ہر شئے ،ہر بات اور ہر چیز کی اپنی ایک حد ہوتی ہے ،چاہےاُسکی حیثیت مثبت نوعیت کی ہو یااس کا کوئی منفی پہلو ہو، جب یہ اپنی حد پار کرلیتی ہے تو پھریہ لاحد بن جاتی ہےاور لاحدہوکر یہ کیا تماشا دکھاتی ہے یا کونسا غضب ڈھاتی ہے،اس کے متعلق کوئی بھی شخص پورےوثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا ، البتہ اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی لاحد شئے محض کسی ایک قوم و ملت کے لئے نہیںبلکہ اقوام عالم کے لئے انتہائی نقصان دہ صورت حال کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ مثال ہمارےسامنے ہےکہ جس گلوبل وائرس نے قریباً چھ ماہ قبل چین کے ووہان شہر میں جنم لیا ،آج ساری دنیا میں پھیل چکا ہےاور اپنی تباہ کاریوں سےعام و خاص تو کیا،خاص الخاص پر بھی اپنا لرزہ طاری کرچکی ہے۔دنیا کو منٹوں میں تباہ کرنے والےترقی یافتہ ملکوں کے بڑے بڑے لاٹ صاحب یتیم بچوں کی طرح اس کے سامنے گڑ گڑا کر اپنی بچائو کی راہیںڈھونڈ رہے ہیں۔اب اس گلوبل گائوں کے لئےگلوبل وائرس کو جان دینے والے کائنات کے واحد طاقت پر ہی منحصر ہے کہ وہ کب تک اس وائرس کی عالمِ اقوام سے چھیڑی ہوئی جنگ جاری رکھنے کی مہلت دیتا ہے۔تب تک مزید کیا کچھ ہونے والا ہے ،انسانی عقل سے بالا تر ہے۔تاحال ا قوام ِ عالم کے بڑے بڑےطبی ماہرین کا یہی خیال ہے کہ اس دکھائی نہ دینے والے جان لیواوائرس کی وار کا مقابلہ کرنے کے لئے جو ہتھیاردرکار ہے، اُس کو تیار کرنےمیں بھی ایک سال تک کی مدت درکارہے۔ ظاہر ہوا کہ دنیا کے بڑے بڑے با اثروطاقتور ممالک اس خطرناک وائرس کے آگے اپنے ہتھیار ڈال چکے ہیں جبکہ عالمی ادارہ ٔ صحت نےبھی اسے میڈیکل ایمرجینسی قرار دے کر اپنے ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں۔جس کے کارن اقوامِ عالم کی حکومتیںاب محض اس وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کیلئے ماہرین صحت کی رہنمائی سے طرح طرح کی حفاظتی و احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے احکامات جاری کررہی ہیں۔ جس کے پیش نظر ہندوستان سمیت متعدد ممالک میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ ہے اور عوام کو ان کے گھروں تک محدود رکھنے کے لیے سخت بندشیں عاید ہیں۔ اس ہنگامی لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاںتمام شہریوں کو بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وہاں خصوصاًاُن غریب و مفلس اورمزدورو محنت کش طبقوں سے وابستہ لوگوں ،جن کی معمولاتِ زندگی روزانہ محنت کی کمائی پر منحصر تھی، پر سب سے زیادہ اثر پڑا ہے،وہ فاقہ کشی کے شکار ہوچکے ہیں، یہاں تک کہ اب انہیںایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے ملتی ہے ۔ غریب بستیوں میں رہنے والی عوام یہ تک کہہ رہے ہیں کہ کورونا سے موت یقینی تو نہیںلگتی،البتہ لاک ڈاون جاری رہنے کے باعث بھوک اور پیاس سے اُن کی موت یقینی ہے۔