سرینگر//سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ’’میں نے کبھی اس بات کا اندازہ نہیں لگایا تھا کہ پی جی پی پریذیڈنٹ امیت شاہ اپنے نظریات میں اس قدر فاشسٹ ہوگا کہ وہ براہ راست کانگریس کے انتخابی منشور کو اس بات کیلئے ہدف ملامت بنائے گا کہ کانگریس پارٹی اقتدار میں آنے پر کشمیر میں افسپاء کو بنیادی ترامیم کے ذریعے قابل عمل بنائیں گے اور کشمیریوں کے احساسات کو نظر میں رکھ کر سیاسی مذاکرات شروع کریںگے۔ ہندوستان کے وہ لوگ جو جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں، اُن کو ایک زبان میں امیت شاہ کے تشددانہ فاشسٹ خیالات کو رد کرنا چاہئے۔ افسوس کی بات ہے کہ امیت شاہ کو اتنا بھی وقت دستیاب نہیں ہے کہ وہ افسپاء کا ہندی ترجمہ پڑھے اور خود اندازہ کرے کہ مرکزی حکومت کتنے قابل مذمت طریقے سے طاقت کا استعمال کر رہی ہے جس سے بے گناہ کشمیری تو مرتے جا رہے ہیں ،لیکن اسی کے ساتھ مرکز کے خلاف کشمیر یوں کے دلوں میں غصہ اور تشویش بڑھتا جا رہا ہے!امیت شاہ ہم کو یہ بھی نہیں بتائیں گے کہ اُس کو معلوم ہے کہ خود منی پور بی جے پی حکومت کے چیف منسٹر این ۔ بیرن سنگھ (N. Biren Singh)نے کھلے عام اس بات کا اعلان کیا تھا کہ افسپاء جیسے قانون کو کالعدم کیا جانا چاہئے۔مجھے خیال ہے امیت شاہ جیسے لوگوں کو بہت جلد سمجھ میں آئے گا کہ کشمیر میں بے تحاشا طاقت کے استعمال سے نہتے اور معصوم کشمیری تو مرتے جائیںگے ،مگر اسی کے ساتھ کشمیریوں کی اکثریت کے دل و دماغ میں مرکز کے خلاف غصہ اور تشویش بڑھتا ہی جائیگا۔ ‘‘