کشتواڑ// قصبہ کشتواڑ میں پانی کی شدید قلت کے بعد شہرکے مضافات میں بھی پانی قلت پیداہو گئی ہے ۔پچھلے کچھ دنوں سے محکمہ پی ایچ ای کچھ علاقوں میں پانی کی سپلائی بحال نہیں کر سکی ہے۔پی ایچ ای انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان علاقوں میں کافی تعداد میں ٹیوب ویل دستیاب ہیں پانی کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن لوگ پانی کی سپلائی سے غیر مطمئن ہیں۔کشتواڑ کے مضافاتی علاقے ڈول کے ایک رہائشی نے کہا کہ ہم پچھلے دس پندرہ دنوں سے پانی کی فراہمی کے انتظار میں ہیں جو اچانک بند ہو گئی ہے۔ایک مقامی کسان نے کہا کہ ہم نے پی ایچ ای محکمہ کے ملازمین سے علاقہ میں پانی کی سپلائی بحال کرنے کےلئے کہا لیکن انہوں نے ہمارا مسئلہ حل نہیں کیا،اگر انتظامیہ نے معاملہ حل کرنے کےلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو ہماری پریشانیاں مزید بڑھ جائیں گی۔ پانی کا گرونڈ لیول بہت کم ہو گیا ہے کیوں کہ زیادہ تر لوگوں نے اپنے گھروں میں بور ویل کھودے ہیں۔یہ صورتحال سنگرام بھاٹہ،کلید،ناگسینی،چرہار،متا،لینیال،ہٹہ،ہولر،لچھ خنزہ اور پو چھال علاوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ان علاقوں کے ریائشیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پانی کی نا کافی فراہمی کی وجہ سے زیادہ تر واٹر ٹینک خالی ہوتے ہیں یہاں تک ایک گھنٹہ کی سپلائی بھی نہیں ہو تی ہے ۔کلید کے اییک مقامی ریائشی نے کہا کہ کئی بار پی ایچ ای انتظامیہ دیر رات کو پانی سپلائی فراہم کرتے ہیں جو صبح تک جاری رہتی ہے اور کئی بار کئی دنوں تک پانی سلائی نہیں ہوتی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری آبادی کےلئے پانی کی فراہمی کےلئے چناب دریا بہت بڑی صلاحیت ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایچ ای انتظامیہ ،پی ایچ ای وزیر ،مقامی قانون ساز ان سکیموں سے کوئی فائدہ اٹھانے میں نا کام رہے ہیں۔ایک پی ایچ ای اہلکار نے بتایا کہ انہوں نے ملازمین کو روزانہ پانی کی بہتر سپلائی فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