جموں کشمیر میں سگریٹوں کی غیر قانونی تیاری اور تجارت کیخلاف سرگرم انجمن اے آئی ٹی سی سی کے مطابق کشمیر میں بڑھتی سگریٹ نوشی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں ہر پانچواں شخص سگریٹ پینے کا عادی ہے۔یہ کل آبادی کا20.8فیصد ہے جو قومی شرح یعنی10.7سے کہیں زیادہ ہے۔گلوبل اڈلٹ تمباکو نامی ادارے کی ایک تازہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر وادی میں رواں برس کے دوران تمباکو کے استعمال پر 6ارب 28کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ سروے کے مطابق کشمیر میں ہر چوتھا فرد سگریٹ نوشی کرتا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ بالغوں میں10.4فیصد سگریٹ ، 6.3فیصد حقہ اور 6.2فیصد بیڑی کا استعمال کرتے ہیں۔
بالفاظ دیگر ہاتھ سے مُنہ تک کے اس عمل میں سالانہ بھاری سرمایہ دھوئیں کی نذر ہورہا ہے۔یہ عمل ایک سگریٹ نوش کے دماغ، دل ،پھیپھڑوں،جگر یہاں تک کہ گردوں تک کو متاثر کرکے ایسے مہلک امراض میں مبتلاء ہونے کی راہ ہموار کرتی ہے جن کا علاج یا تو ہے ہی نہیں، یا اتنا مہنگا ہے کہ آبادی کا بیشتر حصہ اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ہے۔الغرض سگریٹ نوشی اور تمباکو اشیا کا استعمال ہمارے یہاں سالانہ لاکھوں کے دنیا چھوڑنے کی وجہ بن جاتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سگریٹ نوشی کا قلع قمع کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی سماجی قبولیت کم کی جائے۔اس کیلئے ہمارے بڑے بزرگوں اور مذہبی پیشوائوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔سماج کے ان ذمہ دار افراد کو سگریٹ نوشی کو ایک شرمناک فعل بنانے کیلئے پہلے خود اس عیب سے چھٹکارا حاصل کرکے اس کو ایک برائی قرار دینا ہوگا تب کہیں جاکر سگریٹ نوشی کی وبا کو کم کیا جاسکتا ہے۔
جموں کشمیر میں سرگرم متذکرہ بالا غیرسرکاری رضاکار تنظیم ،اے آئی ٹی سی سی غیر قانونی اشیا کی تیاری اور اُن کی تجارت کیخلاف کام انجام دیتی آرہی ہے۔ اے آئی ٹی سی سی نے حال ہی میں گلوبل ٹوبیکو سروے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ جموں کشمیر بھارت میں سگریٹ نوشی کو لیکر میگھالیہ، تریپورہ، اُروناچل پردیش،منی پور اور میزورم کے بعد چھٹے نمبر پر ہے۔اہل وادی ہر سال 600کروڑ روپے سے زیادہ کی خطیر رقم تمباکو سے بننے والی اشیا پر خرچ کرتے ہیں۔سرینگر اس فضول خرچی میں122کروڑ روپے کے ساتھ سر فہرست ہے اور اس کے بعد اننت ناگ کا نمبر آتا ہے جہاں کے لوگ ہر سال103کروڑ روپے پھونک ڈالتے ہیں جبکہ بارہمولہ کا نمبر تیسرا ہے جہاں سالانہ98کروڑ روپے سگریٹ اورتمباکو سے بننے والی اشیا پر اُڑائی جاتی ہیں۔
نیو یارک میں قائم جان جے کالیج آف کرمنل جسٹس کے شعبہ سائنس میں کی گئی تحقیق کے مطابق سگریٹوں کے اندر ،نکوٹین،کاربن موناکسائیڈ،لیڈ اور اس جیسا دیگر زہریلامواد ہوتا ہے۔یہ زہر گیس بن کر( دھوئیں کے ذریعے) ایک سگریٹ نوش کے جسم کو کھوکھلا کرتا ہے ۔ غیر قانونی طور پر تیار کی جانے والی سگریٹوں کا استعمال تو اس خطرے کو کئی گنا بڑھاتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی سگریٹوں کے استعمال سے کینسر جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ500فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔غیر قانونی طور تیار کی جانے والی سگریٹ پیکٹوں پر 85فیصد تصویری تنبیہ موجود نہیں ہوتی ہے ۔
