پچھلے تیس برس کے دوران جس تسلسل کے ساتھ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے کشمیری عوام کی شکل و صورت سارے دیش میں اجاگر کی ہے،وہ ڈراکیولا اور کسی مہیب دیو کی خوفناک اور گھناونی صورت سے نہ صرف مشابہت رکھتی ہے بلکہ زمینی سطح پر ملک کے اکثریتی فرقے کی نگاہوں میں اس سے بھی کریہہ اور قابل نفرت ہوچکی ہے ، بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس مسلسل پروپگنڈا کا نتیجہ ہی ہے کہ باہری دنیا کوہر کشمیری فرد دہشت پسند ،جنونی، فرقہ پرست ا ور خونخوار نظر آنے لگا ہے جومعصوم اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانے میں لذت حاصل کرتا ہے۔یہ تاثر اب ایک مستقل پہچان ہوچکی ہے جس کی وجہ سے کشمیری لوگ ، بچے بوڑھے جوان اور طالب علم سبھی قابل نفرت اور واجب القتل قرار دئے جاچکے ہیں۔یہی جہ ہے کہ کشمیری لوگوں کا یہ احساس شدت اختیار کرتا جارہا ہے کہ وہ نہ اپنے گھر میں محفوظ ہیں اور نہ ملک کے کسی اور کونے میں عافیت اور بنا کسی ڈر اور خوف کے رہ سکتے ہیں۔ یہ بھی اسی بات کا رد عمل ہے کہ جب بھی یہاں معصوم جوانوں کا قتل ہوتا ہے، کوئی آنکھ نم نہیں ہوتی اور نہ اس ظلم و زیادتی کے خلاف کوئی آواز بلند ہوتی ہے ۔
بدقسمتی کی بات ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے اور ۴۷ کے بعد کچھ دہائیوں کی تاریخ ہماری نظر میں نہیں اور یہ بھی کہ ہم نے اپنی نئی نسلوں کو اس تاریخ سے نہ تو آگاہی دی ہے اور نہ ہی اس تاریخی دور کے آئینے میں مستقبل کے لئے کوئی لائحہ عمل تیا ر کیا ۔ آج نوجوان اپنے حواس ہی کھو بیٹھا ہے، مایوسی اور ناامیدی نے اس سے ڈرگ اور دوسری تباہ کن خرافات کی طرف دھکیلا ہے اور وہ ایک مسلسل گہری تاریکی کے سوا اپنے آگے پیچھے کچھ پاتا ہی نہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پار ٹیشن کے دوران جموں کی اکثریتی مسلم آبادی کس خونچکاں دور سے گذر چکی ہے۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ الحاق ہند کی تکمیل کیسے اور کیوں کر ممکن ہوئی تھی ، اور بہت کم لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ جب سارا بھارت نفرت ، تشدد اور قتل وغار ت گری کے شعلوں میں جل رہا تھا تو امن کی ایک کرن مہاتما گاندھی کو صرف کشمیر میں نظر آئی تھی ۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صرف اور صرف کشمیر کا امن پسند ، بھائی چارے کا قائل اور خوف خدا رکھنے والا کشمیری مسلمان کسی منافرت کی رو میں خس و خاشاک کی طرح بہا اور نہ اپنے دینی اقدار سے اپنا دامن چھڑا لیا ،اس کے باوجود کہ جموں کے مسلمانوں پہ جو گذر رہی تھی، اس سے کشمیری عوام بے خبر نہیں تھے۔
حالات کی ستم ظریفی اس موڈ پر پہنچ چکی ہے کہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا جنگجو ؤں کے لئے بازآباد کاری کااعلان کرتے ہیں تو فوراً ہی حکمران طبقے سے وابستہ پارٹی رہنما نہ صرف لیفٹنٹ گورنر کے خیال کو غلط ٹھہراتے ہیں ، بلکہ ایک طرح سے ان کی سرزنش کرتے اور انہیں یاد دلاتے ہیں کہ مودی حکومت میں ان کے لئے گولی کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا ۔ملک کی سالمیت کے لئے ناگا باغیوں سے مذاکرات ہوسکتے ہیں ، چین کے ساتھ مذاکرات کی تگ ودو کی جاسکتی ہے لیکن کشمیر کے اس نوجوان کے درد کا درماں حکمران پارٹی کے پاس نہیں ۔ کس قدر افسوس اور مایوسی کی بات ہے ،اس کے پیچھے ان لوگوں کے بھی اپنے منصوبے ہیں جو تیس برس پہلے ا پنی آبائی سرزمین ، امن کے گہوارے کو چھوڑ کر ریاست سے باہر منتقل ہوئے ۔ کشمیر کے اس امن پسندانہ ،اخوت ،بھائی چارے ، دنگائی فسادات اور تمام قسم کی فرقہ پرستی سے فطری دوری کے اپنے اسباب موجود ہیں ۔