سچ ہی تو ہے کہ بھوک برداشت کرنے کی بھی اپنی ایک حد ہوتی ہے،جب حد پار کرگئی تویہ ایک ایسی مرض کی شکل اختیار کرلیتی ہے جو انسان سے کچھ بھی کرواسکتی ہے۔جہاں انسان کو سب سے بڑا پاپی بناتی ہے وہاں اُسے جُرم پر بھی اُکساتی ہے۔ نہ صرف پاک و ناپاک اور جائز و ناجائز کی تمیز چھین لیتی ہے بلکہ تہذیب و تمدن کی سبھی دلیلوں کو خاکستر کرکے رکھ دیتی ہے۔بھوک ہے ہی ایک عجب ذات،جس کے آگے فلسفہ خودی اور شرافت کی دلیل ڈھکوسلا ثابت ہوتی ہے۔
ذرا غور کیجئےکہ اگرنمرودؔ و فرعونؔ بھوکے ہوتے تو ہرگز خدائی کا دعویٰ نہ کرتے ،اگر شدادؔ بھوکا ہوتا تو جنت کیوں بناتا اور اگر یزیدؔ پیاسا ہوتا تو کربلا ؔ ہی نہ ہوتا،اگر ان کے شِکم سیر نہ ہوتے تو اِن کا جسم روح بن جاتے اوراگروہ فضلِ خدا کو مانتے تو اپنی قوم اور دنیا کے سامنے ذلیل و خوار ہوکرتا قیامت رُسوائے زمانہ نہ بن جاتے۔ظاہر ہے کہ جن کا شکم سیر ہوتا ہے ،اُن کے جسم کے تمام اعضاشہوت کے بھوکے ہوتے ہیں اور جن کا شکم بھوکا ہوتا ہے اُن کےاعضا شہوت سے سیر ہوتے ہیں۔آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ اقتدار کی بھوک کی خاطر انسان کیا نہیں کرتا لیکن جب اُسے روح کی تسکین خاطر بھوکوں کو روٹی دینے،غریبوں کی حاجت روائی کرنے،مظلوموں کی آواز سُننے،ظلم سے نجات دلانے،بے کسوں کا سہارا بننے اور مصیبت زدہ وپریشان حال لوگوں کو راحت دلانے کے مواقع ملتے ہیں تو وہ یکدَم منہ پھیر لیتا ہے اور ان کاموں سے کنارہ کش ہوجاتا ہے،پھر جب اُسے تکلیف پہنچتی ہے تو بس گر گڑانے لگتا ہے،چِلانے لگتا ہے۔اسی لئے بزرگوں کا قول ہے کہ زیادہ شکم سیری اورزیادہ بھوک دونوںمانع عبادت ہیںکیونکہ جہاں بھوکا پیٹ شیطان کا قید خانہ ہوتا ہے وہاں بھرا پیٹ اس کا کارخانہ ہوتا ہے۔کسی بھی انسان کو ناامیدی سے کہیں زیادہ بھوک نامراد یا سرکش بنا دیتی ہےاور بھوکا ،ننگا مزدور و محنت کش جب نا انصافی ،جبر و ظلم وزیادتی کے خلاف اٹھ کھڑا ہوجاتا ہے تو بڑے بڑے تاج اس کی ٹھوکروں میں ہوتے ہیں ،حالانکہ اپنے کرتوت سے ہی لوگوں پر مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے ، یہ تو اللہ کی کریمی ہے کہ ان کے بہت سے قصور در گذر کرتا رہتا ہے،ورنہ فنا کے سوا ان کاآخری انجام اور کیا ہوسکتا ہے؟ خیر!حق بات تو یہ بھی ہےکائنات کی تلخ ترین اور سفاک حقیقت بھوک ہی ہے۔ اگر بھوک اور پیاس نہ ہوتی تو کائنات پر موجودانسان ،چرند و پرند اور ذی روح مخلوقات کس کام کی ہوتی؟اسی لئے قران کریم میںاللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لئے فرمان ہے کہ’’البتہ ہم تم کو ایک شٔے سے آزمائیں گے اور وہ ہے بھوک۔‘‘جبکہ رسول ِرحمت صلی اللہ علیہ وسلم کافرمانِ گرامی ہے :’’دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں ،اس قدر فساد نہیں کرتے جس قدر انسان دولت اور مرتبہ کی بھوک اس کے دین میں فساد ڈالتے ہیں۔‘‘
