بقول عبد اللہ خاورؔ:’’مختصر الفاظ میں کتاب کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ اس کے مطالعے سے آپ کا یہ احساس قوی ہو کہ آپ ایک اچھے دوست کی صحبت میں اپنا وقت گزاررہے ۔حقیقت یہ ہے کہ کتاب ہماری ذہنی طاقت کا سر چشمہ اور تہذیبی و ثقافتی ورثے کی بنیاد ہے۔یہ نفس انسان کوفضیلت کے درجے تک پہنچادیتی ہے۔زندگی کو سنوارتی ہے،فکر کی تربیت کرتی ہے ور ذہن کو بلا بخشتی ہے ‘‘(کتابیں ہم نشیس میری ۔۔از مرزا بشیر شاکرؔ)۔اقوم متحدہ کی تعلیمی اور ثقافتی تنظیم 1955 سے ہر سال 23 اپریل کو عالمی یوم کتب اور یوم حقیق مصنفین کا اہتمام کرتی ہے جس کے تعلق سے دنیابھر میں تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔اکثر اس طرح کی تقریبات محض رسم نبھانے یا کچھ مخصوص لوگوںکو خوش کرنے کے لیے اور کتب بینی کا مسلہ وہی کا وہی رہ جاتا ہے۔جہاں تک ہندوستان میں کتابوں کی اشاعت کا اعداد وشمار کا تعلق ہے۔ہندوستان میں 22زبانوں میں 9 ہزار سے زائد ناشر ہیں،21ہراز سے زیادہ کتب فروش ہیں۔ملک میں 2001 میں خواندگی کی شرح65فیصد تھی جو2011 کی مردم شماری میں74 فیصد ہوگئی۔یہ اندازے لگاگیا ہے کہ 2021 تک ہندوستان 90 فیصد خواندگی کی شرح حاصل کرلے گا۔لیکن ان حوصلہ افزااعدد وشمار کے باوجود آج نصابی کتابوں کے علاوہ دیگر کتابیں چھاپنے کے کاروبار کو زیاں کا سودا کہا جارہاہے۔ کشمیر میں کتابوں کے کتنے ہی بڑے بڑے اسٹور بند ہوچکے ہیں۔کتابوں کے چھوٹے دکانداروں کو بھی نصابی کتابوں کے علاوہ دیگر علمی ،ادبی کتب اور اخبارات او رسائل فروخت کرنے میں نقصان نظر آریا ہے۔
1980 کی دہائی کی ابتدا میں برصغیر میں ٹیلی ویژن کی آمد نے رسائل و جرائد کی تعداد اشاعت کو کافی کم کیا تھا۔1982 میں دہلی میں ایشائی کھیلوں کے انعقاد کے ساتھ رنگین ٹیلی ویژن نے اپنی آمد درج کرائی تھی ۔ٹیوی سیریل بتدریج مقبول ہوتے گئے اور انہوں نے تفریحی مطالعے کی ضرورت کو دھیرے دھیرے ختم کردیا ۔اس وقت ادب کے نام پر سستا ادب بھی بڑی تعداد میں چھپتا تھا لیکن بہرحال لوگوںکے ہاتھوں میں کتاب یا رسالہ نظر آتا تھا۔پاکستان میں ٹی وی سریلوں اور ڈراموں نے اردو کے سب سے کثیر الاشاعت لاکھوں کی تعداد میں چھپنے والے سب رنگ ڈائجسٹ اور رسائل کو بند کرکے آج تاریخ کا حصہ بنادیا۔ہمارے ملک میں آج اردو داں نئی نسل شمع،بیسویں صدی ،بانو،مجرم ،شبستان،کھلونا ،جاسوسی دینا جیسے رسالوں سے ناواقف ہے جب کہ ایک زمانے میں یہ رسائل مقبول خاص و عام تھے۔سنجیدہ ادبی رسائل میں شمار نہ ہونے کے باوجود ،اردو کے تمام بڑے ادیب ان رسائل میں شائع ہوتے تھے اور عام قارئین سے ان کے رابطے کا ذریعہ یہ رسائل تھے۔رسالوں کو پڑھنے کی عادت کتابوں کی طرف بھی مائل کرتی تھی۔بقول عبدالرحمن مخلصؔ:اچھی کتاب اسان کی بہترین رفیق ہے۔یہ اس وقت بھی ساتھ دیتی جب کہی بھی ساتھ دینے پر آمادہ و تیار نہ ہواور طرہ یہ کہ رفیقوں دوستوں کی طرح درازی صحت سے اکتا کر بھی نہیں جاتی ۔ہاں انساں کو بھک یار کر خو د ہی اونگھ گل جائے تو اس میں کتاب کا کوئی قصور نہیںلیکن بے لوث اور بے غرض رفاقت کے حصول کے لئے شرط ہے کہ انسان میں ذوق مطالعہ ہو‘‘۔(کتابیں ہم نشیں میری۔۔از مرزا بشیر شاکرؔ)
