوسری طرف سے ہمسایہ کے چار بیٹے پڑھے لکھے بےروزگارہیں تو کیا اس کی معاونت کرنا ہمارا حق نہیں ہے۔ Capitalist سوچ سے باہر آیئے اور اس خوبصورت زمین کو جہنم بننے سے بچایئے۔ اللہ ہمارا ناصر ہے۔
رابطہ۔7889346763
(مضمون نگار الھدیٰ کوچنگ سنٹر مصطفیٰ آباد عمر آباد، زینہ کوٹ سرینگر میں مدرس ہیں)