اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا ہے کہ موجودہ دور ترقی کی شاہراہ پر برق رفتاری سے گامزن ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی اپنے عروج پر ہے اور انسان فضاء سے پرواز کرکے خلاء کی نا معلوم وسعتوں میں محو سفرہے۔ غرض ترقی کے میدان میں انسان نے اپنا لوہا منوایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائینس اور ٹیکنالوجی کی بدولت انسان زمین کی اتھاہ گہرایئوں میں قدمِ رنجہ ہوتے ہوئے خُدا وندِ متعال کے سر بستہ رازوں کوفاش کرنے میں محو ہے جسکے چلتے آئے روز نت نئی محیرُ العقول ایجادات معرضِ وجود میں آتی ہیں۔ ربِ ذو الجلال کی تخلیق کردہ یہ وسیع و عریض کائنات ترقی کے رموٹ کنٹرول میں سمٹ چکی ہے۔ حق یہ ہے کہ دُنیائے انسانیت کو اس فقیدُ المثال کامیابی پر فخر اور ناز ہونا چاہیے لیکن دنیا پر ایک نظر ڈالنے سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ایک طرف سے انسان عرش کی بُلندیوںکو چھونے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے تودوسری طرف سے مخملی فرش کی طرح ی بنائی گئی سر زمین جنگ و جنوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ جس خوبصورت اور وسیع و عریض سر زمین کی تخلیق میںربُ الر حمٰن کی کاری گری ٹپکتی ہے، وہ سر زمین آلود گیوں کے دلدل میں ہچکولے کھا رہی ہے۔ جہاں ایک طرف سے انسان ترقی کے دریا میں غوطہ زن ہے، وہیں دوسری طرف یمین و یسار میں ما حولیاتی بحران کی سونامی نے انسانی زندگی کا قافیہ حیات تنگ کیا ہوا ہے۔ ہر چند کہ برق رفتا ترقی کے اس دور میں انسانیت کو ما حولیاتی تغیر کا پیچیدہ مسئلہ در پیش ہے اورعالمی سطح کے ماہرینِ ما حولیات اس غیر معمولی مسلے کو پوری انسانیت کے لئے نہا یت گھمبیر مسئلہ قرار دیتے ہیں بلکہ کائنات میں بسنے والے تمام لوگوں کے لئے یہ معاملہ سمِ قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔
اس عندیہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ما حولیات کے حوالے سے مختلف جگہوں پر بڑے بڑ ے سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں۔طرفہ تما شا یہ ہے کہ خطیر رقم خرچ کرنے کے با وجود یہ سیمینار اور کا نفر نسیں گفتند، نشستند اور بر خا ستند ثا بت ہو رہی ہیں۔ آبی ذخایئر کا سُکڑ جانا، حیاتیاتی نظام کا بگڑ جاناسر سبز جنگلوں کا بے دریغ صفا یا، قابل کاشت زمین پر تیزی سے ہورہی تعمیرات ،صنعتی انقلاب اور موسم کا عجیب تغیر و تبدل اس بات کا واضح اور ٹھوس ثبوت ہے کہ ما حول نے ایک کوڑا دان کی شکل اختیار کرلی ہے جسکے چلتے عالمی سطح پر ماحولیاتی بحران مو ضوعِ بحث بن چکا ہے۔ عالمی حدّت Global warming کے کالے بادل اُفق پر منڈلارہے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس جرم میں انفر ادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح پر ہم سب شراکت دار ہیں۔ نت نویلی دُلہن کی طرح سجائی گئی اس خو بصورت سر زمین کو جہنم زار بنانے میں ہمارا ایک اہم رول ہے۔ اپنے آپ کو مہذب اور ایڈوانسڈ ممالک کہلانے والے ایک طرف سے بموں،میزا ئیلوں، تیغ و تفنگ گن گرج ، کار خانوں، جوہری تجربات ،ہتھیا روں اور مشینوںسے سر سبزوادیوں کو لالہ زار بنا نے میں ہمہ تن مصروف ہیںتو دوسری طرف قابل کاشت زمین،جنگل،پہاڑ دریا،صحرا ،مختلف النّوع جاندار، پرندے اور حشراتُ الارض عام انسان کی مداخلت اور مخاصمت کی وجہ سے فناء کے گھاٹ اُتر رہے ہیں۔آلودگیوں کے طوفان میں پورے عالم میں ایک ہا ہاکا مچی ہوئی ہے۔ فضائی آلودگی،آبی آلودگی ،زمینی آلودگی، صوتی آلودگی، سمندری آلودگی،شعائی آلودگی کی وجہ سے پوری کائنات میں قیامتِ صغرا بپا ہوئی ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق فضائی آلودگی ہر سال اسی لاکھ اموات کا باعث بنتی ہے۔ جھلسا دینے والی گرمی کی وجہ سے فصلیں تباہ ہورہی ہیں، سمندر اور دریا خشک ہوتے جا رہے ہیں، فلک بوس پہاڑ صفحہ ہستی سے مٹا ئے جارہے ہیں۔ اور تو اور مشینوں اور کارخانوں نے فضاء کا حال بے حال کردیا ہے۔ زمین کے چپے چپے پر عفونت اور کثافت کے ڈھیر ہیں۔ ماحولیاتی بحران کے گھمبیر اور تشویشناک معاملے کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھنے کے لئے اسلام نے ایک معتدل و منضبط نظام پہلے ہی مرّتب کیا ہوا ہے۔
مفّسرین ِ قرآن بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں تین سو سے زائد آیاتِ بیّنات ماحول کے بارئے میں اشارً و کنایاً تعلیمات فراہم کرتی ہیں جبکہ چالیس احادیث مبار کہ میں تحفظِ ماحول کے عنوان کو نہایت دلنشین انداز میں پیرائے بدل بدل کر پیش کیاگیا ہے جس سے ماحول کی اہمیت و افادیت اُجاگر ہوتی ہے۔ رسولِ محترم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ دوچیزوں پر اپنی اجارہ داری قائم مت کرو بلکہ ان دونوں چیزوں کو ریاست یعنی رفائے عامہ کے لئے وقف کیا جا نا چا ہئے تاکہ عوام النّاس ان چیزوں کا استفادہ حاصل کر سکیں اور وہ دوچیزی پانی اورکاہچرائی کی زمین ہے۔ یہ ایک عالمگیر حقیقت ہے اور قرانی ارشاد بھی کہ پانی ایک عظیم نعمت ہے بلکہ اکثر و بیشتر نعمتوں کو وجود بخشنے میں پانی کا رول بہت ہی اہم ہے۔زمین پر حیاتیاتی نظام کا دار مدار پانی کی دستیابی پر منحصر ہے۔ عالمی دانشوروں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں جو جنگیں ہوں گئی اُن کی بنیاد پانی کی قلّت ہوگئی۔
پانی کے بارے میں پانی کے عظیم قدردان محمدعربی ﷺ کا فرمان ہے کہ پانی کو اپنی میراث مت سمجھو بلکہ اسکا معقول ومناسب استعمال کرکے اسکو محفوظ کرنے کے اقدام سے ہی آنے والی نسلیں ایک دوسرے سے دست و گریباں نہیں ہوں گی۔ قُرآن پاک میں ارشاد مبارکہ ہے ’’کیا تم نے کبھی دیکھا یہ پانی جو تم پیتے ہو، اسے تم نے بادل سے برسایا اس کے برسانے والے ہم ہیں۔ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بناکر رکھ دیں پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے‘‘۔
