پونچھ//پونچھ یوتھ اینڈ انٹیلیکچول فورم نے اسلامی ٹی وی چینلوں پر پابندی عائد کرنے کے خلاف زور دار الفاظ میں مذمت کی ہے۔ایک پریس کانفرنس کے دوران ایڈووکیٹ لال حسین مشتاق نے کہا کہ ہندوستانی آئین نے سبھی مذاہب کے لوگوں کو برابرکے حقوق دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مسلمانوں کے مذہبی ٹی وی چینلوں پر پابندی عائد کر کے مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ ایڈووکیٹمجید خان نے کہا کہ یہ اقدامات سمجھ سے بالا تر ہیں اور جان بوجھ کر ریاست کے مسلمانوں کو دینی تعلیمات سے دور رکھنے کی سازش ہے۔فورم کے چیئرمین خواجہ اعجاز مدنی نے کہا کہ اگر حکومت کو کشمیریوں کے مسلسل احتجاج پر تشویش ہے تو اُن کو نیشنل میڈیا نیوز چینلوں پر پابندی عائد کرنی چاہیے جو کشمیریوں کے خلاف منفی پرو پگنڈا کرتے ہیںجو کہ یہاں تشدد کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔مدنی نے مزید کہا کہ مذہبی ٹی وی چینلوں پر قدغن لگانے سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اس لئے حکومت ان چینلوں پر لگائی گئی پابندی فوری ہٹائے۔سنی یوتھ ونگ شاخ جموں کے صدر بلال احمد نے کہا کہ انتظامیہ کو قدغن کی وجوہات منظرِ عام پر لانی ہونگی نہیں تو یہ حکومت اور سماج کے مختلف طبقوں میں مزید دوریاں پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔سنی یوتھ ونگ شاخ ڈوڈہ کے صدر ایڈووکیٹ محمد عارف نے کہا کہ یہ چینل صرف مذہبی تعلیمات دیتے ہیں ان چینلوں پر پابندی سے جموں و کشمیر کے عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیںکیوں کہ یہ سراسر آئینِ ہند کی خلاف ورزی ہے۔سنی یوتھ ونگ شاخ رام بن کے صدر انضمام پسوال نے کہا کہ انتظامیہ کو سیاسی مسائل کو مذہبی رنگ نہیں دینا چاہیے،یہ اسلامی چینل محض دینِ اسلام کے پیغامِ امن کو عام کرتے ہیں اس لئے فوری طور ان چینلوں پر لگائی گئی پابندی ہٹائی جانی چاہیے۔سنی یوتھ ونگ شاخ پونچھ کے صدر راشد
اقبال نے کہا کہ حکومت آئے روز مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کر رہی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت ِ وقت مسلمانوں سے وہ حقوق بھی چھین رہی ہے جو اُسے آئینِ ہند نے دئے ہیں ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ مذہبی چینلوں پر قدغن زیادہ دیر برداشت نہیں کیا جائے گا اس لئے حکومت ِ وقت قبل از وقت ان چینلوں پر لگائی گئی پابندی کے حکم نامہ کو منسوخ کرے۔ اس دوران سنی یوتھ ونگ شاخ منڈی کے صدر عبدالغنی پٹھان ،شاخ سرنکوٹ کے صدر شوکت علی شاہین ،شاخ مینڈھر کے صدر وقار علی نے بھی حکومت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا حکومت ِ وقت کو مذہبی چینلوں کے بجائے ملک میں فتنہ و فساد پھیلانے والے چینلوں کو بند کر نے کا مطالبہ کیا۔