سید مصطفیٰ احمد
علم نور ہے، اس سے جہالت دور ہوتی ہے اور دوراندیشی کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ علم کی وجہ سے انسان گناہوں سے نفرت کرتا ہے اور کردار کی اعلیٰ مثال بننے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے حلال اور حرام میں فرق نمایاں ہوجاتی ہے۔ مگر جب موجودہ دور کے علم کی بات کی جائے، تو مندرجہ بالااوصاف کا ملنا محال ہوجاتا ہے۔ آج کے دور کا زیادہ تر علم جہالت کا شکار دکھائی دیتا ہےاور یہ رشوت خوری اور ذہنی کوفت کی آماجگاہ بن گیا ہے۔شائد اسی لئے اب طلباء پڑھائی سے جی چراتے ہیںاور انہیں اس علم سے سے ڈر لگتا ہے۔
اگر ہم اپنے کشمیر کی بات کریںتو غائرانہ جائزہ لینے پربخوبی معلوم ہوتا ہےکہ یہاں کی پڑھائی بس نام کی رہ گئی ہے ،نور کے بجائے اندھیرا دکھائی دیتی ہے۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کی لمبی قطاریں بے کاری کے شدید ترین عذاب میںروزگار کے اضطراب میںگم ہوچکی ہے۔ اپنی زندگیوں کے قیمتی برسوں کو علم حاصل کرنے میں صرف کرنے کے بعد محض اپنا پیٹ پالنے کے لائق نہیں رہے ہیں،کالجوں اور یونیورسٹیوں سے حاصل کردہ ڈگریوں کو لے کر دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ گویا نہ صرف خود کے لئے،بلکہ گھر والوں کے ساتھ ساتھ سماج کے لئے بھی ناقابل برداشت بوجھ بن کے رہ گئے ہیں۔ بے روز گاری نے ان کی زندگیوں کو تلخ بناکے رکھ دیا ہے۔ اور بیشتر تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈراب اپنی زندگیوں سے ہی تنگ آچکے ہیں۔اس صورت حال میں جب اُنہیںاُمید کی کوئی کرن ہی دکھائی نہیں دیتی،تو وہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر تنزل کا شکار ہورہے ہیں۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے یہاںکا درس و تدریس تواتر کے ساتھ روایتی انداز میں ہی جاری ہے۔جبکہ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ یہ زمانہ مختلف قسم کی تعلیم مانگتا ہے۔ اب وہ فرسودہ اصول قابل قبول نہیںہوتے،جو ایک زمانے میں ہر جگہ پڑھائےجاتے تھے۔ ,Artificial Intelligence، Machine Learning، Cloud Computing، وغیرہ کے زمانے میں پتھر کے زمانے کی باتیں درکار نہیں آسکتی ہیں۔سائنس و ٹیکنالوجی کے انقلاب نے بہت کچھ تبدیل کردیا ہے۔ تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ اب نہ وہ پہلے جیسی محبتیں باقی ر ہیں اور نہ ہی رشتوں میں وہ خلوص جو انسانی معاشرتی زندگی کا اصل اساس تھا۔وقت کے دھارے کے ساتھ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح تعلیم جیسا مقدس پیشہ بھی اخلاقی پستی کا شکار ہوگیا ہے، معلم اور متعلم دونوں ہی کے لیے اب صرف اپنی ذات ہی سب سے زیادہ عزیز ہے، استاد اور شاگرد کے درمیان صدیوں پرانی جو بے لوث اور پُرخلوص رشتہ دیکھنے کو ملتا تھا، اب وہ کافی حد تک ماند پڑچکا ہے۔ مزید براں ہمارے نظام تعلیم میں سب سے زیادہ رشوت خوری پنپ چکی ہے۔ امتحانی پرچوں کا قبل از امتحان ہی طلباء تک پہنچناتک عام ہوچکا ہے۔ امتحانی ہالوں میںدھوکہ دہی کا بازار بھی گرم ہے۔ ایک طالب علم کے بدلے دوسرے طالب علم کا امتحان میں حصہ لینا بھی کوئی مشکل کام نہیں رہا ہے۔اور اس طرح کی بہت ساری خرابیوں نے بھی ہمارے تعلیم نظام پر بد نما دھبے لگا دیئے ہیں۔ مغربی ممالک میں نظام تعلیم کو زیادہ سے زیادہ شفاف رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر ہمارے یہاں اسی ڈپارٹمنٹ میں کافی گندگی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا مستقبل اب تاریکیوں میں گرتا جارہا ہےاور اگر یہ سلسلہ ایسا ہی چلتا رہا ، تو مستقبل میں علم کے نام پر جہالت کا ہی ہر جگہ بول بالا ہوگا۔ اس لئے تعلیمی نظام کو گندی مچھلیوں سے صاف کرنا نہایت ضروری ہے۔ وقت کے ساتھ وہ ممالک چلتے ہیں جن کے یہاں تعلیم اعلیٰ معیار کی ہوں۔ جہاں قابل طلباء کو ہی ڈاکٹر، اساتذہ، انجینئر، سیاست دان،وغیرہ کو ہی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں ۔ یہی ممالک اس دنیا میں عزت پاتے ہیں اور ترقی کے اونچے منازل طے کرتے کرتے دوسرے سیاروں پر بھی زندگی کے آثار ڈھونڈنے میں بھی سرگرم ہوجاتے ہیں۔ ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ جو جس جگہ پر کام کررہا ہے، وہ اس کام کے لئے موزوں نہیں ہے۔ اب وقت کی ضرورت ہے کہ نظام تعلیم کو موجودہ زمانے کے حالات کے مطابق ڈھالا جائے۔ اس میں شفافیت پر زیادہ توجہ دی جائے۔ طلباء کے کردار پر کام کیا جائے۔ ان کی زندگیوں میں سکون فراہم کرنے کی کوشش کئی جائے۔ بے روزگاروں کی لمبی قطاروں کو معیاری تعلیم سے روزگار فراہم کئے جائیں۔ پڑھائی کو ایک کھیل کی طرح حاصل کیا جائے۔ تعلیم کو ذہنی کوفت کے بجائے ایک نعمت عظمیٰ کی طرح حاصل کیا جائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سب کو حقیقی علم سے روشناس کرائے۔
(حاجی باغ، بڈگام )
[email protected]