انیس سو ستر کی دہائی کے اوائل میں اندرا ۔عبد اللہ معاہدے سے پہلے ، جیسے ، میرے دادا ہمیں یہ بتاتے نہیں تھکتے تھے کہ جب شیخ محمد عبد اللہ کو وزیر اعظم کی حیثیت سے برخاست کیا گیا تھا ، توکس طرح سربراہ ِ حکومت کے بغیر حساب صوابدیدی’’خفیہ فنڈ‘‘ کو چھوا تک نہیں گیا ہے۔وہ محکمہ کسٹم میں کام کرتے تھے (27 فروری 1958 تک کشمیر کا اپنا کسٹم ڈیپارٹمنٹ تھا) اور وہ "شیخ صاحب" کا پرجوش حامی تھا۔ تب کون نہیں تھا!
کوئی نہیں جانتا ہے کہ خفیہ فنڈ کی کہانی کتنی صحیح ہے۔اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر کشمیریوں کی طرح انہوںنے اپنی سالمیت یا ساکھ کو کتنی اہمیت دی تھی۔ کشمیری معاشرے میں عوامی زندگی میں پاک دامنی ،ایمانداری اور راستی کو انتہائی قدر کی نگاہوں سے دیکھاجاتاتھا۔ اگر آپ نے دیکھا ہوگاتو کشمیری اجتماعی طور پر بدعنوانی کو "حرام خوری" کہتے تھے اوراسے اسلام میں ممنوعہ کھانے کی چیزوں کے برابر سمجھتے تھے اور یوں اس کو ناقابل سمجھوتہ بنا دیتے تھے۔مختصر بات یہ ہے کہ بدعنوانی کے خلاف معاشرتی اور اخلاقی پابندی تھی۔ وہ اخلاقی قدغن اب طویل عرصے سے کھوچکی ہے۔
اس کے برعکس گوکہ اب اخلاقی طور پربدعنوانی یا کورپشن کو منظوری حاصل نہیں ہوسکتی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بدعنوانی کو ایک بڑی حد تک معاشرتی قبولیت مل چکی ہے۔ کوئی حیرت نہیں کہ آج اسے کشمیریوں کی واحد سب سے بڑی خوبی قرار دیا جارہا ہے۔ گویا کورپٹ یا بدعنوان ہوناکسی کشمیری کے ڈی این اے میںہوتاہے۔ بڑے پیمانے پر ہندوستانی سول سوسائٹی کو یہ یقین کرنے پر آمادہ کیاجاچکا ہے کہ کشمیری "ناشکرے" ہیں جو ان کی گرانٹ یا مالی امداد پر گزارہ کررہے ہیں اور پھر بھی خود مختاری یا آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سیاسی بدعنوانی کی قیمت بہت زیادہ رہی ہے۔ معاشرتی قیمت بھی کچھ کم نہیں رہی ہے۔
کشمیرپرخصوصی طور پر بات کرکے جانبدار ہونے کا خطرہ مول لینے کے بجائے مجھے صرف ایک عالمی بینک کی رپورٹ ’ گورننس معاملات ‘کا حوالہ دینے دیں جس میں معاشروں میں بدعنوانی جیسے معاملات کا احاطہ کیاگیا ہے۔ اس رپورٹ ، جس نے پورے 150 ممالک میں 300 اعشاریوںکا مطالعہ کیا ہے ،میں یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ’’ بدعنوانی اُن معاشروں میں عام ہے جن میں شہری حقوق کی کمی ہو ، کمزور جمہوری ادارے ہوں ، ناقص احتساب اور سیاسی عدم استحکام ہو‘‘۔ کیااس سے بہتر کوئی وضاحت کشمیر کے حالات پر صادق آسکتی ہے ؟
دنیا بھر میں عوامی پالیسی کے متعدد مطالعات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ایسے حالات میں بدعنوانی کے واقعات بہت زیادہ ہیں جہاں "سیاسی عمل قابل اعتراض ہے ، سیاسی حقوق کو پامال کیا جاتا ہے ، قانونی نظام کمزور ہے ، عوامی خدمات کا معیار ناقص ہے اور سول سروس کو سیاست زدہ کیاگیا ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کشمیر کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہی لکھا گیا ہوگا۔