اے آئی ٹی سی سی کے مطابق یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ غیر قانونی سگریٹ تیار کرنے والے عناصر کا ٹارگٹ کشمیر کے نوجوان ہیں جنہیں یہ جعلی سگریٹ بہت ہی کم داموں میں فروخت کی جاتی ہیں۔ تشویشناک معاملہ یہ بھی ہے کہ بھارت میں سمگل کئے جانے والے سگریٹوں کی مانگ بڑھ رہی ہے اور بعض نا عاقبت اندیش مینو فیکچرر ان جیسی مصنوعی سگریٹوں کو مقامی طور ہی تیار کرتے ہیں اور ایسے لوگ ٹیکس کی ادائیگی بھی نہیں کرتے ہیں۔
اے آئی ٹی سی سی کے مطابق’’ ماضی قریب میں نئی دہلی کے فرید آباد، نوئیڈا اور غازی آباد علاقوں میں حکام کے چھاپوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وہاں کئی ناموں سے موسوم ایسی سگریٹیں تیار کی جاتی ہیں جو غیر ملکی برانڈوں سے ملتی جلتی ہیں اور جنہیں اور برانڈوں کے ساتھ لگاتار جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میںبھیجا جاتا ہے‘‘۔
وادی کشمیر کے اندر سگریٹوں کی مانگ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی اس خطے کے اندر سگریٹوں کی سمگلنگ ہورہی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ہمارے یہاں کے سگریٹ نوشوں کیلئے غیر ملکی برانڈوں کے نام پر ایسی ایسی واہیات مہیا رکھی جارہی ہے کہ اللہ کی پناہ۔اس پر طرہ یہ کہ اس غیر قانونی کاروبار پر کسی کی بھی نظر نہیں ہے اور یہ کھلے عام جاری ہے۔مارکیٹ میں غیر ملکی برانڈوں کی سگریٹیں اصل میں اُن کی نقل ہوتی ہے جو اصل سے کہیں زیادہ مضر صحت اور ضرر رساں ہوتے ہیں۔اے آئی ٹی سی سی کے مطابق اگر غیر ممالک سے اصل سگریٹ کشمیر پہنچیں گی تو اُن کی قیمت اتنی ہوگی جس کو ہمارے اکثر نوجوان ادا نہیں کرپائیں گے لیکن اُسی نام پر جعلی سگریٹ سستے داموں فراہم کرکے ہمارے نوجوانوں کی جیبیں خالی کی جارہی ہیں اوراُن کی صحت بھی چھنی جارہی ہے۔یہ عمل دہائیوں سے جاری ہے اورکسی سرکاری حاکم کی توجہ بھی اس طرف نہیں جاتی ہے۔ہمارے یہاں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی مخالف قوانین موجودہیں لیکن ان کو عملانے والے حکام نہیں ہیں۔افسوس تو اُس وقت ہوتا ہے جب ہمارے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی سگریٹ بیچتے اور پیتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے سماج کے اندر غیر ذمہ داری کا عنصر اتنی گہرائی تک داخل ہوا ہے کہ اب ہمارے محلے کے بڑے بزرگ بھی نوجوانوں، یہاں تک کہ بچوں کی سگریٹ نوشی کو ان دیکھا کرنے لگے ہیں۔کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی اسی ان دیکھی کی وجہ سے ہمارے یہاں منشیات کے پھیلائو کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔
