جموں// جموںوکشمیر آئین ساز اسمبلی کے رکن کامریڈ کرشن دیو سیٹھی کے انتقال پر بہت سی سماجی اور سیاسی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر تعزیت کی ہے۔نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے آئین ساز اسمبلی کے بزرگ رکن اور سابق ایم ایل اے نوشہرہ کرشن دیو سیٹھی کے سرگباش ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیاہے۔ دونوں لیڈران نے آنجہانی کی آتما کی شانتی کیلئے دعا کی اور پسماندگان خصوصاً آنجہانی کے فرزند اُنچل سیٹھی کیساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ دونوں لیڈران نے آنجہانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیٹھی صاحب ایک دوراندیش سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منجھے ہوئے دانشور اور اہل قلم تھے جنہوں نے ہمیشہ اپنے قلم کے ذریعہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کی اور ساتھ ہی جموںوکشمیر کے بنیادی مسئلہ کے حل کے متمنی رہے۔ پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدور ناصر اسلم وانی، دیوندر سنگھ رانا، سینئر لیڈران میر سیف اللہ ، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، رتن لعل گپتا اور دیگر پارٹی لیڈران نے بھی کرشن دیو سیٹھی کے فوت ہونے پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور آنجہانہ کے اہل خانہ خصوصاً اُن کے فرزند اُتل سیٹھی کیساتھ تعزیت کی ہے۔ ممبر پارلیمنٹ حسنین مسعودی نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم کے جی دیو سیٹھی کو جموں ، کشمیر اور لداخ اتحاد ، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی علامت کہا ہے ۔پی ڈی پی کے صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بھی مشہور کمیونسٹ رہنما کے انتقال پر غم کا اظہار کیا۔انہوںنے کہا کہ سیٹھی صاحب کے انتقال کے بارے میں جان کر بہت غم ہوا۔ میں اسے جموں میں ملنے کی امید کر رہی تھی،انہوں نے میرے ساتھ ایک بیٹی کی طرح سلوک کیا اور میرے بچپن کا لازمی حصہ ر ہے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے سیٹھی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے غمزدہ انتقال کو ریاست اور اس کے عوام کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔دریں اثنا ، پارٹی کے نائب صدر اے آر ویری نے مرحوم سیٹھی کو ایک تجربہ کار رہنما اور سیاستدان بتایا جو اپنے آپ میں ایک ادارہ تھا۔جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی صدر جی اے میر نے کرشن دیو سیٹھی کے انتقال پر تعزیت کی اور لواحقین اور دوستوں سے گہرے تعزیت کا اظہار کیا۔ جے کے پی سی سی کے صدر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرشن دیو سیٹھی کا انتقال واقعی ایک بہت بڑا نقصان تھا۔ میر نے غمزدہ کنبہ کے ساتھ غم کا بھی اظہار کیا اور ان سے اظہار یکجہتی کیا۔اپنے پیغام میںسابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا کہ میں سوسائٹی کے مزدور اور دبے طبقے کے دور اندیش رہنما ، کرشن دیو سیٹھی کے انتقال پر انتہائی رنجیدہ ہوں۔سوز نے کہا کہ "میں کرشن دیو سیٹھی کو ایک طویل عرصے سے ذاتی طور پر ایک بہت ہی سرشار اور سیدھے لیڈر کی حیثیت سے جانتا تھا ، جس کو معاشرے میں غریب طبقے کی گہری تشویش تھی‘‘۔انہوںنے کہا کہ سیٹھی کویاست جموں و کشمیر کے مختلف حصوں کی تاریخ پر انہیں گہری بصیرت حاصل تھی۔ان کا کہناتھا کہ سیٹھی کا انتقال ہرفردخصوصا ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے مزید کہا ، "میں کرشن دیو سیٹھی کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے معروف ومشہور بزرگ سیاستدان، مورخ، منصف ، دانشور اور جموں وکشمیر آئین ساز اسمبلی کے رکن کرشن دیو سیٹھی کے انتقال پرگہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔بخاری نے کہاکہ سیٹھی مشہور مصنف اور مفکر تھے جوکہ جموں وکشمیر کے اندر مختلف سیاسی نشیب وافراز کے چشم دید تھے۔ انہوں نے کہا’’میں آنجہانی روح کی تسکین کے لئے دعا گوہوں اور سوگوار کنبہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں‘‘۔ دریں اثناء اپنی پارٹی سنیئر نائب صدر اور سابقہ وزیر غلام حسن میر، سنیئرلیڈر اور سابقہ ایم ایل اے محمد دلاور میر، نائب صدر عثمان مجید، نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی، ظفر اقبال منہاس، نائب صدر اعجاز احمد خان، جنرل سیکریٹری وجے بقایہ، رفیع احمد میر، وکرم ملہوترہ نے بھی کرشن دیو سیٹھی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور غمزدہ کنبہ کے ساتھ دکھ کی اِس گھڑی میں دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اپنی پارٹی نائب صدر ظفر اقبال منہاس نے کہاکہ’’ کرشمن دیو سیٹھی کی وفات سے جموں وکشمیر کی نظریاتی سیاست کے ایک دور کا خاتمہ ہوگیا۔انہوںنے کہا کہ اہل کشمیر نے ان کی موت میں بلا شبہ ایک بے لوث محسن آج کھو دیا ہیں۔کامریڈ کرشن دیو سیٹھی کے انتقال خواجہ محمد یوسف گلکار نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوے کہا کامریڈ کرشن دیو سیٹھی بالحاظ مذہب ملت رنگ ونسل ذات و برادری آخری دم تک مظلوموں کے حق میں اپنی آواز بلند کرتے رھے۔ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون نے بھی ایک ممتاز سماجی سیاسی شخصیت اور جموں و کشمیر دستور ساز اسمبلی کے آخری زندہ رکن کرشنا دیو سیٹھی کے انتقال پر تعزیت کی۔سجاد لون نے کہا کہ کرشنا دیو سیٹھی مضبوط اصولوں کے مالک تھے ، ان کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور پر امن اعتقاد رکھتے تھے۔ اسے اپنے ویژن ، صداقت اور بے لوث خدمات کے لئے یاد کیا جائے گا جو انہوں نے لوگوں کو بخشا ہے۔کے ڈی سیٹھی کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے مرحوم کو جموں وکشمیر میں ترقی پسند اور سیکولر سیاست کا آئینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم رہنما جو کل تک جموں و کشمیر آئین سازسمبلی کے واحد زندہ رکن تھے اور سیاسی واقعات کی ترتیب کا گواہ جس کی وجہ سے جموں و کشمیر کے لوگوں کی انفرادیت اور وقار کے تحفظ کے لئے قانونی دفعات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس رہنما کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ متحد ہونا اور اس مشن کو جاری رکھنا ہے جس کے لئے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔ تاریگامی نے سیٹھی کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔محکمہ قانون کے ملازمین اور سول سیکرٹریٹ نان گزیٹیڈ ایمپلائز یونین کے ممبران نے آج سیکرٹری قانون محکمہ اَچل سیٹھی کے والد کے ڈی سیٹھی کے اِنتقال پر گہرے رنج و غم کا اِظہار کیا۔یہاں سول سیکرٹریٹ کے احاطے میں منعقدہ ایک تعزیتی میٹنگ میں شرکاء نے سوگوار کنبے کے ساتھ دلّی اِظہارِ تعزیت کیا اور مرحوم کی روح کے اَبدی سکون کے لئے دعاکی۔
پردیش کانگریس کمیٹی ، نائب صدر اور سابق وزیر ، جی ایم سروڑی بھی کرشن دیو سیٹھی کے انتقال پر گہرے رنج والم کااِظہارکیاہے۔سروڑی نے ان کی موت کو ’عظیم سانحہ‘قرار دیا اور کہا کہ ان کی عوام کی سیاسی اور معاشی ترقی میں بے پناہ شراکت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔شیعہ فیڈریشن صوبہ جموں نے آئین ساز اسمبلی کے رکن اور مشہور کالم نویس کرشن دیو سیٹھی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر کے عوام ایک عظیم شخصیت سے محروم ہوگئے ہیں۔ایک تعزیتی پیغام میں فیڈریشن صدر عاشق حسین خان نے کہا کہ کرشن دیو سیٹھی جیسا شخص صدیوں میں پیدا ہوتاہے اور وہ ایک مفکر ،تاریخ دان اور سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ سیکولر ازم کے علمبردار بھی تھے۔عاشق خان نے کرشن دیو سیٹھی کی آخری رسومات میں شرکت کی۔انہوں نے کہاکہ سیٹھی صاحب کی موت سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا اور وہ دکھ کی اس گھڑی میں ان کے لواحقین اور چاہنے والوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