پانپور// پوری دنیا میں مشہور کشمیری زعفران کی صنعت دم توڑ رہی ہے جبکہ’زعفران مشن ‘‘ کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باجودامسال بھی پیداوار میں مسلسل گراوٹ درج ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اس اہم صنعت سے وابستہ سینکڑوںلوگ مایوسی کے شکار ہو رہے ہیں۔بہت سارے لوگوں نے زعفران کی اراضی فروخت کی ہے اور سینکڑوں لوگوں نے اس پر میوہ درار درخت بھی لگانا شروع کئے ہیں۔ پانپور علاقے میں دہائیوں سے لوگ زعفران کی صنعت سے وابستہ ہیںتاہم سرکار کی جانب سے زعفران مشن سمیت متعدد اقدامات اٹھانے کے باوجود پیداوار میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے اس صنعت سے وابستہ لوگ زبردست پریشانیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ پیداوار اس قدر کم ہوئی ہے کہ بیشتر لوگ اب یہی زعفران اراضی فروخت کر کے اپنے اخراجات پورے کررہے ہیں ۔مقامی کسانوں نے بتایا کہ اس صنعت کو کئی برسوں تک خشک سالی سمیت متعدد مسائل درپیش رہے تاہم سال2010 میں زعفران صنعت بچانے کیلئے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے زعفران مشن پروگرام شروع کیا، جس پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ہیں ۔اس مشن کے تحت زعفران اراضی کا تحفظ، اسکی سینچائی کیلئے ڈرپ سسٹم کے ذریعہ پانی کی فراہمی،زعفران کی کاشت کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے طور طریق اپنانے اور مزید اراضی پر زعفران کی کاشت کرنے کیساتھ ساتھ اعلی کوالٹی کے بیج استعمال کرنے کے اہم اور مرکزی نکات تھے۔کاشتکاروں کو اسکے لئے مالی مدد کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا اور محکمہ زراعت میں زعفران مشن کیلئے ایک علیحدہ ونگ قائم کی گئی جس نے وادی کے مختلف علاقوں میں سکڑتی زعفران اراضی کو مزید بڑھانے میں کلیدی رول ادا کیا۔اسی مشن کے تحت پانپور میں’’ زعفران ولیج‘‘ قائم کیا گیا جہاں اعلیٰ کوالٹی کا زعفران تیار کر کے اسے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو ممکن بنانے کے اقدامات شامل کئے گئے۔کاشکاروں کا کہنا ہے کہ زعفران مشن کی بدولت ڈرپ سسٹم سے پانی کی فراہمی نے پیداوار صلاحیت بڑھا دی ہے لیکن ابھی اس ضمن میں مزید اقدامات کو بروئے کار لانے ہونگے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مشن میں ایک کمپوننٹ ایری گیشن کا معاملہ ہے جس میں سنچائی کے لئے پمپ لگانے تھے تاہم 11سال گزر جانے کے باجودچند ایک بور ویل کھودے گئے ، جن میں چند ایک کار آمد ہیں جبکہ باقی سب بے کار پڑے ہیں ۔ لوگوں نے بتایا یہ ایک بڑا پروجیکٹ تھا جسے ناکام بنا دیا گیا ۔