پونچھ/خطہ پیر پنچال میں بھی بیساکھی کا تہوار مذہبی جوش خروش سے منایا گیا۔اس دوران لوگوں نے خطہ کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کی ۔واضح رہے کہ پونچھ میں بیساکھی کے تہوار کو دوسرے علاقوں سے زیادہ خصوصیت حاصل ہے۔اس تہوار پر پونچھ قصبہ سے چند کلو میٹر کی دوری پر واقع آستان ڈیرہ ننگالی صاحب میںسالانہ بیساکھی میلہ کا انعقاد کیا جا تا ہے جس میں سکھ مذہب کے ماننے والے اور دیگر مسالک کے لوگ بڑے ہی عقیدت و احترام کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔بیساکھی کے میلہ کی شروعات 1805ء میں ہوئی تھی ۔ڈیرہ ننگالی صاحب جو کہ ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے ،نے جموں و کشمیر میں سکھ مذہب کی تبلیغ میں ایک عظیم کردار ادا کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ریاست کی سکھ برادری اس سے عقیدت رکھتی ہے ۔جمعرات کو اس سلسلہ میں ڈیرہ ننگالی صاحب میںریاست کے کونے کونے سے سکھ اور ہندو عقیدت مندوں کے علاوہ ملک اور بیرون ملک سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اس دوران ہونے والے آکھنڈ پاٹھ، شبد کیرتن ،ارداس، بوگھ اور لنگر میں شمولیت کر کے اپنی عقیدتوں کا اظہار کیا۔مقامی لوگوں کی جانب سے ڈیرہ ننگالی صاحب کے احاطہ میں خصوصی دوکانیں سجائی گئی تھی جن میں کھانے پینے کے علاوہ دیگر سازو سامان دستیاب تھا۔میلہ کے دوران سکھ نوجوانوں کی جانب سے کھیل بھی کھیلے گئے خصوصی طور پرگتکا (جنگی کھیل) جس میں ننگی تلواریں اٹھا کر اور مذہبی لباس پہن کر نوجوانوں نے سینکڑوں کی تعداد میںشرکت کی جودیکھنے لائق تھا ۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے بھی تمام عقیدتمندوں کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے جبکہ ضلع پولیس نے سخت انتظامات رکھے ۔اس سلسلہ میں بات کرتے ہوئے گردوارہ سنگھ سبھا پونچھ کے صدر نے کہا کہ ڈیرہ ننگالی صاحب سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لئے ایک تبلیغی مقام کی حیثیت رکھتاہے ۔انہوںنے کہاکہ وہ انتظامیہ اور دیگر تمام لوگوں کا تعاون کیلئے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