اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتھونی گیٹریس نے اقوام متحدہ کے 76؍ ویں سالانہ اجلاس میں عالمی رہنمائوں اور عالمی برادری کو خبردار کیا کہ یہ کرہ ارض اورپوری انسانیت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے زور دےکر کہا کہ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے ہمیں اس کرہ ارض کی، اس پر آباد ہر جاندار کی سلامتی اور انسانیت کی بقا کے لئے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر کچھ باقی نہ رہے گا۔ سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ دنیا جاگ جائے اب باتوں کا وقت نہیں ر ہا، کام اور صرف کام کا وقت ہے۔
اگر ہم نے اس قیمتی وقت کو اپنی کوتاہیوں، کج روی اور سیاسی مفادات کے حصول میں ضائع کردیا تو پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ دنیا کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں۔ سیکریٹری جنرل انتھونی گیٹریس کے اس تاریخی خطاب میں ماحولیات کی تیزی سے بگڑتی صورتحال، موسمی تغیرات، وبائی امراض کا پھیلائو، غربت، پسماندگی میں اضافہ، غربت اور امارت میں بڑھتا ہوا فرق اور دیگر حساس عالمی مسائل کا تفصیلی ذکر کیا۔
واضح رہے 193؍ ارکین پر مشتمل اقوام متحدہ کا ادارہ 76؍ ویں سالگرہ کے موقع پر ایک سو سے زائد ممالک سربراہان، وزرا، دانشور، صحافی، ماہرین اور مبصرین نے شرکت کی۔ تین ہفتے جاری اس 76؍ ویں سالانہ سیشن میں مختلف کمپنیوں کے اراکین، عالمی سطح پر خوراک کے مسائل، افریقی ممالک میں قحط سالی، خشک سالی، موسمی تغیرات، وبائی امراض، خاص طور پر کووڈ۔19 کی جاری تباہ کاریاں و دیگر حساس مسائل پر مذاکرات کررہے ہیں۔ ان میں زیادہ زیر بحث موضوع ماحولیات رہا۔
اس حوالے سے بعض سفارتکاروں اور ماہرین کو شکست ہے کہ دنیا کے بعض ممالک کے رہنمائوں کی معاون اجارہ دار سرمایہ دار کمپنیاں، صنعتی ادارے اس حقیقت سےآنکھیں پھیرتے ہوئے آئے ہیں اور اس حقیقت کو مسترد کرتے رہے ہیں کہ کرہ ارض کے ماحولیات کو کوئی خطرہ ہے۔ ان نکتہ چیں حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ قدرتی نظام ہے جو لاکھوں برسوں سے چلا آرہا ہے۔ موسم میں تبدیلیاں قدرتی ہیں اس میں انسانوں کا کوئی دخل نہیں ہے اس مسئلے کو کچھ سائنس داں اور ماہرین جان بوجھ کر حوّا بنارہے ہیں اور دنیا کو خوف زدہ کررہےہیں۔
اس نقطہ نظر کے حامل افراد کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی پشت پناہی حاصل تھی۔ سابق صدر ٹرمپ نے برملا موسمی تغیرات کے مسئلے کا مذاق اڑایا تھا اور اس کو بعض سائنس دانوں اور ماہرین کی ذہنی اختراع قرار دیا تھا۔ اس حوالے سے معروف دانشور نوم چومسکی نے سابق صدر ٹرمپ پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔
درحقیقت آلودگی میں اضافے کے حوالےسے جتنی بھی رپورٹس اور جائزے شائع ہوئے ہیں ان میں بتایا گیا ہےکہ آلودگی مجموعی مقدار کا 25؍ فیصد حصہ دار امریکا ہے، اس کے بعد چین برازیل اور بھارت ہیں۔ قدرتی کوئلہ کے استعمال، قدرتی گیس اور تیل کا سب سے زیادہ استعمال ا مریکا میں ہوتاہے، پھر دوسرے نمبر پر چین ہےمگر یہ دونوں بڑے ممالک اپنے مفادات کی خاطر ماحولیات میں بگاڑ اور آلودگی میں اضافے کے مسئلے کو نظرانداز کرتے رہے ہیں۔
ٔاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتھونی گیٹریس نے جو کچھ اپنے خطاب میں کہا اس میں انہوں نے عالمی رہنماؤں پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے یہ بھی انکشاف کیا کہ گزشتہ برسوں میں پیرس میں ماحولیات کی عالمی کانفرنس میں کیوٹو معاہدہ پر تمام رہنمائوں نے دستخط کرتے ہوئے یہ عہد کیا تھا کہ آئندہ دس برسوں میں آلودگی میں بیس سے تیس فیصد کمی کرنے کی پوری کوشش کریں گے مگر افسوس کہ آلودگی میں کمی کی بجائے مزید آٹھ بارہ فیصد اضافہ عمل میں آیا۔ اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل کا لہجہ جذباتی ہوگیا تھا۔
بعض سفارتکاروں اور مبصرین کا گروہ اس عالمی ادارے کی کارکردگی سمیت موسمی تغیرات کے مسئلے پر بھی اپنے و اضح خدشات اور اعتراضات کا اظہار کرتا رہاہے اس نکتہ چین گروہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ محض ایک سفید ہاتھی ہے جو عالمی سفارتی محاذ پر ہمیشہ ناکام رہاہے تاہم عالمی صورتحال اور اقوام عالم کے مابین ایک بڑاادارہ ہے جو اس حوالے سے باعث اطمینان ہے کہ ہر جگہ نہ سہی کسی کسی جگہ یہ کارآمد ثابت ہوتا ہے مثلاً سربیا اور بوسنیا کی جنگ میں اقوام متحدہ کی امن فوج نے بوسنیا کے نہتے عوام کو سربیا کی دہشتگردی سے نجات دلائی۔
تاہم اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس میں امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی خاصی تلخ و ترش باتیں کی ہیں جن میں آلودگی کے مسئلے، انسانی حقوق اور جمہوری حقوق کی پامالی، قوموں کے مساوی حقوق وغیرہ شامل ہیں۔ انسانیت کو درپیش معرکے اورا ن کے متوقع مہیب خطرات کو ہر چند کہ بار بار دہرایا جاتا رہا ہےمگر ان حساس اور پر خطر مسائل کو حل کرنے کی جانب کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں جوہری ہتھیاروں کے تجربات اور پھیلائو پر بہت کچھ کہا گیا، بڑے بڑے احتجاج اور سیمینار ہوئے مگر اب بین براعظم میزائلوں کے تجربے اور تیاریاں عام ہیں اور اس دوڑ میں مزید ممالک شامل ہوگئے ہیں، جن میں شمالی کوریا، بھارت اور چین نمایاں ہیں۔ مثلاً شمالی کوریا کے صدر برملا دھمکی دیتے رہے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر امریکا کو براہ راست نشانہ بنا سکتاہے اور یہ غلط نہیں ہے شمالی کوریا نے بین براعظمی دور مار میزائلوں کی تیاری میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرلی ہیں اس کے بعد بھارت ہے جو میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہے۔
واضح رہے نوے کی دہائی کے آغاز کے وقت سابق سوویت یونین زوال پذیر ہوا تھا تب اس کے ایٹمی ہتھیار میزائل اور دیگر جدید ہتھیاروں کو عالمی اسمگلر گروپوں نے اونے پونے دوسرے ممالک کو فروخت کردیئے تھے یہاں تک کہ روسی جوہری اور خلائی سائنس دانوں کو بھی اغوا کرکے دوسرے ممالک کے ہاتھوں فروخت کیا اور وہ ممالک جو پہلے ہی سے تاک میں تھے انہوں نے اغوا شدہ سائنس دانوں کو خرید لیا بعض روسی سائنس دان پہلے ہی سوویت یونین سے فرار ہو کر مغربی ممالک میں پناہ حاصل کرچکے تھے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنے خطاب میں جو کہا وہ من وعن درست کہا کہ دنیا جاگ جائے ہمارے پاس اب وقت کم ہے۔ دنیا تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہےمگر ہم اپنی پرانی روش پر کاربند ہیں۔ دنیا اب بتدریج دو سمتوں میں تقسیم ہوتی محسوس ہورہی ہے یہ زیادہ خطرناک صورتحال ہے پھر ستم یہ کہ ماحولیاتی طور پر خطرات میں بہت اضافہ ہوچکا ہے گلوبل وارمنگ اور گلوبل کولنگ دونوں بڑے خطرات بن کر سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے علاوہ دیگر ممالک کے سربراہوں نے بھی ماحولیات اور آلودگی میں اضافے پر بات کی۔ یاد رہے کہ سال 2015ء میں امریکی سابق صدر باراک اوباما نے کیتھولک مذہب کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کو امریکا کی دعوت دی تھی اورپوپ فرانسس نے پانچ روزہ دورہ امریکا میں بہت اہم باتیں کیں۔ سابق صدر اوباما نے پوپ فرانسس کو قطب شمالی کے دورے پر لے گئے ۔انہوں نے قطب شمالی کا طائرانہ جائزہ لیاتھا۔ بعد ازاں پوپ فرانسس نے اقوام متحدہ کی 70؍ ویں سالگرہ کے ابتدائی سیشن سےخطاب کیا جس میں پوپ نے روایتی تقریر سے ہٹ کر کچھ اہم باتیں سب کےسامنے رکھیں جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا کو بیش تر نازک اور خوفناک مسائل کا سامنا ہے مگر ان مسائل میں تین بہت اہم اور خطرناک مسائل ہیں۔
موسمی تغیرات جو بہت بڑاخطرناک مسئلہ ہے گلوبل وارمنگ جس میں دنیا جھلس رہی ہےا ور غربت پسماندگی کی و جہ سےدنیا کی بڑی آبادی نڈھال اور گوناں گوں مسائل جھیل رہی ہے۔ اگر دنیا نے ان گمبھیر مسائل کی طرف فوری توجہ نہ کی تو اس کی وجہ سےمزید خوفناک مسائل پوری انساینت کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ پوپ فرانسس نے قطب شمالی پر جو کچھ دیکھا تھا اس کو بیان کرتے ہوئے کہا ،مجھے یقین نہ آیا کہ قطب شمالی کے پہاڑوں پر صدیوں سے جمی برف آدھی سے زائد پگھل چکی ہے بہت سے پہاڑ بنا برف کے پتھریلے دکھائی دیتے ہیں۔
قطب شمالی کے عظیم گلیشیئرز گلوبل وارمنگ کے سبب پگھل کر سمندروں میں بہہ رہے ہیں اور سمندر کی سطح بتدریج بلند ہورہی ہے یہ تمام صورتحال اس کرہ ارض اور پوری انسانیت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ماحولیات کے حو الے سے جوجائزے سال 2020ء میں ترتیب دیئے گئے تھے ان میں واضح طور پر بتایا گیا ہے گزشتہ تین برسوں میں اس کرہ ارض کے درجہ حرارت میں 1.3 درجہ کا اضافہ عمل میں آچکا ہے۔ موسم کی تبدیلیاں مزید غضب ڈھاتی ہیں چین میں غیر متوقع طور پر زبردست سیلاب آئے، طوفانی بارشیں ہوئیں یہاں تک کہ چین کے شمال مغربی علاقوں میں دو بیراج ڈیم بہہ گئے بڑے خطے میں فصلیں تباہ ہوگئیں اور درجنوں گاؤں بہہ گئے، اس کے علاوہ جانی نقصان بہت ہوا۔
بھارت کے شمال مشرقی صوبوں میں یہی کیفیت رہی ،منہ زور سیلاب اور موسلا دھار بارشوں سے بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا اور سیکڑوں افراد پانی میں بہہ گئے جبکہ کینیڈا کے مغربی ساحل پر واقع شہر وینکوور اور اس کے اطراف ’’ہیٹ وے‘‘ کی وجہ سے بارہ سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ متاثرہ علاقے میں ایک ہفتہ کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کیا گیا اس طرح امریکا کے شمالی علاقوں میں اس ’’ہیٹ وے‘‘ نے خاصی تباہی پھلائی اس شدید گرمی کی لہر سے جنوب مشرقی ایشیائی علاقے شدید متاثر ہوئے اسی طرح کویت، بحرین اور مشرق وسطی کے کچھ علاقے گرمی کی اس خطرناکی سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)