ہم نے سُنا تھا ،شاید آپ نے بھی سُنا ہو کہ شیر بھوکا مرنا پسند کرتا ہے مگر کسی کا جھوٹا نہیں کھاتا ۔مگر ہم نے پچھلی نصف صدی میں اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ بڑے بڑے شیر ِنَرنہ صرف چیتوں، گیدڑوں ،بھیڑیوں، لومڑیوں، کتوں اور بلیوںکا جھوٹا کھانا چھین کر کھا لیتے ہیں بلکہ انہیں بھی اپنا نوالہ بنا لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔ہاں! یہ الگ بات کہ کئی ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بھوک اور پیاس میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑتے ،مگر اس صبر کی بھی اپنی ایک حد ہوتی ہے، جب اس حد کی حد ہوجاتی تو پھرایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے جو ہلاکت اور بغاوت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔بغور دیکھا جائے تو کورونا وائرس کے پیش نظر حالیہ لاک ڈاؤن کی وجہ سےمختلف ریاستوں کے مفلس وغرباء اور بے سہارا لوگوں کے سامنے بھوک ایک بڑا مسئلہ بن کرکھڑی ہوگئی ہے۔ کئی لوگ بھوک کی وجہ سے موت کی آغوش میں جا چکے ہیں اور کئی لوگ بھوک کی شدت سےبرداشت نہ کرتے ہوئے خودکشی کر بیٹھے ہیں، سرکاری میڈیا کے ذریعے حکومت کے انتظامی امور ،غرباء اور ضروتمندوں تک ضروری اشیاء خوردنی پہنچانے کے دعوےتو کرتے رہتے ہیںلیکن حقیت میں ابھی تک اس پر کوئی مثبت عمل درآمد نہیں ہورہا ہے۔جس سے ملک کی قریباً پنتالیس فیصد آبادی ،خصوصاًمسلمان بستیاں بُری طرح متاثر ہوچکی ہیںکیونکہ ملکی اور سماجی سطح پر کروناوائرس کا مقابلہ کرنے کے بجائےایک ایسی فضاء تیار کی گئی ہے جس میں یہ باور کر انے کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک اِس وقت جس آ فت کا شکار ہوا ہے، یہ درا صل مسلمانوں کی کار ستانی کا نتیجہ ہے۔اس طرح مسلمانوں کی تئیں نفرت اور عناد کے منفی جذ بات پید ا کرنے کے پس ِمنظر میں مسلمانوں کے ساتھ سماجی با ئیکاٹ کی خبر یں بھی ذرائع ابلاغ میں آ رہی ہیں۔ دوا خانوں میں مسلم مریضوں کو داخل کرنے سے انکار کیا جا رہا ہےجبکہ بعض مقامات پر مسلم دکانداروں،سبزی فروشوں اور میوہ فروشوں سے کوئی چیز نہیں خریدی جا رہی ہے۔اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلانے کا مسلمانوں پر الزام ڈالنے یا ان کے ساتھ سماجی بائیکاٹ کرنے سے کیا ہندوستان اس جان لیوا بیماری سے نجات پا جا ئے گا؟ امریکہ نے بھی پہلے کچھ اسی طرح کا رویہ دکھایا تھا ، چین کوکورونا بنانے کا مورد الزام ٹھہرایا تھا اور آج وہ کس صورت حال کا شکار ہے ،سُن کر ہی لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔روزانہ سڑکوںاور شاہراہوں پر لاشوں کے انبار لگ جاتے ہیںجنہیں میونسپل کرینوںو ٹریکٹروں کے ذریعے سڑکوں سے ہٹائے جانے کے عبرت ناک مناظر دیکھ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔یہ اُس ترقی یافتہ ملک کی صورت حال ہے جو عالمی سطح پر مالی ،معاشی ،اقتصادی ،سائنسی ، ٹیکنالوجی اور کئی دیگر شعبوں میں سب سے زیادہ مربوط ،مضبوط و طاقتورمانا جاتا ہے،آج ہر معاملے میں لڑکھڑا رہا ہےبلکہ یوں سمجھئے کہ مسمار ہوگیا ہے،اس کے مقابلے میں دنیا کےباقی ترقی پذیر چھوٹے بڑے ممالک ،جو لاک ڈاون کے نتیجہ میں ہی معشیتی اور معاشرتی طور پر تنزل کے شکار ہوگئے ہیں۔ بھلا سوچئےکہ کرونا کے غضب کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ کس حال تک پہنچ جائیں گے؟
خدشہ ہے کہ کرونا کے ساتھ ساتھ ملک میں اگر فر قہ پر ستی کا بھوت بھی پھیلتا گیا تو ملک کا سارا تا نہ با نہ اس طرح بکھر جا ئے گا کہ دوبارہ اسے جوڑنا حکومت کے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائے گا۔ کیونکہ اس وقت بھی ملک میں بھوک اور فاقہ کشی کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر آ کر ہنگا مہ آ رائی کر رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں گجرات کے شہر سورت میں سینکڑوں غیر مقیم مزدوروں نے بھوک اور پیاس کی تاب نہ لاکر توڑ پھوڑ مچادی۔چنددن قبل ممبئی کے باندرا علاقے میں لاک ڈاؤن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہزاروں مزدور اپنے آ بائی مقا مات کو پہنچانے کا مطا لبہ کر تے ہوئے ا حتجاج پر اُتر آ ئے۔ سرکاری میڈیا نے ان واقعات کو بھی مسلمانوں سے جوڑنے کی کوشش کی،اور اس طرح ان بے سہارا مزدوروں، بے گھر افراد اور محروم طبقات کی مدد کر نے کے بجائے اپنی بد بختی کا خوب مظاہرہ کرتے رہے۔ حب الوطنی اور سچی قوم پر ستی کا تقا ضا ہے کہ مصیبت کی اس نازک گھڑی میں ساری قوم ایک ہو کر اس طوفانِ بَلا خیز کا مقا بلہ کرتی جو کو رونا وائرس کی شکل میں ایک بہت بڑی بَلا بن کر سا منے آ ئی ہے، جس سے لاکھوں افراد کی ہلاکت کے آ ثار بڑھتے جا رہے ہیں۔جس کے پیش ِنظر کوروناوائرس کے پھیلائو پر روک کے لئےملک گیر لاک ڈاون کی مدت۳ ؍مئی تک بڑھادی گئی ہے۔اگرچہ اس وقت بھی کئی رضا کار تنظیمیںاور انسانیت کے دکھ درد کو محسوس کر نے والے افراد اور گروہ بے سہارا اور فاقہ کشی کا شکار لوگوں کی مدد میں لگے ہو ئے ہیںلیکن بیشترعلاقوں میں جہاں سرکاری کارندے یا ر ضا کارتنظیمیں کسی نہ کسی وجہ یا کسی نہ کسی بہانےکی آڑمیں پہنچ نہیں پاتے ،لوگ بدستور بھوک و افلاس میں جی رہے ہیں،جوان زن و مرد تو بھوک برداشت کررہے ہیں لیکن بزرگ اور بچے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں۔اندیشہ ہے کہ اگر لاک ڈاون کے آنے والے چند دنوں تک یہ سلسلہ برقرار رہاتو غریب اور بھوکے لوگوں کے صبر کا پیمانہ کسی بھی وقت ٹوٹ جائے گا ۔اورپھر نہ کسی کو کرونا کا خوف رہے گا اور نہ لاک ڈاون کا ڈر۔قبل اس کے ایسا ہو، حکومت اور سماجی تنظیموں کو اپنے رویوں میں بدلائولانا ہوگا اور بغیر مذہب و ملت،ذات و پات اور رنگ و نسل کے ملک کے تما م بھوکے پیاسےضرورت مندوں تک دانہ پانی لازماً پہنچانا ہوگا ۔