راجوری +مینڈھر// مینڈھر پونچھ میں جنگجوئوں کیساتھ ایک اور خونریز تصادم آرائی میں فوجی افسر اور ایک اہلکار ہلاک جبکہ ایک اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا۔پچھلے 4روز کے دوران اس علاقے میں یہ دوسری معرکہ آرائی ہے جس میں اب تک 2آفیسر اور 5اہلکار ہلاک اور 2اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔تازہ تصادم میں ایک اور جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور ایک فوجی اہلکار مارے گئے۔11اکتوبر کوڈھیرا کی گلی پونچھ میں مغل روڑ کے کنارے چمراڑ کے گھنے جنگل میں تلاشی آپریشن کے دوران48آر آر کی ایک تلاشی پارٹی پر جنگجوئوں کے ایک گروپ نے گھات لگا کر حملہ کیا جس میںایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر دیگر 4اہلکاروں سمیت ہلاک ہوا جبکہ ایک اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا۔اس واقعہ کے بعد اس پورے جنگلاتی علاقے اور پہاڑی سلسلے کو گھیرے میں لیکر وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا گیا جو پچھلے 4روز سے جاری ہے۔دوسرے روز یعنی 12اکتوبر کو بھی جنگل میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا لیکن تیسرے دن یعنی بدھ کو طرفین میں کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا۔پولیس کے مطابق جمعرات کو ڈھیرا کی گلی سے 3گھنٹے کی مسافت پر واقع جموں پونچھ شاہراہ پر مینڈھر کے بھٹہ دھوڑیاں جنگل میں ایک بار پھرتازہ تصادم ہوا جس میں ایک اور جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور ایک اہلکار ہلاک جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہوا۔اس واقعہ کے بعد جموں پونچھ شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل کردی گئی ہے۔یہ علاقہ مینڈھر کے بھمبر گلی کے قریب پڑتا ہے اور رومیو فورس کی کمانڈ کے تحت جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح سیکورٹی فورسز کو ایک مخصوص انٹیلی جنس ان پٹ موصول ہوا کہ جموں راجوری پونچھ قومی شاہراہ سے متصل بھٹہ دھوریان گائوں کے گھنے جنگلاتی علاقے میں کچھ مشکوک حرکات دیکھی گئی ہیں۔گائوں بھاٹا دھوریاں دہرہ کی گلی سے تقریبا پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے لیکن یہ جنگلات کا حصہ ہے جو کہ دہرہ کی گلی تک چلتا ہے جہاں پیر کو انکانٹر شروع ہوا۔"جمعرات کو شام کے اوقات میں ، فوج کی سرچ پارٹی جنگل کے علاقے میں آگے بڑھ رہی تھی جب وہ چھپے ہوئے عسکریت پسندوں کی طرف سے شدید فائرنگ کی زد میں آئے اور فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ شام چھ سے ساڑھے چھ بجے کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا اور میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور ایک جوان شدید زخمی ہوئے جنہیں دونوں کو نکال لیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فوج کے کچھ دیگر جوانوں کے زخمی ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔دریں اثنا ، بھٹہ دھوریاں گائوں کے علاقے میں تصادم کے فورا بعد ، فوج اور پولیس دونوں کی کمک پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لیا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ جنگل کا احاطہ جہاں انکانٹر ہوا وہ مینڈھر سب ڈویژن قصبے کی حدود میں آتا ہے اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
فوجی اہلکار کی خود کشی
خود کو گولی مار دی
اشرف چراغ
کپوارہ//شمالی ضلع کپوارہ کے کرالہ پورہ علاقہ میں فوجی اہلکار نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ۔ جمعرات کی شام دیر گئے نیاری کرالہ پورہ کے فوجی کیمپ میں انجینئرنگ یونٹ سے وابستہ ایک فوجی جوان سپاہی دھیرج کمار نے اپنی سروس رائفل سے خود پر گولی چلائی جس کے دوران وہ شدید طور زخمی ہوا۔ اسے فوری طور درگمولہ میں قائم فوجی اسپتال میں علاج و معالجہ کے لئے دا خل کیا گیا اور پھر نازک حالت میں ادھم پورکے فوجی اسپتال میںمنتقل کیا گیاجہا ں وہ زخمو ں کی تاب نالاکر دم تو ڑ بیٹھا ۔اسکی خود کشی کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