تاریخی طور پر ۴۷ سے مسلم اکثریت انتشار ، اضطراب اور عذاب مسلسل میں مبتلا ہے لیکن یہاں آج تک کی تاریخ تک کسی ایک بھی ہندو مسلم فساد کا ریکارڈ موجود نہیں ، اور جس قتل عام ، عزت ریزی ، اور عصمت دری کے افسانے اقلیتی فرقے نے رقم کرکے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے تعاون سے زمین پر اتارے ہیں،تحقیق کی روشنی میں ان کا کوئی وجود نہیں لیکن ان کے سہارے بہت سارے متعصب اور نفرت کے سوداگروں کے چولہے بھی جلتے ہیں اور لیڈر ی کے پد بھی حاصل ہیں ۔ انہی افسانوں کی بنیاد پر یہ لوگ دہشت پسند ، فرقہ پسند،اذیت پسند اور مذہبی جنونی لوگوں کے ذہنی تسکین کا ساماں پیدا کرتے ہیں جس کے بدلے میں ان پر مراعات اور ان گنت فوائد کو نچھاور کرنے میں کوئی بخل نہیں ہوتا۔ کشمیری لوگ امن پسند ہیں،اس بات کی ناقابل تر دید دلیل یہ ہے کہ ہماری پنڈت برادری ۹۰ کی دہائی سے ملک کے دوسرے حصوں میں جابسی ہے لیکن آج بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہندو برادری کی کشمیر میں موجود ہے ، ہمارے ساتھ رہ رہی ہے اور افسوس کہ آنکھوں کے اندھے اتنا بھی نہیں دیکھ پاتے کہ جب بھی کوئی ہندو بھائی سورگباشی ہوتا ہے تواس کے اپنے نہیں بلکہ مسلم برادری کے لوگ اپنے کندھوں پر میت کو شمشان گھاٹ تک پہنچاتے ہیں ، غمزدہ کے گھر چار دن تک سوگ میں شامل رہتے ہیں اور تمام ہندو رسومات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے اس گھرانے کے ساتھ ان کے دکھ درد میں شامل رہ کر ان کی ڈھارس بندھاتے ہیں ۔ یہ ایک بار فوٹو سیشن کی بات نہیں ، بلکہ پچھلے تیس برس سے ہر بار جب بھی کوئی ہندو برادری کا دوست گذرتا جاتا ہے تو یہی کچھ ہوتا ہے ۔ ہم آج بھی محبت اور اخوت کی روشنیوں میں نہاتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ایک مخصوص پارٹی، جس کا آزادیٔ بھارت سے پہلے بھی مسلم دشمنی اور مسلم کشی کا ایجنڈا موجود تھا،زیادہ کہنا یہ درست ہو گا کہ اس پارٹی کی بنیاد ہی اس منافرت پر رکھ دی گئی ہے ا ور یہ ساری عمارت ہی نفرت ،حسد اور بغض کے اینٹ گارے سے اٹھادی گئی ہے ،اقتدار میں آنے کی وجہ سے اس پارٹی کو اپنے ایجنڈا کو عملی جامہ پہنانے کے مواقع ہاتھ آگئے ، اس لئے غیر ہندو نام کا کوئی بھی شخص ان کے نقطہ نگاہ سے دیش بھگت نہیں ہوسکتا ۔ماتھے پر ٹیکہ ،گلے میں زنار ،ہونٹوں پر رام کے بھجن بھی کوئی معنی نہیں رکھتے اگر آپ اس پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے ۔اور یہ تاریخ بھی کوئی معنی نہیں رکھتی کہ الحاق ہند کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں جن لوگوں نے کلیدی رول کیا ہے وہ کس سلوک کے مستحق ہیں ؟۔
