جموں// ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے چیئرمین، غلام نبی آزاد نے جمعہ کو کہا کہ ان کی پارٹی جموں و کشمیر میں ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھری ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں گورنر راج کو کسی قیمت پر طول نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن یہاں جموں کشمیر میں ہم انہیں حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور شاید وہ چاہتے ہیں کہ ہم نوکر شاہی کے رحم و کرم پر رہیں۔اس موقع پر کانگریس لیڈر نوین بالی، کارپوریٹر انو بالی اور سینکڑوں کارکنوں نے ڈی اے پی میں شمولیت اختیار کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ ڈی اے پی ایک سیاسی فورم ہے جو سب کے لیے کھلا ہے لیکن صرف میرٹ کی بالادستی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے جن کا سیاسی ٹریک ریکارڈ خراب یا داغدار ہے لیکن ان کی پارٹی نئے اور مضبوط چہروں کی تلاش میں ہے جو لوگوں کے لیے کام کر سکیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ کسی کو گلابی بستر کی امید نہیں رکھنی چاہیے اور صرف اقتدار کے مزے لوٹنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جو بھی ان کی پارٹی میں شامل ہو گا اسے سخت محنت کرنا ہو گی اور اپنا ریکارڈ صاف رکھنا ہو گا۔سیکولرازم پر تبصرہ کرتے ہوئے آزاد نے کہا ، “بھارت کے ہر شہری کو اپنی متنوع ثقافت پر یقین کرنا ہوگا اور مذہبی، سماجی اور ثقافتی عقائد سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا”۔انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ان تمام لوگوں کے لیے دروازے کھولے ہیں جو جموں و کشمیر کی بہتری اور خوشحالی کے لیے ہاتھ ملانا چاہتے ہیں۔اُنہوں نے کہا،”سب سے بڑھ کر میں بھارت کا شہری ہوں اور کسی بھی مذہبی اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص آکر مجھ سے مل سکتا ہے۔ کیونکہ خدا نے ہم سب کو مختلف شناختوں کے ساتھ انسان بنایا ہے‘‘۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ سیاست میں کاروباری سلطنتیں بنانے اور جائیدادیں خریدنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ بطور سیاستدان ان کا کام صرف انسانیت کی خدمت ہے۔آزاد نے مزید کہا،”سیاست کا مطلب خدمت ہے۔ یہ کسی دوسرے پیشے کی طرح نہیں ہے جہاں آپ دولت کما سکتے ہیں اور سلطنتیں بنا سکتے ہیں۔ میں خدمت پر یقین رکھتا ہوں اور میں اسے جاری رکھوں گا‘‘۔ آزاد نے کہا کہ ہم تمام شہریوں کو ایک جامع ذہن سازی کرنا ہوگی جہاں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ اگر ہمارے ذہنوں میں گندگی ہے تو ہم اپنے ملک کو برباد کر دیں گے جس کی ایک بھرپور تاریخ ہے۔