اکیسویں صدی کے ساتھ ساتھ ،ڈیجیٹل انقلاب آگیا جس نے آج ہر شخض کے ہاتھ میں اسمارٹ فون دے دیاہے جو معلومات وتفریح کی ہر ممکن ضروت کو تیز رفتاری سے پورا کرنے پرقادر ہے۔اب کتاب کے لیے نہ وقت ہے نہ اس کی ضرورت ہے۔بقول گلزارؔ
کئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیں
بنا پتوںکے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ الفاظ
جن پر اب کوئی معنی نہیں اگتے
بہت سی اصطلاحیں ہیں۔۔
جومٹی ڈسکورسوں کی طرح بکھری پڑی ہیں
گلاسوں نے انھیں متروک کر ڈالا
زباں پر ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کا
اب انگلی کلک کرنے سے بس ایک جھپکی گزرجاتی ۔۔۔۔
بہت کچھ تہہ درتہہ کھلتا چلا جاتا ہے پر دے سے
کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہے
کبھی سینے پہ رکھ کے لیٹ جاتے تھے
کبھی گودی میں لیتے تھے
دوسری جانب بعض مصنف کہتے ہے کہ کتاب کی مانگ آج بھی ہے لیکن ملک گیر تقسیم کا ناقص نظام کتابوں کو ملک کے طویل وعر ض میں پہنچنے نہیں دے رہا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے اگر ملک میں کتابیں پڑھنے والے نہیں تو کتاب میلوں میں اتنی بھیڑ کہاں سے امڈ آتی ہے۔حقیت یہ بھی ہے کہ کشمیر جیسے خطے میں بھی آج کتابوں کے شائقین اور خریدار لاکھوں کی تعداد میں ہیں لیکن آبادی اور خواندگی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں کتب بینی کا شوق آہستہ آہستہ کم ہوتا جارہا ہے ہے۔آج تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بڑھ گئی ہے اور ہمارے قوت خرید بھی پہلے سے زائد ہے لیکن پہلے کے مقابلے مکانوں اور بنگلوں میں جگہ کی تنگی کے سبب بھی لوگ کتابیں رکھنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں۔اسیا لگا ہے کہ کتابیں ہم پر کوئی بوجھ ہیں۔بقول فرانس کا فکا:’’ایک کمرہ بغیر کتاب کے ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم بغیر روح کے‘‘بچپن سے ہی بچوں میں کتاب پڑھنے کا شوق پیدا کرنا اور کتاب کی اہمیت کو ذہن نشیں کرانے میں گھر کے ماحول کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ساتھ ہی اچھی اور بڑی کتاب میں فرق کرنے اور اچھی کتابوں کے انتخاب کی صلاحیت کی بھی بڑی اہمیت ہے۔آج طباعت و اشاعت کی جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کی دستیابی نے کتابوں کی اشاعت کو سہل کام بنادیا ہے لیکن بڑی تعداد میں غیرمعیاری کتابیںبھی سامنے آرہی ہیں جن کے مصنفین اپنی کتابوں کی تعداد بڑھانے کے لیے بے چین ہیں۔دراصل کتابیں ہی وہ ذریعہ جو ہمیںاپنے عہد کے ماضی کے بہترین ذہنوں سے ہکلام کرتی ہیں۔ اور عقل و دانش اور غور فکر کے اظہار کے ذریعے ہمارے ذہن کو پستی سے بلندی کی طرف لے جاتی ہیں۔اچھی کتابیں ہی ہمیں تخیل اور تصور کی نئی نئی پروازوں میں شریک سفر کرتی ہیں۔ہمارے معاشرے میں کتابوں کے مطالعے کاشوق پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔ اچھی کتابوں کے مطالعے سے ایمان میں پختگی ،علم میں ترقی ، معرفت کا حصول ،کائنات کے راز، عقل شعور میں اضافہ ، دینی اور دنیاوی ترقی ، ذہنی سکون و تازگی اور تہذ یبوں کی آگاہی کا علم حاصل ہوتا ہے۔نیر یہی آج کے دن کا پیغام ہے چناچہ کتابیں ہماری بہترین رفیق ہیں اور اچھی کتاب سے بہتر دوست،فلسفی اور رہنما شاید ہی کوئی ہو۔
رابطہ۔ رعناواری سرینگرکشمیر
فون نمبر۔9103654553
�����