انسان کا اپنی خصوصیات سے نکلنا اور ایسے ذہنی و نفسیاتی مزاج سے الگ ہونا جس میں کوئی کجی نہ ہو، انسان کی زندگی خراب کردیتا ہے اور اُس کے طرز ِ عمل میں انتشار پیدا کر دیتا ہے،کوا جب ہنس کی چال چلتا ہے تو پھر نہ وہ زمین پر ہی چل پاتا ہے اور نہ ہی آسمان میں اُڑپاتا ہے۔نفسیاتی ماہرین کے مطابق ہم میں سے ہر شخص اُن تنگ حدود میں زندگی گذارتا ہے جو اُس نے اپنے حدود کے اندر بنا رکھی ہیں،وہ مختلف طرز کی بہت ساری صلاحتیں رکھتا ہے لیکن عام طور پر اُن کا احساس نہیں کرتا یا اُن کا بھرپور استعمال نہیں کرتا ۔انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی خامیوں کو تسلیم کرے اور اللہ تعالیٰ نے جو اُس کے لئے مقرر کردیا ہے اُس پر خوش رہے اور یہ جان لے کہ چاول پیدا کرنے والی زمین اگرچہ بھلائیوں سے بھری ہے لیکن بغیر محنت کے انسان کو چاول کا ایک دانہ بھی نہیں دے گی ،اسی طرح اللہ نے اُسے جو صلاحیت دی ہے وہ اپنی نوعیت کی منفرد ہے ،کوئی دوسرا اُس کی حقیقت نہیں جان سکتا ہے۔اور وہ خود بھی اس کی حد نہیں پہچان سکتا ہے۔ہر انسان کی آزادانہ شخصیت ہے اور جب وہ اس آزادی کی حفاظت کرتا ہے ،اس کے اصولوں کو پروان چڑھاتا ہے اور اپنی مخصوص شخصیت کے دائرے میں زندگی گذارتا ہے تو وہ سُنتِ الٰہیہ کے مطابق چلتا ہے اور اگر وہ اپنا حق نہیں پہچانتا اور اپنی خصوصیات کے برخلاف ریاکاری اور ظاہرداری برتتا ہے تو وہ سُنتِ الٰہیہ کی مخالفت کرتا ہے ،اپنی شخصیت کو پامال کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اُس مخلوق کو (جو اُس کی شخصیت کی شکل میں موجود ہے) بدلنے کی کوشش کرتا ہے جو سراسر ایک شیطانی عمل ہے۔اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اس حق کا اثبات فرماتا ہے کہ وہ اپنی اور اپنی قوم کی خدمت کے لئے جو رُخ چاہے اختیار کرے یعنی یہ حق کہ وہ ایک صالح اور ہم آہنگ معاشرے کی حدود میں آزادانہ زندگی گزارے کیونکہ اُس کا رُخ اُس کے ضمیر و جدان کے مطابق ہونا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو فکری تفاوت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ہر ایک کا اپنا خاص زاویہ نظر رکھا ہے ۔فکری آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو کام میں لانے یا نہ لانے میں آزاد ہے،چاہے اپنے ذہن کو کام میں لائے اور چاہے اُسے سونے دے اور اپنے ارد گرد کی ہر چیز سے آنکھیں بند کرلے۔آخر اس انسان کی کیا قدروقیمت رہ جائے گی جو اپنے ذہن کو معطل پڑا رہنے دے،پھر اُس قوم کی کیا وقعت ہوگی جس کے ہزاروں لاکھوں لوگ حق کو پہچاننے اور معاملات کی چھان بین کی کوششوں سے دور دور رہیں۔آزادی رائے کے سلسلے میں فیصلہ کُن بات یہی ہے کہ یہ انسان کا فطری حق ہے لیکن اس حق کے ساتھ لازمی ذمہ داریاں بھی ہیں۔آزادی ٔ رائے ہی قوم میں انصاف کی محافظ ہوتی ہے اور حکمرانوں کو ظلم و استبداد اور جورو ستم سے روکتی ہے ،سرکش و ظالم حکمرانوں کا راج مسخ شدہ ذہنوں اور جامد افکار و خیالات پر ہی ہوسکتا ہے کیونکہ ایسے ہی لوگ معاملات کو ظالم و جابر حکمرانوں کے نقطۂ نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔کسی پیرو کار شخص کے لئے سب سے آسان بات یہی ہے کہ وہ جس کی پیروی کرتا ہے اُس کے سامنے اپنی شخصیت گُم کردے ،ایسے چاپلوس اور ہاں میں ہاں ملانے والے لوگ جب کوئی رائے ظاہر کرتے ہیں یا اُن سے کوئی مشورہ لیا جاتا ہے تو وہ ایسی ہی بات کہنے کی کوشش کرتے ہیں جو مشورہ طلب کرنے والے کی خواہش و پسند سے زیادہ قریب ہو، کہا جاتا ہے کہ روسی لیڈر سٹالن نے ایک بڑے افسر کو اُس کے عہدے سے اس لئے معذول کردیا تھا کہ اس نے جس معاملے میں بھی اُس آفیسر سے مشورہ کیا اُس نے وہی رائے دی جو اُس کے خیال میں سٹالن کی پسند سے زیادہ قریب تھی ،ایسے مزاج کے افسر سے نہ کسی فائدہ کی اُمید کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اُس پر کسی مصلحت کے سلسلے میں انحصار کیا جاسکتا ہے۔