اے آئی ٹی سی سی کا مزید کہنا ہے کہ نوجوانوں کو ان غیر قانونی طور تیار کی گئی سگریٹوں کی طرف مائل کرنے کیلئے ان میں کئی قسم کے ذائقے ڈالے جاتے ہیں اور انہیں سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ان غیر قانونی طور تیار کی جانے والی سگریٹوں کی بھاری خریداری کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ان میں اور چین،انڈونیشیا اور کوریا جیسے ممالک میں تیار کی جانی والی سگریٹوں کی قیمتوں میں بڑا اور واضح فرق ہے۔ان سگریٹوں کاتھوک کاروبار کرنے والے تاجروں کو انہیں بیچنے سے زیادہ منافع بھی ملتا ہے کیونکہ مذکورہ تاجروں کو یہ سگریٹ انتہائی سستے داموں فراہم ہوتی ہیں۔تھوک دوکانداروں کے زیادہ منافع کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سگریٹوں کا قانونی منافع دس فیصد ہے جبکہ غیر قانونی طورتیار کی جانے والی مصنوعی سگریٹوں کا منافع 100فیصد تک ہوتا ہے۔
سرینگر کے ایک تاجر، جو بنے بنائے لباس کاکا روبار کرتے ہیں، مانتے ہیں کہ اصل میں کشمیر کے اندر اتنی سگریٹ نوشی ہوتی ہے کہ اس کاروبار کو لیکر یہاں ہر ایرا غیرا نتھو کھیرا اپنا ُلو سیدھا کرلیتا ہے۔ انہوں نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا’’ وادی کشمیر سگریٹ تیار کرنے والوں کیلئے جنت سے کم نہیں ہے،آپ وادی سے باہر چلے جائو تو آپ کو سگریٹ لانے کیلئے دوکانوں کی تلاش کرنی پڑتی ہے، ہمارے یہاں کا حال یہ ہے کہ ہر اگلا دوکاندار سگریٹ بیچتا نظر آتا ہے،کیوں، اس لئے کہ یہاں سگریٹوں کے خریدار ڈھونڈنے نہیں پڑتے ہیں‘‘۔
سگریٹ نوشی کرنے والا جانتا ہے کہ صحت پر اس کے کیا اور کیسے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یہ محض کینسر اور عارضہ قلب کی ہی بڑی وجہ نہیں بلکہ یہ دنیا میں موت کی سب سے بڑی دو وجوہات میں بھی شامل ہے لیکن اس کے باوجو د لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سگریٹوں کی تیاری اوران کی تجارت ایک بہت بڑی غیر قانونی تجارتی منڈی ہے ۔یہ محض روپے پیسے اکٹھا کرنے کیلئے جی رہے عناصر کیلئے کمائی کا بڑاذریعہ ہے۔اے آئی ٹی سی سی کے مطابق ہر ریاست اور خطے کے اندر سگریٹوں پر الگ الگ ٹیکس عائدہیں،یہی وجہ ہے کہ سگریٹوں کی سمگلنگ ایک انڈسٹری بنی ہوئی ہے اورسمگلروں کیلئے اس میں بڑا منافع ہے۔
غیر قانونی طور سگریٹوں کی تیاری اور سگریٹ نوشی کیخلاف قوانین موجود ہیں بلکہ اس کیلئے وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے ماتحت ’’نیشنل تمباکو کنٹرول سیل‘‘ نامی ادارہ بھی قائم ہے ۔اسی ادارے کی طرف سے بہت پہلے ’’نیشنل ٹوبیکو کنٹرول پروگرام‘‘ تشکیل دیا جا چکا ہے تاکہ ملک کے اندر سگریٹ نوشی اور اس کے مہلک اثرات کو کم کیا جاسکے۔اس پروگرام کا آغاز وادی کشمیر میں دسمبر2016میں کیا گیا۔لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ نہ سیول سوسائٹی اور نہ متعلقہ حکومتی اداروں نے اس خطر ناک رجحان کو روکنے کے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔جموں کشمیر میں سگریٹ اور تمباکو اشیا سے متعلق ایکٹ مجریہ2003نافذ ہے لیکن اس کے باوجود وادی کشمیر میں سب سے زیادہ سگریٹ نوشی ہوتی ہے اورجعلی سگریٹوں کا کاروبار کیا جاتا ہے۔حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر کے بازار دوسری کئی قسم کی مصنوعی چیزوں کے ساتھ ساتھ جعلی سگریٹوں سے بھی بھرے پڑے ہیں جو کئی گنا مہلک ثابت ہورہے ہیں۔اس سلسلے میں کئی غیر ملکی برانڈوں کی مثالیں دی جاسکتی ہیں جنہیں قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے بیچا جارہا ہے ۔