۔27ہزارفیلڈ عملہ تعینات،20اضلاع کو 24 ہزار سے زیادہ بلاکوں میں تقسیم
بلال فرقانی
سرینگر//ملک گیر مردم شماری 2027مہم کے تحت جموں و کشمیر اور لداخ میں اتوار 17مئی 2026سے 15روزہ خود شماری سہولت باضابطہ طور پر شروع ہوگئی۔یہ عمل، جو ہندوستان کی مردم شماری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرایا گیا ہے، صبح 6بجے شروع ہوا۔خود شماری کی یہ سہولت 31مئی 2026تک دستیاب رہے گی۔جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا اور لداخ کے لیفٹیننٹ گورنرونے کمار سنہا نے اس عمل کا افتتاح کرتے ہوئے خود اپنی مردم شماری درج کی اور عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ پورٹل پر جا کر اپنے گھریلو کوائف خود درج کریں۔دونوں یونین ٹریٹریوں کے چیف سیکریٹریوں اتل ڈلو اورآشیش کندرانے بھی افتتاحی روز ہی اپنی خود شماری مکمل کی۔اس کے علاوہ بیشتر ممبران اسمبلی ،ڈپٹی کمشنروں اور دیگر سینئر عہدیداروں نے بھی اپنی خود شماری مکمل کی۔اس نئی سہولت کے ذریعے شہری ایک محفوظ آن لائن پورٹل پر اپنی معلومات خود درج کر سکیں گے، جس سے مردم شماری کے عمل میں شفافیت، درستگی اور عوامی شرکت کو فروغ ملے گا۔خود شماری مرحلے کے بعد یکم جون سے 30جون 2026 تک ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری کے تحت گھر گھر جا کر سروے کیا جائے گا۔جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل مردم شماری عمل کیلئے مجموعی طور پر 27,784 فیلڈ اہلکار تعینات کئے گئے ہیں، جن میں 23,774 شمار کنندگان اور 4,014 سپروائزرز شامل ہیں۔ پورے خطے میں 24,000 سے زائدمکان شماریات بلاک تشکیل دیے گئے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ کی جیو ٹیگنگ مکمل ہو چکی ہے تاکہ مردم شماری کے عمل کو زیادہ شفاف، منظم اور درست بنایا جا سکے۔شہری se.census.gov.in پورٹل کے ذریعے اپنے فعال موبائل نمبر کے ساتھ رجسٹریشن کر کے گھرانے اور افراد کی تفصیلات آن لائن درج کر سکتے ہیں۔چیف پرنسپل مردم شماری افسر جموں و کشمیر و لداخ امت شرما کے مطابق مردم شماری کی حوالہ جاتی تاریخ یکم مارچ 2027 مقرر کی گئی ہے، جبکہ برفانی اور لداخ کے علاقوں کیلئے یہ عمل یکم اکتوبر 2026 کو ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں آبادی کا تفصیلی اندراج فروری اور ستمبر 2027 میں مختلف علاقوں میں مکمل کیا جائے گا۔اتوار کو پرنسپل سینسس افسر (شہری) و کمشنر میونسپل کارپوریشن فاضل الحسیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خود اندراج عمل ایک انقلابی اور شہری مرکزیت رکھنے والا اقدام ہے جس کے ذریعے عوام پہلی مرتبہ گھر بیٹھے اپنی معلومات خود درج کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ شفافیت اور درست اعداد و شمار کے ذریعے ترقیاتی اور فلاحی منصوبہ بندی کو بھی نئی سمت دے گا۔انہوںنے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قومی عمل میں بھرپور شرکت کریں اور درست معلومات فراہم کریں تاکہ مردم شماری 2027 ایک جامع، قابل اعتماد اور حقیقی آبادیاتی تصویر پیش کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہری درست اور مکمل معلومات فراہم کریں تاکہ مردم شماری کے نتائج ایک حقیقی اور قابل اعتماد آبادیاتی تصویر پیش کر سکیں، جو مستقبل کی مؤثر منصوبہ بندی اور ترقیاتی اقدامات کے لیے ناگزیر ہے۔چیف پرنسپل مردم شماری افسر امت شرما نے کہا کہ اس مہم کے لیے دونوں یوٹیز میں وسیع تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں، جن میں جی آئی ایس نقشہ سازی، فیلڈ عملے کی تربیت، عوامی بیداری مہمات اور دور دراز و برف پوش علاقوں کے لیے خصوصی انتظامات شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ خود شماری مرحلے میں گھروں کی حالت، بنیادی سہولیات، بجلی، انٹرنیٹ، پینے کے پانی، صفائی ستھرائی، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی بکہ دوسرے مرحلے یعنی آبادی کی مردم شماری اور ذات پات مردم شماری فروری 2027 میں ہوگی۔ اس مرحلے میں عمر، جنس، تعلیم، روزگار، نقل مکانی، ازدواجی حیثیت، معذوری، شرح پیدائش اور دیگر سماجی و معاشی معلومات جمع کی جائیں گی۔امت شرما نے مزید کہا کہ مردم شماری کے دوران جمع ہونے والے تمام ڈیٹا کی حفاظت کے لیے جدید ڈیجیٹل سکیورٹی نظام قائم کیا گیا ہے، جس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن، محفوظ ڈیٹا اسٹوریج اور محدود رسائی جیسے اقدامات شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں مردم شماری کا عمل اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ایپس کے ذریعے انگریزی، ہندی اور اردو زبانوں میں انجام دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں شہری توسیع، نقل مکانی، میونسپل حدود میں اضافہ اور ترقیاتی ترجیحات کے تناظر میں یہ مردم شماری خاص اہمیت رکھتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اپنی خود شماری کی | کہا مردم شماری تاریخی اہمیت کی حامل
عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے خود شماری کے آغاز کے موقع پر اتوار کواپنی خود شماری کی۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 2027کی مردم شماری تاریخی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ہندوستان کی پہلی مکمل ڈیجیٹل اور پیپر لیس مردم شماری ہے جس میں جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، موبائل پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نظام اور خود شماری کے طریقہ کار کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشق کا مقصد آپریشنز کی زیادہ سے زیادہ کارکردگی، شفافیت، درستگی اور حقیقی وقت کی نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ مردم شماری 2027 کے لیے شہری توسیع، نقل مکانی کے رجحانات، میونسپل دائرہ اختیار کی توسیع اور ترقیاتی ترجیحات کے پیش نظر خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ مردم شماری شواہد پر مبنی گورننس، ٹارگٹڈ ویلفیئر ڈیلیوری اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے لیے ضروری قابل اعتماد اور دانے دار ڈیٹا سیٹس تیار کرے گی۔