روسی لیڈر نے تو افسر سے نجات حاصل کی لیکن وہ افسر اگر ہماری اس بستی میں ہوتا تو مرتے دم تک اُس کی قدر باقی رہتی۔غزوۂ بدر کے قیدیوں کے معاملے میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ طلب کیا تو سب نے اپنے اپنے ذہن و مزاج کے مطابق رائے دی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نرم مزاج تھے ،آپؓ نے معاف کرنے کا مشورہ دیا جبکہ سخت مزاج ہونے کے سبب حضرت عمر ؓ نے سزا دینے کا مشورہ دیا ،ظاہر ہے دونوں نے اپنے آزادانہ ذہن اور مزاج کے مطابق حق تک پہنچنے کی کوشش کی۔
اسلام چاپلوسی اور کسی رَو میں بہہ جانے سے پاک ایک آزادانہ مسلک کا نام ہے ،پاکیزہ خصلتوں اور خوددانہ اور صاف ستھری عادتوں کے ساتھ رسول اللہ ؐ کے ارد گرد لوگ جمع ہوتے تھے،اُن میں سے کوئی بھی اس بات کو ہرگز بُرا نہیں سمجھتا تھا کہ میدان جنگ میں بھی جگہ بدلنے کی درخواست کرے کیونکہ اس کی رائے میں دوسری جگہ زیادہ افضل ہوتی تھی اور اللہ کے رسول ؐ اپنے ساتھیوں سے مشورہ فرماتے تھے اور اُسے ما ن بھی لیتے تھے۔کاش! ہماری اس بستی کے حکمران اور لیڈر بھی اس حقیقت کو جانتے اور مانتے ،اس کے برعکس وہ ایسے لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں جو ناہلی کے باوجود اپنے آپ کو اُن کے سامنے مٹادیںاور آزادانہ ضمیر رکھنے والوں کو پیچھے دھکیل دیتے ہیں چاہے اُن میں کام کرنے کی کتنی ہی صلاحیت ہو اور یہی سب سے بڑی مصیبت ہے۔چاپلوس اور ہاں میں ہاں ملانے والے چمچے اس بستی کے سرکاری و نیم سرکاری محکموں میں برابر موجود ہیں،ایسے افراد خود نکمے اور کام چور ہوکر اور اپنے افسروں کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر نہ صرف اُن افسروں کی بے حساب اور بے لگام نفسیاتی خواہشات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اُن کی بھرپور مدد کرتے ہیں بلکہ اپنا اُلو سیدھا کرنے میں ماہر ہوتے ہیں ،ان لوگوں میں ایسے بھی شاطر دماغ ہوتے ہیں جو اپنے حاکموں اور افسروں کی ناقابلیت اور کاہل تباہی جیسی کمزوریاں بھانپ کر انہیں تگنی کا ناچ نِچواتے ہیں،اپنی رائے پر فریفتہ اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے والے یہ چاپلوس اور چمچے اور اُن کے نفس پرست افسر اور حاکم نہ صرف یہاں کے سرکاری خزانے پر ایک بھاری بوجھ ہیں بلکہ وہ اس بستی کی تعمیر و ترقی کی راہ میں بھی ایک بڑی روکاوٹ ہیں۔سچ تو یہ بھی ہے کہ بے خوفی اور غفلت میں ڈوبے ایسے لوگ یہ بات سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں کہ جب ہر انسان کااپنا خاص رُخ ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ اس رُخ کا متعین مقصد بھی ہو، جو اُسے اپنے راستے پر چلائے اور کوئی بھی انسان اس بات سے اختلاف نہیں کرسکتا کہ جس مقصد کے بغیر انسان کا رُخ صحیح نہیں ہوسکتا وہ بھلائی اور خیر ہے اور پھر ارشادِ باری تعالیٰ بھی ہے کہ خیر ہی کو اپنے ہر رُخ کی منزل بنائو اور جب منزل مقرر ہوجائے گی تو قوم میں اتحاد پیدا ہوگا اور جب بھلائی ہی مقصد ہوگی تو معاشرے میں ضروری ہے کہ سدھار اور بنائو بھی پیدا ہوگا ۔
رابطہ ۔احمد نگر سرینگر
موبائل نمبر۔ 9697334305