ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کی تحصیل کاہرہ کے درجنوں دیہات میں پینے کے صاف پانی کی کمی کے باعث سینکڑوں نفوس پر مشتمل آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ملانوں، ٹانٹا،گنوڑی ،کوٹھل،بٹوگڑہ ،نان، کنو، چبہ و دیگر ملحقہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی و محکمہ جل شکتی کی عدم توجہی سے رمضان المبارک کے دوران کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس دوران اتوار کے روز مقامی لوگوں نے ملانوں کے نزدیک محکمہ کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ پچھلے دس دنوں سے وہ پانی سے محروم ہیں۔بلال احمد نامی ایک مقامی باشندہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پانی کی کمی کو لے کر متعدد بار محکمہ سے رجوع کیا لیکن کوئی ملازم موقع پر نہیں پہنچا۔سماجی کارکن آصف اقبال بٹ نے کہا کہ پانی کی عدم موجودگی کے باعث عورتوں، بچوں و ضعیف العمر لوگوں کو کوسوں دور جا کر پانی لانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر اسکیمیں ناکارہ ہوئیں ہیں اور کچھ اسکیموں پر کام عرصہ دراز سے تعطل کا شکار ہوا ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگ پریشان ہیں۔ اس دوران ڈی ڈی سی ممبر کاہرہ معراج الدین ملک نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے لوگوں کو یقین دلایا کہ ترجیحی بنیادوں پر پانی کی بحالی کیلئے محکمہ جل شکتی پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے اس دور میں بھی درجنوں دیہات نالوں کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔انہوں نے انتظامیہ و محکمہ جل شکتی کی ناقص کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکار 'ہر گھر نل' پہنچانے کے پروگرام کے تحت کروڑوں روپے واگذار کرتی ہے لیکن زمینی سطح پر ان کا بہت کم استعمال کیا جاتا ہے جس کے باعث غریب و بے سہارا عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہتی ہے۔انہوں نے جل شکتی کے اے ای ای کو ہدائت دی کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ملحقہ علاقوں میں پانی بحال کریں اور ناکارہ اسکیموں کی مرمت کریں تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