ضمیر کی عدالت میں جاکر اگرہم اپنی وادی کا جائزہ لیں گئے تو سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیںآتا۔ مردم خیز وادی میںسبزہ زار،آبشاراورمرغزار معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ پانی کے قدیم ذخائر سکڑ گئے ہیں ،کھیت کھلیان اور با غات پر عمارات تیزی سے تعمیر ہورہی ہیں اور ایسے میں شہر و دیہات ریگستان کی شکل اختیار کر رہے ہیں جہاں نہ پانی ہے نہ پودا ہے بلکہ ایک مصنوعی دُنیا بن چکی ہے جہاں کولڈ ڈرنکس ہیں،آیس کریم ہیں مختلف النّوع مشروبات ہیںلیکن ٹھنڈے پانی کے دو صاف قطرے دستیاب نہیں۔ اپنی حیات ِ مستعار میں ہم نے خود اور نہ ہی اپنے بچوں کو شجر کاری کی طرف را غب کیا اور نہ اپنے گرد و نواح کی صفائی ستھرائی کی طرف توجہ دی۔ ہمارے اڑوس پڑوس میں بہتے ندی نالوں میں عفونت اور کثافت کے ڈھیر ہیں۔ المیہ ہے کہ اپنے گھروں سے جمع کیا گیا کوڑ ا کرکٹ ہم راہِ عام پر ڈالنے میں سبقت لیتے جارہے ہیں۔ گزشتہ دو مہینوں کی مسلسل خشک سالی کی وجہ سے ہمارے کھیت کھلیان سوکھے جارہے ہیں،پانی کی شدید قلت اور گرمی کی حدت میں فوری طور اگر کوئی تبدیلی رونما نہیںہوئی تو مستقبل میں قحط سالی سے نبر د آزمانا ہونا ہمارا مقدر بن جا تا ہے۔ فرش پر ہونے والی درندگی عرش پر براجمان ربُ الر حمٰن سے قطعی طور مخفی نہیں ہے۔ روزانہ بنیادوں پر سات عرب لوگوں کی بے جا مدا خلت سے عالمی سطح پر کس حد تک ماحولیاتی آلودگی بڑھتی جارہی ہے، اسکا ہمیں اندازہ ہی نہیں ہورہا ہے۔
اسلامی تعلیمات کی رو سے ما حول کا تحفظ ہمارا فر ض ہے اور اس فرض کو نبھانے میں ہم سب کا رول بہت ہی اہم ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں جہاں ہم فر حت بخش زندگی گُزارنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں وہاں اپنے ماحول کو پرا گندہ ہونے سے بچانے کے لئے میں فوری طورہوش کے ناخن لینے ہوںگے ۔اسی میں ہماری عافیت کا راز مضمر ہے۔
ـموجودہ دور میں ما حول کو بیسوں طریقوں سے آلودہ کیا جا رہا ہے لیکن اسکے تحفظ کے لئے ایک بھی طریقہ عملا یا نہیں جا رہا ہے جسکے چلتے زمین،ہوا پانی اور فضاء زہر آلودہ بن چکے ہیںنتیجتاً وبائی بیماریاں پھوٹ پڑ رہی ہیں۔ خُدا وندِ متعال نے اس کائنات کو منضبط سسٹم کے تحت تخلیق کیا ہے لیکن انسان کی بے جا مدا خلت نے اس سسٹم کو بُری طرح سے متا ثر کیا ہوا ہے۔اسی مدا خلت کے نتیجے میں ہوا میں کاربن مونو آکسا یڈ کی کثرت ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار مضر رساں ذرات موجود ہیں اور پانی میں نمکیات کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے۔ذر خیز زمیں بنجر بنتی جارہی ہے اور جنگلات کا صفایا ہوتا جا رہا ہے اور ہم ہیں کہ جیسے دیکھتے ہی نہیں۔اپنے مستقبل کو مزیدبھیا نک اور تشو یشناک بنانے سے پہلے اپنے قابلِ رحم حال پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے ماحول کو صاف و شفاف رکھنے کے لئے ہمیں کمر بستہ ہونا چا ہئے، شاید ایسے کرنے سے خشک سالی،قحط سالی اور حدت کی گرمی سے کسی حد تک نجات مل سکتاہے۔انفرادی سطح پر پانی کا مناسب استعمال کرتے ہوئے اسکو شفاف رکھنے میں کوئی بخل اور انقباض نہیں کرنا چا ہئے۔ گردو نواح میںزیادہ سے زیادہ پودے لگانے چا ہئیں،فضاء میں موجود فضلات کو دور کرانے کی کوشش کرنی چا ہئے اور کاینات میں اعتدال سے حیات ِ مستعار گزارنے کی کوشش کرنی چا ہئے۔اسی معتدِلانہ طرزِ زندگی سے ہماری نجات کا سامان ممکن ہوگا۔
رابطہ۔سونہ نار لولاب کشمیر،موبائل۔9622669755