ہندو برادری کا ہول سیل میں وطن سے ہجرت ’’ غیر محفوظیت‘‘سے زیادہ سیاسی نوعیت کا حادثہ تھا۔ کشمیر کی ٹھوس حقیقت ہے کہ اس وقت کے گورنر جگموہن جی نے ہندو برادری کے لئے ایک مکمل منصوبے کے تحت تمام سہولیات کے ساتھ اِن کی نقل مکانی ممکن بنانے کی تمام تفاسیل موجود ہیں۔ تفصیل میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اس کے پیچھے اس سوچ نے مہمیز لگادی اور ہندو برادری کو باور کرایا کہ دوسرے مقامات پر ان کی منتقلی عارضی اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ضروری ہے ۔اس کے بعد ان کی واپسی سیاست کی نذر ہوئی ۔ کئی ہندو تنظیمیں وجود میں آگئیں جنہوں نے اپنی روٹیاں سینکنے کی شروعات کیں اور پھر مختلف ہندو لیڈروں اور مرکز نے ہندو برادری کی واپسی کو اتنا پیچیدہ بنایا کہ آج تک ان کی واپسی ممکن ہی نہیں ہوسکی اور دوسری طرف ہندو برادی نے بھی ایک ساتھ کئی طرح کے فوائد اٹھاکر ان مراعات کو بر قرار رکھنے کی خاطر وادی آنے کا خیال ہی بھلادیا جو انہیں بحیثیت مائیگرنٹ حاصل ہیں اور آ ج بھی تین دہائیاں گذرنے کے باوجود یہ برادری بے شمار مراعات کے پیش نظر اپنے وطن آنے میں پس و پیش کا شکار ہیں ۔ نہیں تو سینکڑوں بار عوام کی تو بات ہی نہیں بلکہ اس زمانے کی ملی ٹنٹ تنظیموں بشمول حریت لیڈران نے اپنی اس برادری کے لئے اپنے سینے بھی کھولے اور ان کے تحفظ کی بھی یقین دہانی کی ۔کشمیر کی ہوائیں اور فضائیں آج بھی اپنی اس برادری کی منتظر ہیں لیکن وطن واپسی کے سلسلے میں یہ لوگ اب نہ تو دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ ہی واپسی کو اپنے لئے فائدہ مند سمجھتے ہیں کیونکہ وطن واپسی کا مطلب ہی یہ ہوگا کہ وہ ان تمام مراعات کو خیر باد کہنے کے لئے تیار ہیں جو انہیں جموں یادوسرے ملک کے حصوں میں حاصل ہیں ۔ ایک مختصر سی اقلیت کو جنہیں مسلم اکثریت اپنی جانوں سے عزیز رکھتے ہیں ، جن کے ساتھ کشمیری مسلموں کے صدیوں پر محیط محبت ، اخوت اور سماجی رشتے استوار ہیں ، جن کی آسائشوں اور سہولیات کا صدیوں سے مسلم برادری تحفظ کرتی آئی ہے ، آج بھی اس برادری کی محبت اور اپنائیت اُسی طرح مسلم برادری کے سینوں میں موجزن ہے ،کیوں اپنے گھروں کو لوٹنے میں ہچکچارہی ہے، کس بات سے ڈر رہے ہے ؟کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ ایک سر سری اندازے کے مطابق ان پچھلے برسوں میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ کشمیری مسلماں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لیکن یہاں موجود کسی ہندو کا قتل نہیں ہوا ؟ ان کے لئے یہاں کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں۔ اصل حقائق یہی ہیں کہ یہ لوگ اپنے کشمیر سے باہر سیٹل ہوچکے ہیں اور ان کی نئی نسل کو اپنے آبائی وطن سے کوئی لگائو نہیں ہے اور وہ قطعی کشمیر واپسی کیلئے تیار نہیں ہیں کیونکہ انکا اس سرزمین سے کوئی جذباتی لگائو نہیں ہے اور نہ ہی ہندو برادری اب عملی طور کشمیر میں پھر سے زندگی کی شروعات کرنا چاہتی ہے کیونکہ ہجرت کے کٹھن مرحلہ سے گزرنے کے بعد وہ اب جموںاور ملک کے دیگر حصوں میں آباد ہوچکے ہیں جہاں ان کے اپنے مکانات ہیں اور بچے ملازمتیں کررہے ہیں تاہم اس سب کے باوجود انہیں اپنے گھروں کو لوٹنا ہی چاہئے کیونکہ جو سکون آبائی وطن کی عسرت میں میسر ہے ،وہ آرام دیار ِ غیر کی امیری میں بھی نہیں ہے۔ انہیں اپنی واپسی پر ہو رہی سیاست کو مسترد کرکے اپنے مسلم پڑوسیوں کی یقین دہانی پر لوٹنا چاہئے جو ان کے استقبال کیلئے باہیں پھیلا کر کھڑے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس گلشن کی رنگینی سبھی رنگوں سے ہے اور اگر کوئی رنگ نہ رہے تو گلشن اجڑ جاتا ہے۔
رابطہ سوپورکشمیر، 9419514537