اب وہاں واپس جاتے ہیں جہاں سے ہم نے آغاز کیاتھا۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کو برخاست کرنے کے "قابل اعتراض سیاسی عمل" سے پہلے خفیہ فنڈ ، جو ذاتی تشہیر کیلئے استعمال کرنا آسان تھا ،تک کا غلط استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ در حقیقت یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ 1951 کے انتخابات کے ساتھ ہی قابل اعتراض سیاسی عمل شروع ہوا تھا جس میں نیشنل کانفرنس کے 75 میں سے 73 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے۔ لیکن اسے وزیر اعظم نہرو نے طنزیہ انداز میں ریکارڈ میں اُس وقت لایاتھاجب انہوں نے 1956 کے انتخابات کے بعد بخشی غلام محمد کو لکھا تھا کہ اگر وہ "کچھ سیٹیں ہار بھی جاتے" تو ان کی ساکھ بہتر بنانے میں مدد ملتی۔ کشمیر میں جمہوری نظاموں کی پرورش کس طرح کی گئی، اس کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سابق آرمی چیف وی کے سنگھ کی اپنی کتاب "Courage and Conviction" میں وضاحت سے لکھا ہے کہ کس تک حال تک ہی لوگوں کو کشمیر میں جمہوریت کے شو کو منیج کرنے یا اس بات کو یقینی بنانے کیلئے پیسے دئے جاتے تھے کہ عوام کے منتخب نمائندے پہلے سے طے شدہ کردار ہی ادا کریں۔
ایسی حکومتوں کوجائز نہ سہی تاہم کم از کم قابل اعتبار بنانے کا واحد طریقہ ہر ایک کے لئے خیر خواہی کا نظام قائم کرنا تھا۔ بالکل و یسا ہی کیاگیا۔یہ سب1954میں شروع ہوا ۔ مثال کے طور پر دھان کی خریداری کی قیمت میں 35 فیصد اضافہ کیاگیا اور اس کی فروخت کی قیمت میں 18 فیصد کمی کی گئی اور راشن کی مقدار فی کس 25 فیصد اضافہ کیاگیا۔ چاول کی 89 پیسے فی کلو قیمت پر 60 فیصد سبسڈی دی گئی جس کی قیمت 37 پیسے فی کلو رہ گئی تھی۔ بعد میں یہ سبسڈی کشمیریوں کے گلے کا پھندا گئی۔ پرائمری سطح سے لے کر گریجویٹ سطح تک ریاست بھر میں یونیورسل تعلیم کو مفت بنایا گیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوستان کی حکومت ایک بڑی شیردہ گائے کی طرح بننے اور دیکھے جانے کو تیار تھی۔
یقینی بات یہ ہے کہ کشمیر میں بدعنوانی ایک ایسے ادارہ جاتی نظام کی حیثیت سے تیار ہوئی جس میں آئینی تبدیلیوں اور حکومتوں کی انتخابی جوازیت کو قبول کرنے کے بدلے میں کشمیریوں کے حقوق تحلیل کردیئے گئے ۔ سیدھے سادے اور واضح الفاظ میں بتائیں تو کورپشن کا فروغ وفاداری خریدنے کے لئے ہوا۔یہ " کورپشن ہم آہنگی اور اتحاد کے طریقہ‘‘کی کلاسیکل حکمت عملی ہے۔ مرکزی حکومت کے اسٹیبلشمنٹ میں بہت سے پالیسی سازوں کے لئے یہ "انضمام سے پہلے ہم سازی " تھا،کشمیر کو ہاتھ میں رکھنے کی قیمت۔سوچ جو بھی رہی ہو، حکومت ہند کی 1953کے بعد سے ہی تلفیقی اور انضمامی پالیسیوں کا نتیجہ یہ رہا کہ کشمیر میں پھیلی ہوئی بدعنوانی کو فروغ دیاجائے۔
ایک بار جب بدعنوانی وبائی شکل اختیار کر گئی توسیاستدانوں اور افسر شاہی دونوں نے پروگراموں اور عوامی منصوبوں کو نئے سرے سے تیار کرناشروع کیا تاکہ عوام کو بھی کچھ فائدے ہوں اور رشوت ،نذرانہ اور کک بیکس کے ذریعے نجی منافع کے بہت سارے مواقع پیدا ہوں۔
