کرناہ//کرناہ میں نالہ کاجی ناگ میں غرقآب ہوئے کمسن بچے کی لاش چوتھے روز بھی نہیں مل سکی ہے جبکہ مقامی لوگوںکے ساتھ ساتھ پولیس اور ایس ڈی آر ایف کے اہلکاروں نے پورے نالے میں سرچ آپریشن جاری رکھا ہے۔خدشہ کیا جارہا ہے کہ لاش سرحد کے ا س پار پہنچ چکی ہے اور مقامی آبادی نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لاش کی تلاش کرنے میں ان کی مدد کی جائے۔ عیدالاضحی کے دن کرناہ کے اری ڈل چترکوٹ کا رہنے والا 10سالہ سید کامران ولد شبیر حسین نالہ قاضی ناگ کو عبور کرنے کے دوران ڈوب گیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب بچہ نالہ میں ڈوب گیا تب بارش ہو رہی تھی اور پانی کا بہاو بھی کافی تیز تھا جس کے بعد بچے کی تلاش میں مقامی لوگوں کو کافی مشکلات پیش آئیں۔ عید کے دوسرے ہی روز بچے کو نالہ سے تلاش کرنے کیلئے ایس ڈی آر ایف کے اہلکاروں کی ایک ٹیم کرناہ پہنچی جنہوں نے ایس ایچ او کرناہ مدثر احمد کی قیادت میں پولیس اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر بچے کی تلاش شروع کی لیکن لاش چوتھے روز بھی بازیاب نہیں ہو سکی۔مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ بچے کی لاش پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بہہ گئی ہے کیونکہ وہاں سے کنٹرول لائن صرف تین کلو میٹر کی دوری پر ہے اور نالہ قاضی ناگ ٹیٹوال سے کشن گنگا کے ساتھ مل جاتا ہے۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ حکام نے بچے کے ڈوب جانے کی اطلاع ہاٹ لائن کے ذریعے سرحد کے اس پار بھی دی ہے اور وہاں کی فوج سے کہا گیا ہے کہ اگر بچہ مل جاتا ہے تو اس کو ٹیٹوال کراسنگ پوئنٹ کے زریعے یہاں روانہ کیاجائے۔معلوم رہے کہ بچے کے گھر میں ماحول سوگوار ہے اور پورے کرناہ میں معصوم کی موت سے ماحول سوگوار ہوا ہے۔مقامی لوگ پچھے چار روز سے بچے کو نالے کے مختلف مقامات پر تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