چلہ کلاں صاحب
اسلام علیکم
ہم سب خیریت سے نہیں ہیں ۔آپ یقینا اپنے دوبچوںچلہ خورد اورچلہ بچہ کے ساتھ بخیر و عافیت ہوں گے کیونکہ جو دوسروں کو عافیت سے جینے نہیں دیتے ،خود عافیت سے ہی رہتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس وقت آپ بوریا بسترہ باندھ کر کشمیر پہنچنے کی تیاری کررہے ہوں گے ۔ حالانکہ بہت سے دانا و بینا لوگوں کا خیال ہے کہ دوسری بہت ساری آفتوں کی طرح اس بار آپ بھی قبل از وقت ہی نازل ہوچکے ہیں۔اس کا ثبوت جھیل ڈل کی منجمد سطح اور کشمیریوں کے ٹھٹھرتے جسموںکے سوا اور کیا ہوسکتا ہے لیکن عام لوگوں کا عقیدہ ہے کہ آپ نہ وقت سے پہلے آتے اور نہ تاخیر سے اور عقید ے کے آگے کسی بحث کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ویسے بھی کسی بحث کا کبھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔موجودہ دور میں اقوام متحدہ میں بھی کوئی بحث کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتی اس لئے اس بحث کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا اور بہتر یہ ہے کہ میں فضولیات میں الجھے بغیر مقصد کی طرف آئوں ۔
یہ کھلا خط کوئی محبت نامہ نہیں بلکہ اس کے ذریعے میںایک تو آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں جو سالہاسال سے میرے دل اور ذہن کی اُلجھنوں کا باعث بنے ہوئے ہیں اور دوم یہ ایک گزارش ہے جو اس قوم کی طرف سے میں آپ کے گوش گزار کرنے کی جرأت کررہا ہوں ۔ سوال تو میں آخر میں کروں گا پہلے وہ گزارش پیش کروں جو کشمیر میں بسنے والے ہر ایک فرد کے دل کی فریاد ہے ۔ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ آپ اس سرزمین کی محبت میں یہاں ہر سال وقت مقررہ پر تشریف لاتے ہیں یاظلم و ستم کی اپنی فطرت سے مجبو ر ہوکر ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نے تب سے یہاں تشریف لانا شروع کیا جب سے کشمیریوں کی مہمان نوازی کی شہرت آپ تک پہنچی اور آپ برابر تب سے اس مہمان نوازی کا لطف اٹھارہے ہیں ۔آپ لوگوں کو گھروں میں قید ہی نہیں کرتے، ان کے جسم و جان میں تھرتھری پیدا کرتے ہیں ۔ ان کی کھڑکیوں اور دروازوں میں دراڑیں پیدا کرتے ۔ان کے پانی کے نلوں کو جما کر انہیں زندگی کی اس سب سے بڑی ضرورت کے لئے بھی ترسا دیتے ہیں ۔ان کے تلووں میں بھی دراڑیں ڈالدیتے ہیں ۔ کانگڑی کی آگ سے ان کے جسموں کو جلاتے ہیں ۔ انہیں تازہ سبزی کے بجائے ’’ پّچہ ہوگاڑہ ‘‘ ’’ پھری ‘‘ وغیرہ کھانے پر مجبور کرتے ہیں پھر بھی کسی نے آج تک آپ کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا بلکہ آپ کے خلاف بات بھی نہیں کی ۔ہم نے امریکہ کیخلاف ہزاروں احتجاج کئے ۔ اسرائیل کیخلاف بے شمار مظاہرے کئے اور قربانیاں بھی دیں حالانکہ انہوں نے براہ راست ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا ۔