ایسا نہیں ہے کہ صرف کشمیر میں مادری زبان عوامی زندگی کے حاشیے پر ہے۔ زبان مراٹھی ہو، تلگو ہو،بنگالی ہو یا پنجابی، کاروبارِ زندگی میں ان زبانوں کو بھی وہی مسئلہ درپیش ہے جو ہمارے یہاں کشمیری زبان کو ہے۔ لیکن ایک اہم فرق یہ ہے کہ مہاراشٹرا، کرناٹک، اُڑیشہ، مغربی بنگال اور پنجاب میں جب صحت یا تعلیم کے شعبوں میں اسامیوں کے لئے ملک بھر سے درخواستیں طلب ہوتی ہیں تو بنیادی اور لازمی شرط یہ ہوتی ہے کہ اُمیدوار مقامی زبان بھی جانتا ہو اور اس میں امتحان پاس کرچکا ہو۔لیکن ہمارے یہاں اس قسم کی کوئی قید نہیں ہے۔ نتیجتاً کشمیری اُمیدوار دیگر ریاستوں میں موجود اسامیوں کے لئے نااہل ہیں جبکہ پورے ملک کے اُمیدوار کشمیر میں موجود اسامیوں کے اہل ہیں۔ اہلیت کا پہلو ایک طرف رکھتے ہوئے، یہ معاملہ ہمارے یہاں نہایت شورشرابے کے ساتھ کشمیری زبان کی تحفظاتی تحریکیں چلانے والوں کے لئے لمحہٴ فکریہ ہے۔
بلاشبہ حکومت نے بہت پہلے دسویں جماعت تک کشمیری کو لازمی مضمون قرار دیا ، اور حالیہ برسوں میں حکومت نے اُردو، ڈوگری ، ہندی کے ساتھ ساتھ کشمیری کو بھی سرکاری زبان قرار دیا ہے۔ سرکاری زبان قرار دینے کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ یہی نا کہ دفاتر میں کشمیری زبان کے ذریعے نام و پیام ہو، خط و کتابت ہو یا کم از کم ترجمہ کاری کا ڈیسک مقرر ہو، تاکہ لوگ کشمیری زبان کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مقامی زبانوں کو تحفظ دینے کی پالیسی قابل تعریف ہے، لیکن کشمیری زبان کو واقعی سرکاری زبان اور عوامی زبان بنانے کے لئے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ راقم نے گزشتہ دنوں سرینگر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر جناب اطہر عامر خان کے نام درخواست کشمیری زبان میں لکھی۔ کہنا پڑے گا کہ اطہر صاحب درخواست کشمیری زبان میں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے معاملہ کی فوراً سماعت کرکے متعلقہ افسر کو ہدایات بھی جاری کردیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے اس درخواست کی کاپیاں مختلف محکموں کو مثال کے طور پر ارسال کی تھیں اور اس پر سیکریٹریٹ میں بھی کافی بحث ہوئی ہے۔
مسلہ یہ ہے کہ کشمیری زبان کے ماہرین ہر سال دانشگاہوں سے برآمد تو ہورہے ہیںلیکن سرکاری دفاتر ، ہسپتالوں اور مالیات کے شعبوں میں ترجمہ کاروں اور محرروں کی کوئی ٹیم تعینات کیوں نہیںکئے جاتے تاکہ کشمیری زبان کو واقعی وہی حیثیت حاصل ہوتی، جس کا دعویٰ کرکے ہم پر احسان جتایا جارہا ہے۔
ہمارے یہاں کشمیری زبان کو تحفظ دینے سے متعلق کئی ادبی تنظیموں نے سالہاسال سے شوروغوغا کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ شعروادب کی ترویج و اشاعت کسی بھی زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن اعلیٰ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نوکریوں کے لئے مقامی زبان کی قید لگانا بھی توضروری ہے، تاکہ لوگ اس زبان کے ساتھ جُڑے رہیں۔ اسی طرح زبان کو مین سٹریم زندگی کا حصہ بنانا بھی لازمی ہے۔ تحفظاتی تحریک چلانے والوں سے زیادہ کام پچھلے چند برسوں میں اُن نوجوان موسیقی کاروں اور گلوکاروں نے کیا ہے جنہوں نے کشمیر کی کلاسیکی شاعری کو جدید موسیقی کے ساتھ جوڑ کر نہ صرف سامعین کا دل جیت لئے بلکہ ایک نمایاں خدمت بھی انجام دی۔ ہر سال نئے نئے ویڈیو البم جاری کرتے ہیں جن میں نہ صرف بہترین اداکاری اور دلکش مناظر ہوتے ہیں بلکہ ٹھیٹ کشمیری شاعری کو جدید موسیقی کے ساتھ ہم آہنگ کرکے لوگوں میں کشمیری بولنے، سننے، پڑھنے اور لکھنے کی رغبت اور کشش بھی ہوتی ہے۔
زبان و ادب کا معاملہ جب سرکاری کلچرل اکادمی اور اکادمی کے وضیفہ خور ادیبوں کے محدود خول میں بند ہوجائے تو نوجوان اپنی فنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر رضاکارانہ طور کشمیری زبان کی خدمت کرتے ہیں۔ اُنہیں مرکزی حکومت کی گرانٹ ملتی ہے نہ کلچرل اکادمی کی معاونت، اور نہ ہی ادبی ٹولیوں کی واہ واہ۔ ان نوجوانوں کی پزیرائی اور حوصلہ افزائی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس معاملےحکومت کو بھی سنجیدہ ہونا پڑے گا اور عوامی حلقوں کو بھی۔ خاص طور پر تاجر برادری کشمیری میں دکانوں کے بورڈ لکھ سکتی ہے۔ یہ رجحان کسی حد تک شہر خاص میں موجود ہے۔ یہاں کئی دکانوں کے بورڈ کشمیری زبان میں ہیں۔ لیکن ہمیں انگریزی، ہندی اور اُردو کو ملغوبے سے تیار ہونے والی تجارتی زبان پر کشمیری زبان کو ترجیح دینا ہوگی۔
رابطہ : ([email protected] 7780882411, 9469674499)