اشرف چراغ
کپوارہ // کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کرالہ گنڈ لنگیٹ میں ایک ڈاکٹر اور دو ملازمین پر حملہ نے پورے ضلع میں طبی پیشہ وروں اور صحت کارکنوں کے احتجاج کو جنم دیا ہے۔ سی ایس سی کرالہ گنڈ اور سب ڈسٹرکٹ ہسپتال لنگیٹ میں مظاہرے کیے گئے۔ اتوار کوایک گروپ نے مبینہ طور پر کرالہ گنڈ اسپتال کے اندر داخل ہوئے اور ڈیوٹی پر تعینات ایک ڈاکٹر اور دو ملازمین پر حملہ کیا اور ان کی مار پیٹ کی۔ اسپتال میں طبی اور نیم طبی عملے نے فوری طور واقعہ کے خلاف زور دار احتجاج کیا بعد ازاں پولیس نے واقعے کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کرلیا۔حملہ سے ناراض ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے سی ایچ سی کرالہ گنڈ، پرائمری ہلتھ سنٹر قلم آباد اور ایس ڈی ایچ لنگیٹ تینوں جگہوں پر مظاہرے کیے اور ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات صحت کی دیکھ بال کرنے والے پیشہ ور افراد میں خوف پیدا کرتے ہیں اور مریضوں کی دیکھ بال کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ “ڈاکٹر مسلسل خطرے میں کام نہیں کر سکتے۔ اگر ہسپتال غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، تو اس کا براہ راست صحت عامہ کی خدمات پر اثر پڑے گا۔ملازمین کے دوبارہ ڈیوٹی شروع کرنے سے قبل احتجاجی مظاہروں نے صحت کی سہولیات پر معمول کے کام کاج میں کئی گھنٹوں تک خلل ڈالااور انتباہ دیا کہ اگر مناسب تحفظات فراہم نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کو تیز کر سکتے ہیں۔اس دوران ڈاکٹرس ایسو سیشن کپوارہ کے صدر ڈاکٹر، اعجاز احمد بٹ نے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے وقعات پیش نہ آسکے۔۔ چیف میڈیکل آفیسر کپوارہ ڈاکٹر مسرت اقبال نے کرالہ گنڈ اسپتال کا دورہ کیا اور احتجاج پر بیٹھے طبی اور نیم طبی عملے سے کہا کہ وہ اپنا احتجاج ختم کر کے اپنے فرائض انجام دے ۔