آپ سیدھے ہم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیتے ہیں لیکن آپ کیخلاف بات کرنا تو کجا آپ کا نام ہم عزت سے لیتے ہیں کیونکہ آپ ہمارے مہمان ہوتے ہیں ،اس سے بڑا ثبوت ہماری مہمان نوازی کا کیا ہوسکتا ہے ۔ہمارے پتھر باز آپ کا سر پھوڑ سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ پتھر کیا انہوں نے ایک کنکری بھی آپ پر نہیں پھینکی ۔نہ حریت (گ )نے اور نہ ہی حریت (ع ) نے آپ کے خلاف ہڑتال کی کبھی کوئی کال دی ۔اس کا کوئی لحاظ آپ کو کرنا چاہئے تھا لیکن ہماری طرح اپنی خصلت سے آپ بھی مجبور ہیں، اس لئے آپ نہ ایسا کرتے ہیں نہ کریں گے ۔بہر حال اب میں اپنی قوم جسے اقبال نے کشمیری الاصل ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے قوم نجیب ، چرب دست و تر دماغ قرار دیا تھا، کی طرف سے درخواست پیش کرتا ہوں ۔
اے شہنشاہ زمستان ؛ اس بار اگر ہوسکے تو ہم پر جتنا ممکن ہو رحم کیجئے کیونکہ اس بار ہمارے حالات بہت مختلف ہیں ۔اب ہمارے پاس نہ دفعہ 370ہے نہ 35اے ۔ نہ اسمبلی ہے نہ وزیر اعلیٰ ہے اور نہ کوئی وزیر یا نائب وزیرہے۔نہ روزگار ہے ۔ نہ کاروبار ہے اور آپ کو یہ سن کر شاید حیرت ہوگی کہ ہمارے پاس اب ہماری ماں بھی نہیں ۔میں اس کی تھوڑی وضاحت کردوںتاکہ آپ کنفیوژ نہ ہو کیونکہ ہر ظالم کی طرح آپ کا دماغ بھی کمزور ہوگا اور اتنی بڑی بات آسانی سے آپ کے پلے نہیں پڑے گی ۔جس طرح ایک فرد کو جنم دینے والی اس کی ماں کہلاتی ہے،اسی طرح ہر قوم کی زبان اس کی ماں کہلاتی ہے ۔کیونکہ جنم دینے والی ماں اگر جسم کی پرورش کرتی ہے تو زبان ذہن اور روح کی پرورش کرتی ہے ۔ وہ سوچ اور شعور پیدا کرتی ہے۔ ہماری قومی ماں کی عمر اب پانچ ہزار سال ہوچکی تھی ۔ وہ بوڑھی تھی اور ہمیں ترقی کے عروج کے اس دور میں اس بوڑھی کو ماں کہتے ہوئے بہت شرم آتی تھی ،اس لئے ہم نے اسے اپنے گھروں سے نکال کر بے یار و مددگار چھوڑ دیا ۔سنا ہے اب وہ آخری سانسیںگن رہی ہے ۔اس کے ساتھ یہ سلوک کرنا ہماری غلطی ہے یا دانشمندی ،یہ ہمیں معلوم نہیں ،شاید اگلی نسلیں اس پر تحقیق کرکے فیصلہ کرسکیں۔ہماری قومی ماں اگر آج ہمارے پاس ہوتی تو شاید وہ ہماری رہنمائی کرتی ،کچھ نہیں تو دلاسا ہی دیتی ۔ اب ہم اس سے بھی محروم ہیں ۔
اس لئے آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ اس بار آپ ہمارے حال پر رحم کریں ۔ہمارے موسمیاتی ہیرو سونم لوٹس کا کہنا ہے کہ اس بار آپ درجہ حرارت کو 14ڈگری منفی تک لے جارہے ہیں ۔اس طرح آپ کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑدیں گے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ہماری نسل کشی کا ارادہ کرکے آئے ہیں ۔ لیکن آپ بھول رہے ہیں کہ کشمیر کے حالات اس بار آپ کے لئے بھی سازگار نہیں ۔یہاں کووڈ 19کا قہر برپا ہے ۔ آپ بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ معاف کیجئے آپ بھی اب بہت بوڑھے ہوچکے ہیں اور کووڈ 19بوڑھوں کو دیکھتے ہی زمین بوس کردیتا ہے ۔ آپ اپنی نہیں تو اپنے بچوں کی ہی فکر کیجئے ۔ اس سرزمین پر اب دیکھتے ہی دیکھتے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے اور وہ چند سکینڈوں کے اندر موت کی آغوش میں سوجاتے ہیں ۔آپ کے چھوٹے بچے کے ساتھ بھی یہ ہوسکتا ہے ۔اس لئے آپ کے حق میں بہتر یہ ہوگا کہ آپ راستہ بدل دیجئے اور کشمیر کے بجائے کہیں اور چلے جائیں ۔حالانکہ میں جانتا ہوں کہ آپ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ کشمیر ہی ایسی جگہ ہے جہاں کے لوگ آپ کا ہر ظلم برداشت کرسکتے ہیں ۔ آپ جاپان جائیں گے تو وہا ں آپ کی ایک بھی نہیں چلے گی ۔جاپانی جدید ٹیکنالوجی سے آپ کے ہر حربے کو ناکام بناکر آپ کو ذلیل و خوار کریں گے ۔ پھر دنیا میں آپ کا نہ کوئی رعب رہے گا اور نہ عزت رہے گی ۔اب میں ان سوالوں کی طرف آتا ہوں جو میں آپ سے کرنا چاہتا تھا ۔
اے ہمارے بن بلائے مہمان ؛ہماری بہت ساری نسلیں آپ سے واقف ہیں لیکن صرف نام کی حد تک ۔ہمیں آج تک معلوم نہیں کہ آپ اصل میں کون ہیں ۔کہاں سے آتے ہیں اور کیوں آتے ہیں ۔پھر واپس کہاں جاتے ہیں اورکیوں جاتے ہیں ۔آپ جاتے ہوئے سال کے آخر میںہی کیوں آتے ہیں اور آتے ہوئے نئے سال کے پہلے مہینے ہمیں گھروں میں قید کیوں رکھتے ہیں ۔اس طرح ہمارے نئے سال کا آغاز ہی قید میں ہوتا ہے اور اس کے بعد یہی قید ہڑتالوں اور پابندیوں کی صورت میں ہمیں پورے سال جھیلنی پڑتی ہے ۔یہ بھی بڑا سوال ہے کہ آپ کشمیر ہی کیوں آتے ہیں ۔ امریکہ ، برطانیہ ، دوبئی ، فرانس نیپال کیوں نہیں جاتے ۔ہمارے کشمیر ی پنڈت بڑے زیر ک لوگ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ سائبریا سے یہاں آتے ہیں ۔ سائبریا سے آپ جرمنی بھی جاسکتے تھے ۔ کیا آپ اتنے احمق ہیں کہ ایک ہی راستے سے واقف ہیں ۔ایک اور سوال یہ ہے کہ آپ مرکیوں نہیں جاتے ۔یہ فانی دنیا ہے ،یہاں ہر شئے کا اختتام ہوتا ہے ۔ آپ کا اختتام کیوں نہیں ہوتا ۔آپ کا جوان بیٹاہمیشہ کیوں جواں رہتا ہے اور بچہ کیوں ہمیشہ بچہ ہی رہتا ہے۔اگر آپ کے پاس ان سارے سوالوں کا کوئی جواب ہے تو آپ ای میل کرکے مجھے بھیج سکتے ہیں ۔اگر آپ کو یا آپ کے بچوں کو معلوم نہیں کہ ای میل کیا ہوتا ہے تو مہربانی کرکے خواب میں ہی آکر مجھے ان سارے سوالوں کا جواب دیجئے ۔آخر آپ پر ہمارے بھی کچھ احسان ہیں ۔ ہم نے آپ کے اعزاز میں دنیا کی سب سے منفرد چیز ’’ ہریسہ زعفرانی ‘‘ ایجاد کیا ہے ۔ آپ یہاں آنے کی زحمت گوارا نہ کرتے تو شاید ہم یہ چیز ایجاد ہی نہیں کرتے ۔کانگڑی بھی ہم نے آپ ہی کے لئے ایجاد کی ہے ۔ پرانے زمانوں سے آپ کے ظلم و جبر کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم کیا کیا نہیں بناتے تھے ۔ چادریں ، پٹو اور نہ جانے کیا کیا ہم نے ایجاد کیا ۔ مگر پھر آپ کا مقابلہ کرنا آسان نہیں رہا ۔ آپ کے ڈھائے ہوئے قہر کی وجہ سے ہمارے باپ دادا اکثر دسمبر اور جنوری میں ہی انتقال کرتے رہے ۔ یقین نہ آئے تو ملہ کھاہ جاکر دیکھئے ہر کتبے پر لکھا ہوگا …’’ وفات حسرت آیا۔۔۔۔۔ جنوری یا وفا ت حسرت آیات ۔۔۔دسمبر‘‘۔