عوامی صرفہ کی سیاسی طور سے آمادہ اس پالیسی نے ناقص جوابدہی اور شفافیت کے نظام کی بنیاد رکھی جس کے نتیجہ میں ریاستی حکومت کے اندر بدعنوانی کا کلچر پیدا ہوا۔ کورپشن کے سمندر میں حکومت کی ہمہ جا موجودگی کو دیکھتے ہوئے سماج میں اس چکر میں آگیا۔ سچ پوچھیں تو لوگوں نے بھی بعض اوقات اُن سرکاری اداروں کا ساتھ دیا جنہوں نے مادی فوائد اور ذاتی حفاظت کا وعدہ کیایا دیا۔ اس کے باوجودبھی اکاموڈیشن ،انضمامیت اور علیحدگی کے بیچ توازن کے عمل میں لوگوںکا ردعمل اُن کی سیاسی اور معاشرتی شناخت کاتحفظ کرنا رہا ہے۔ مذہبی شناخت کو کبھی خطرہ نہیں تھا۔ بلاشبہ اب توازن اس حد تک دوسری طرف پلٹ چکا ہے کہ تب کے اکاموڈیشن کے تاثرات اب کی مزاحمت کی شکلوں کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔
آخر میں یہ ملک کے باقی حصوں سے بہت مختلف نہیں ہوگا۔ صرف پچھلے ہفتے ہی عالمی سطح پر تسلیم شدہ بدعنوانی کی نگرانی کرنے والے ادارہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ، ایشیاء کیلئے اپنے عالمی کرپشن بیوروومیٹر میں رپورٹ کیا ہے کہ نہ صرف ہندوستان کو "خطے میں سب سے زیادہ رشوت کی شرح" حاصل ہے بلکہ’’ اس میں ایسے لوگوں کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے جو عوامی خدمات تک رسائی کیلئے ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں‘‘۔ یہ رپورٹ ایک وسیع فیلڈ ورک پر مبنی ہے جس میں 17 ممالک کے تقریبا ً83 836 ملین شہریوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمسایہ نیپال سب سے کم کرپٹ ہے۔
جب نصف آبادی کا کورپشن میں ملوث ہونے کا تخمینہ لگا یا گیا ہوتو بانہال پہاڑیوں کے اُس پار انفرادی اور اجتماعی سطح پر کشمیریوں کی ادارہ جاتی مذمت یا تذلیل کھوکھلی ہی لگتی ہے۔ یہ کشمیریوں کی طرح حساسیت کو پامال کرنے کے سوا کچھ نہیں کررہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ پوری کمیونٹی کواُس جرم کیلئے دھتکارا جارہا ہے جو اس نے کیا ہی نہیں ہے بلکہ پورے سماجی ڈھانچہ (اس کی اخلاقیات اور اقدار کے نظام )پر بھی سوالیہ نشان لگا یا جارہا ہے۔کوئی یہ نوٹس کئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ’’سیاسی طور منحرف اور گمراہ‘‘عوام کی اخلاقی اور اقداری شہرت پر حملہ آور اور مسلط ہونے کیلئے کیاجارہا ہے۔
بلاشبہ اور یقینی طور پربدعنوانی کے معاملات کی فعال طور پر تحقیقات ہونی چاہئیں اور بدعنوانوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔ انہیں صرف ختم نہ کریں بلکہ اس کے بجائے رشوت خوروں کے خلاف سیاسی بدعنوانی سے بالکل مختلف، جیسا کہ کشمیری میں کہا جاتا ہے "دروت دیووُکھ" کی طرح ان کا جینا محال کردیاجائے۔ اس کام کے بعد بھی کشمیر یا کہیں پر بھی وسیع پیمانے پر پھیلی کورپشن کوسیاست کو عدالتی اختیار دیکر ختم نہیں کیاجاسکتا ہے۔اگر کشمیر میں یہ کچھ ہے تو یہ واحد سرنو تعریف شدہ قومی شناخت میں شامل کرنے کی بجائے شناخت کی خوش خیم علامتوں کو سیاست زدہ بلکہ اس سے بھی بدتر اس کو یک و تنہا کرنا ہے جیسا کہ اب تصور کیاجارہا ہے۔